- Advertisement -

عشق میں وہ مقام آنے لگے

محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل

عشق میں وہ مقام آنے لگے
بات بے بات مسکرانے لگے

جس زمانے میں جی رہا ہوں میں
اس کو آنے میں کچھ زمانے لگے

بے وفاؤں کا ذکر ہونے لگا
کاہے چہرہ ہو تم چھپانے لگے

جھک کے گرنے کی ہے تسلی کی
میں یہ سمجھا مجھے اٹھانے لگے

مر چکی ہے خیال کی چڑیا
آپ بے پر کی ہیں اڑانے لگے

محمد رضا نقشبندی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل