اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے

میر تقی میر کی ایک غزل

پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے
زندگانی حیف ہے مر جایئے

کچھ نہیں تو شعر ہی کی فکر کر
آئے ہیں جو یاں تو کچھ کر جایئے

قصد ہے کعبے کا لیکن سوچ ہے
کیا ہے منھ جو اس کے در پر جایئے

خانماں آباد جو ہے سو خراب
کس کے اٹھ کر شہر میں گھر جایئے

بیم مردن اس قدر یہ کیا ہے میر
عشق کریے اور پھر ڈر جایئے

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button