- Advertisement -

موت کی کشتی

سعید خان کی اردو نظم

ایسا لگتا ہے کوئی روگ ہے ساحل ساحل
موج در موج کوئی سوگ ہے ساحل ساحل

کوئی ماتم ہے کوئی شور بپا ہے جیسے
اب تو پانی میں اترنا بھی سزا ہے جیسے
غم سسکتی ہوئی لہروں میں نہاں ملتا ہے
یہ سمندر ہے جو اب نوحہ کناں ملتا ہے

موت کی ناؤ میں ساحل سے کہیں دور بہت
یاد آتے ہیں وہ اجڑے ہوئے مجبور بہت
جن میں کمزور بھی کمسن بھی جواں سال بھی تھے
وہ مسافت کے شب و روز سے بے حال بھی تھے
غرق ہوتی ہوئی کشتی نے دہائی دی تھی
ڈوبنے والوں کی آواز سنائی دی تھی

اس جزیرے پہ کئی خوف کے گرداب لئے
وہ جو ایوان میں بیٹھے ہیں سیہ خواب لئے
ان کی فطرت انہیں بیداد پہ اکساتی ہے
بادِ ساحل سے مجھے خون کی بو آتی ہے
آنے والوں کی طرف ہاتھ بڑھا سکتے تھے
ہم کہ ان ڈوبنے والوں کو بچا سکتے تھے
سوچتا ہوں تو خجالت سے پگھل جاتا ہوں
پھر میں ساحل سے کہیں دور نکل جاتا ہوں

ایسا لگتا ہے کوئی روگ ہے ساحل ساحل!
موج در موج کوئی سوگ ہے ساحل ساحل

سعید خان 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
سعید خان کی اردو نظم