- Advertisement -

نسل نو میں عدم برداشت

اویس خالد کا ایک اردو کالم

نسل نو میں عدم برداشت۔۔۔۔پوشیدہ حقائق،ذمہ دار کون؟؟

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہی اٹھنے بیٹھنے،چلنے پھرنے،کھانے پینے ا ور دیگر کئی معاملات زندگی کے قابل ہوتے ہیں لیکن انسان جو اشرف المخلوقات ہے اسے پیدایش کے بعد ایک طویل مدت کے لیے دوسروں پر انحصار کرایا جاتا ہے۔اسے خود سے چلنے پھرنے،اٹھنے بیٹھنے،کھانے پینے اور اپنے قدموں پہ کھڑے ہونے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔یہ قانون قدرت ہے اور حکمت سے بھرا ہوا ایک پیغام ہے کہ انسان کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ اس کی زندگی میں رشتوں اور دوسرے انسانوں کی کتنی ضرورت و اہمیت ہے۔ہم پیدا ہوتے ہی آدمی ہیں کیوں کہ ہم الحمد اللہ آدم ؑ کی نسبت رکھتے ہیں لیکن انسان بننے کے لیے ہمیں خود کو انسانی صفات سے مزین کرنا پڑتا ہے۔اخلاق فاضلہ کی تربیت لینی پڑتی ہے اور یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہمیں کہیں اور جا کر سیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسلام کے زریعے ہمارے پاس مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔ایمان کے بعد انسانیت کے لیے کچھ لوازمات کا ہونا اشد ضروری ہے اس میں سے ایک قوت برداشت ہے۔آج ناصرف نسل نو بلکہ ہمارا پورا معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہو چکا ہے۔اس کا ایک واضح ثبوت تو یہ ہے کہ مذہب کے نام پہ حاصل کیے گئے اس ملک میں ہر عوامی مقام پر یہ لکھ کر لگانا پڑا ہے کہ یہاں مذہبی،سیاسی گفتگو کرنا منع ہے۔اس کی وجہ وہ عدم برداشت کی صورت حال ہے کہ جس نے ہمارے دلوں سے لے کر گھروں تک،اور گھروں سے لے کرملکی سرحدوں تک کے ہمارے سارے امن، چین او رسکون کو داؤ پر لگا دیا ہے۔بقول راقم:
مسائل پر تحمل سے نہ گر یوں گفتگو ہو گی
تماشا لوگ دیکھیں گے،ہزیمت چار سو ہو گی
یہ نوجوان نسل جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس نے تو پیدا ہوتے ہی فرقہ واریت کی آگ دیکھی ہے۔راقم نے کہا تھا کہ
اک دن سب کے ہاتھ جلیں گے
نفرت کی یہ آگ بجھا لو
اس نوجوان نسل نے اپنے بڑوں سے ہی تو سیکھا ہے۔اور بڑوں کے پاس تو پھر ان کے ماضی کے ماحول کا کچھ خوش گوار پیغام بھی تھا لیکن یہ نوجوان نسل تو ان خوب صورت قدروں سے پیدا ہوتے ہی محروم ہے کیوں کہ ہم اپنے ماضی کی عمدہ روایات و اصلاحات کو محفوظ ہی نہ رکھ سکے تو اگلی نسل میں منتقل کیا کرتے۔اوپر سے سونے پر سہاگہ یہ کہ اس نوجوان نسل کو” کمپیٹیشن "کے نام پر صرف اور صرف مقابلہ کرنا اور ہر ممکن طریقے سے دوسروں کو ہراناہی سکھایا گیا۔تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے اور گھر میں ہی مقابلے کی ایسی فضا ہے کہ کزن تو ایک طرف ماں باپ سگی اولاد کو ایک دوسرے کے سامنے مقابلے پر کھڑا کر دیتے ہیں۔بقول راقم:
کیسے کریں امید کہ ہو ان میں دیدہ ور
اس نسل نو کے ہاتھ جب تعلیم ہے غلط
شو مئی قسمت کہ اب ہماری جیت دوسروں کی ہار میں رکھ دی گئی ہے۔ہم اجتماعی زندگی کی بجائے انفرادی زندگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ہم اب تک یہ پڑھتے سنتے آئے ہیں کہ سچ کڑوا ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سچ کہنے کا لہجہ کڑوا ہوتا ہے ورنہ کون سی بات ہے جو دوسروں کو پیار سے سمجھائی نہیں جا سکتی۔ہاں اس میں اپنی بھی انا کی قربانی دینی پڑتی ہے جس سے ہم کتراتے ہیں۔غلط فہمی اصل میں ہے کیا یہی ناں کہ ہم اپنے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات بھی خود ہی تلاش کرلیتے ہیں۔بقول راقم:
پہلے ہی کر چکا تھا اک جھوٹ پر یقیں وہ
ویسے تو میں گیا تھا جو سچ تھا وہ بتانے
اگر مخالف سمت میں سفر کرنے والے دونوں افرادیہ دعوی کرتے ہیں کہ چاند تو ان کے ساتھ چل رہا ہے تو دونوں غلط نہیں کہہ رہے۔بس ایک دوسرے کی جگہ پر ہو کر دیکھنا پڑے گا۔پھر 6 اور9 کے فرق کا جھگڑا ختم ہو جائے گا۔ہماری تربیت میں یہ بات شامل ہونی چاہیے کہ ہم ٹھنڈے مزاج، روشن دماغ اور وسیع النظری سے دوسروں کی بات پہلے سمجھیں پھر اس پر مناسب رد عمل کا اظہار کریں۔ہم کیمیکل نہیں جو فوراً سے پہلے بنا سوچے سمجھے رد عمل دے دیں۔بقول راقم:
ہے سب سے بڑھ کے یہ سبب اختلاف کا
اک دوسرے کی بات کی تفہیم ہے غلط
ہمیں چاہیے کہ ہم بڑے تو دور کی بات ہے اپنے معصوم بچوں کے بھی مسائل کو توجہ سے سن کر حل کریں اور انھیں اہمیت دیں تا کہ بڑے ہو کر ان میں بھی دوسروں کے مسائل کو لے کر ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو جیتنے کے ساتھ ساتھ ہارنا بھی سکھائیں،کیوں کہ ہارنے سے ہی ہمیں برداشت کی تربیت اور طاقت ملے گی۔معاشرہ بڑا پُر امن اور خوش گوار ہو جائے گا جب ہم دوسروں کی خوشیوں پر بھی خوش ہونا سیکھ جائیں گے۔

اویس خالد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل