آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفقیہ حیدر

ہجر میں جو لی گئی تصویر ہے

فقیہ حیدر کی ایک اردو غزل

ہجر میں جو لی گئی تصویر ہے
یہ ہماری آخری تصویر ہے

موت بھرتی جا رہی ہے اپنے رنگ
زندگی مٹتی ہوئی تصویر ہے

تم جسے کہتے ہو جسموں کی قطار
اصل میں دیوار کی تصویر ہے

یار لوگوں سے گلے ملنا بھی کیا
کوئی پتھر ہے کوئی تصویر ہے

مٹ گئی تصویر پہلے عشق کی
سامنے اب دوسری تصویر ہے

جتنی تصویریں ہیں میرے سامنے
سب سے اچھی آپ کی تصویر ہے

کچھ نہیں بدلا تمہارے بعد بھی
زندگی تصویر تھی تصویر ہے

روح نے رکھا ہوا ہے سب بھرم
ورنہ ہر اک آدمی تصویر ہے

ڈھل گئی ہے پیاس میری نقش میں
یہ جو پانی پر بنی تصویر ہے

ہاتھ میں ٹکڑے خطوں کے ہیں فقیہہ
آنکھ میں جلتی ہوئی تصویر ہے

فقیہ حیدر

post bar salamurdu

فقیہ حیدر

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button