آپ کا سلاماردو غزلیاتجگر مراد آبادیشعر و شاعری

جہلِ خرد نے دن يہ دکھائے

جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل

جہلِ خرد نے دن يہ دکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے

ہائے وہ کيونکر دل بہلائے
غم بھی جس کو راس نہ آئے

ضد پر عشق اگر آ جائے
پانی چھڑکے‘ آگ لگائے

دل پہ کچھ ایسا وقت پڑا ہے
بھاگے لیکن راہ نہ پائے

کیسا مجاز اور کیسی حقیقت؟
اپنے ہی جلوے‘ اپنے ہی سائے

جھوٹی ہے ہر ايک مسرت
روح اگر تسکين نہ پائے

کارِ زمانہ جتنا جتنا
بنتا جائے‘ بگڑتا جائے

ضبط محبت، شرطِ محبت
جی ہے کہ ظالم امڈا آئے

حسن وہی ہے حسن جو ظالم
ہاتھ لگائے ہاتھ نہ آئے

نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو
روح سنے اور روح سنائے

راہِ جنوں آسان ہوئی ہے
زلف و مژہ کے سائے سائے

جگر مراد آبادی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button