اردو غزلیاتشعر و شاعریفرزانہ نیناں

بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا
کمرہ ہے میرا آئینہ خانہ بنا ہوا
میں نے تو کوئی بات ،کسی سے نہیں کہی
سوچا ہے جو وہی ہے فسانہ بنا ہوا
ندیا میں کس نے رکھ دیئے جلتے ہوئے چراغ
موسم ہے چشمِ تر کا سہانا بنا ہوا
عورت کا ذہن مرد کی اس کائنات میں
اب تک ہے الجھنوں کا نشانہ بنا ہوا
ممکن ہے مار دے مجھے ، اس کی کوئی خبر
دشمن ہے جس کا ،میرا گھرانہ بنا ہوا
بارش کی آگ ہے مرے اندر لگی ہوئی
بادل ہے آنسوؤں کا بہانہ بنا ہوا
نیناں کئی برس سے ہوا کی ہوں ہم نفس
ہے یہ بدن اُسی کا خزانہ بنا ہوا

فرزانہ نیناں

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button