اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

سوز دل، زخم جگر لے آئے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

سوز دل، زخم جگر لے آئے
حادثے زاد سفر لے آئے

دست گلچیں ہے کہ شاخ گل ہے
جب اٹھے اک گل تر لے آئے

ننگ ہستی ہے سکوت ساحل
کوئی طوفاں کو ادھر لے آئے

اپنی حالت نہیں دیکھی جاتی
ہم کو حالات کدھر لے آئے

تجھ سے مل کر بھی نہ تجھ کو پایا
غم بہ انداز دگر لے آئے

زندگی اس کی ہے جو دنیا کو
زندگی دے کے نظر لے آئے

دامن لالۂ گل سے باقیؔ
مل سکے جتنے شرر لے آئے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button