آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریغنی الرحمٰن انجم
اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے
غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے
بسر کرنے کو کافی زندگی ہے
ہم اس سے دل لگا بیٹھے ہیں لیکن
یہ دنیا اس زمیں پر عارضی ہے
سنی ہر بات کی تحقیق کر لو
حقیقت سےکہاں کتنی جڑی ہے
مجھے اب لوٹ کر جانا پڑے گا
کسی نے پیار سے آواز دی ہے
میں تپتی دھوپ میں تنہا نہیں تھا
میرے ساۓ نے مجھ سے بات کی ہے
تمھارے نام سے بڑھتی ہی جاۓ
عجب اس دل کی یہ افسردگی ہے
ملے گی موت ہم کو طے ہوا ہے
کہ ہم نے زندگی کی بات کی ہے
غنی الر حمٰن انجم








