طلب کے خول سے دل کو نکال کر چپ ہوں
میں خود کو آج بھی مشکل میں ڈال کر چپ ہوں
مجھے ہے علم کہ اک دن کرے گا مجھ کو نڈھال
میں آستین میں اک سانپ پال کر چپ ہوں
مرے شعور نے جب راز چُپ کا کھولا تو
اسی کے رنگ میں پھر خود کو ڈھال کر چپ ہوں
وہ بات بات پہ کہتا ہے بات تو سن لو
مگر میں دل کی ہر اک بات ٹال کر چپ ہوں
تضاد سوچ میں آنے سے مر گئے رشتے
وفا کا بوجھ یوں ہی دل پہ ڈال کر چپ ہوں
ملا نہ مجھ کو تری یاد کا کوئی موتی
میں دل کا نیلا سمندر کھگال کر چپ ہوں
یہ زندگی ہے کھڑی اک ڈھلان پر لیکن
میں اسمِ ذات سے اس کو سنبھال کر چپ ہوں
یقیں ہے شاز کرے گا وہ فیصلہ حق میں
دعا کا سکہ ہوا میں اچھال کر چپ ہوں
شاز ملک








