اردو غزلیاتجوش ملیح آبادیشعر و شاعری

کافر بنوں گا کُفر کا ساماں تو کیجئے

ایک اردو غزل از جوش ملیح آبادی

کافر بنوں گا کُفر کا ساماں تو کیجئے
پہلے گھنیری زُلف پریشاں تو کیجئے

اس نازِ ہوش کو کہ ہے موسیٰ پہ طعنہ زن
اک دن نقاب اُلٹ کے پشیماں تو کیجئے

عُشّاق بندگانِ خُدا ہیں خُدا نہیں
تھوڑا سا نرخِ حُسن کو ارزاں تو کیجئے

قدرت کو خود ہے حُسن کے الفاظ کا لحاظ
ایفا بھی ہو ہی جائے گا پیماں تو کیجئے

تا چند رسمِ جامہ دری کی حکایتیں
تکلیفِ یک تبسُّمِ پنہاں تو کیجئے

یُوں سر نہ ہوگی جوش کبھی عشق کی مہم
دل کو خرد سے دست و گریباں تو کیجئے

جوش ملیح آبادی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button