آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر طارق قمرشعر و شاعری

اس دن شاید ہم نے

ڈاکٹر طارق قمر کی ایک اردو غزل

اس دن شاید ہم نے رستہ بدل لیا تھا
جس دن تم نے اپنا لہجہ بدل لیاتھا

منبر پر بھی درباری ہی بیٹھے ہوئے تھے
کچھ نے شجرہ کچھ نے لبادہ بدل لیاتھا

اس دن بھیڑ عزیزوں کی تھی گھر پر میرے
تنہائی نے اپنا چہرہ بدل لیاتھا

پرسش میں بھی دل آزاری ہی پنہاں تھی
کچھ لوگوں نے صرف طریقہ بدل لیاتھا

اس کی یاد سے باتیں کرتے دیکھ کے مجھ کو
خاموشی نے اپنا کمرہ بدل لیاتھا

دستاروں کے پیچ کھُلے تو ہم نے جانا
کس خوبی سے جہل نے حلیہبدل لیاتھا

میں تو اجالوں کا قیدی تھا لیکن طارق
جانے کس پل شب نے پہرہ بدل لیاتھا

ڈاکٹر طارق قمر

post bar salamurdu

ڈاکٹر طارق قمر

ڈاکٹر طارق قمر سینئر ایسو سی ایٹ ایڈیٹر نیوز 18 اردو لکھنئو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button