اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

کون کہتا ہے منھ کو کھولو تم

میر تقی میر کی ایک غزل

کون کہتا ہے منھ کو کھولو تم
کاشکے پردے ہی میں بولو تم

حکم آب رواں رکھے ہے حسن
بہتے دریا میں ہاتھ دھولو تم

کیا سراہیں ہم اپنی جنس کو لیک
دل عجب ہے متاع جو لو تم

جانا آیا ہے اب جہاں سے ہمیں
تھوڑی تو دور ساتھ ہو لو تم

جب میسر ہو بوسہ اس لب کا
چپکے ہی ہو رہو نہ بولو تم

پنجہ مرجاں کا پھر دھرا ہی رہے
ہاتھ خوں میں مرے ڈبولو تم

دست دے ہے کسے پلک سی میل
دل جہاں پائو اب پرولو تم

آتے ہیں متصل چلے آنسو
آہ کب تک یہ موتی رولو تم

رات گذری ہے سب تڑپتے میر
آنکھ لگ جائے ٹک تو سولو تم

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button