آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتسمیر شمس

فراقِ یار میاں ٹھیک ہَو بھی سکتا ہے

سمیر شمس کی اردو غزل

فراقِ یار میاں ٹھیک ہَو بھی سکتا ہے
وصالِ یار کی توثیق ہَو بھی سکتا ہے

میاں خیال کا کَیا ٹھیک ہَو بھی سکتا ہے
کسی کو باعثِ تضحیک ہَو بھی سکتا ہے

زبانِ یار سے نکلے جو طنز کی صورت
وہ جینے کے لیے تحریک ہَو بھی سکتا ہے

ہمارے بیچ کا رشتہ برابری کا نہیں
ابھی یہ جمع سے تفریق ہَو بھی سکتا ہے

ہم اُس کی آنکھ سے نکلے تھے آنسوؤں کے ساتھ
نکلنا مظہرِ تشکیک ہَو بھی سکتا ہے

کسے ہے حوصلۂِ دیدِ مالکِ دُنیا
اگرچہ باعثِ توفیق ہَو بھی سکتا ہے

اگر وہ چاہے تَو ملبوسِ خاک ہَو جائے
خدا کی مرضی ہے تخلیق ہَو بھی سکتا ہے

جہانِ فانی کا حصّہ ہے شمسؔ جانِ سمیرؔ
مری مراد کہ تاریک ہَو بھی سکتا ہے

سمیرؔ شمس

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button