درد سانچے میں جس نے ڈھالا ہے
جس نے ہر اک بلا کو ٹالا ہے
دل سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا
اس نے کیا خوب دل سنبھالا ہے
چین کس طرح مل سکے گا تمہیں
تم نے خود خواہشوں کو پالا ہے
اب میں اس کی ہوں جو نہیں میرا
دل کا ہر فیصلہ نرالا ہے
جو رگ جاں میں کل تلک تھا مکیں
اب ہتھیلی کا میری چھالا ہے
جس کو کہتے ہیں سب عدو میرا
وہ مری آستیں کا پالا ہے
کیسی جمہوریت ہے یہ آخر
دیکھو ہر اک زباں پہ تالا ہے
جو بضد تھے مجھے ہرانے پر
ان کا رسوائیوں سے پالا ہے
سچ تو اب سرنگوں ہوا نقویؔ
جھوٹ کا آج بول بالا ہے
معظمہ نقوی








