آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمیثم علی آغا

کتنا چھپا کے رکھے کوئی دکھ پہاڑ سے

میثم علی آغا کی ایک اردو غزل

کتنا چھپا کے رکھے کوئی دکھ پہاڑ سے
آنسو نکل ہی پڑتے ہیں پلکوں کی باڑ سے

بُجھتے ہوئے چراغ نے دیکھا ہے جس طرح
روئے گی عمر بھر ہوا لگ کر کواڑ سے

برسوں کے بعد آیا ہوں آبائی گھر میں آج
یہ کون رونے لگ گیا ہے ہر دراڑ سے

کن وحشتوں میں وقت لے آیا دھکیل کر
لگنے لگے ہیں کیوں سبھی منظر اُجاڑ سے

اتنی جگہ سے ٹوٹی پڑی ہے یہ زندگی
جیسے اٹھا کے لایا ہوں اس کو کباڑ سے

ہم دشت زاد لوگوں کو تحقیر سے نہ دیکھ
دریا کشید کر دیں گے پاؤں کے جھاڑ سے

ڈالی سے پھول ٹوٹ کے پاؤں میں آ گرا
تصویر دکھ سے بھر گئی تھوڑے بگاڑ سے

اک شخص جب سے بچھڑا ہے اندھے ہجوم میں
سچ پوچھو خوف آتا ہے ہر بھیڑ بھاڑ سے

میثم اب اُس کے بعد تو کوئی نہیں مِرا
اب کون پھول پھینکے گا کھڑکی کی آڑ سے

میثم علی آغا

post bar salamurdu

میثم علی آغا

نام : میثم علی آغا - بنیادی طور پر سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق ہے مگر پچھلے دس سال سے اٹلی میں مستقل مقیم ہوں - کتابیں پکھی واس (پنجابی مجموعہ) میں تجھ کو یاد آؤں گا (اردو شعری مجموعہ) ابھی موسم سسکتے ہیں (اردو شعری مجموعہ) ارتجال (اردو شعری مجموعہ) در بدری: پاکستان سے اٹلی تک پیدل سفر کی کہانی (زیرِ طباعت) - اٹالین زبان میں نظموں کا مجموعہ چھپ چکا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button