اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

سب سرگذشت سن چکے اب چپکے ہو رہو

میر تقی میر کی ایک غزل

سب سرگذشت سن چکے اب چپکے ہو رہو
آخر ہوئی کہانی مری تم بھی سو رہو

جوش محیط عشق میں کیا جی سے گفتگو
اس گوہر گرامی سے اب ہاتھ دھو رہو

فندق تو ہے پہ یہ بھی تماشے کا رنگ ہے
ٹک انگلیوں کو خون میں میرے ڈبو رہو

اتنا سیاہ خانۂ عاشق سے ننگ کیا
کتنے دنوں میں آئے ہو یاں رات تو رہو

ٹھہرائو تم کو شوخی سے جوں برق ٹک نہیں
ٹھہرے تو ٹھہرے دل بھی مرا نچلے جو رہو

ہم خواب تجھ سے ہوکے رہا جاوے کس طرح
ملتے ہوئے سمجھ کے کہا کر رہو رہو

خطرہ بہت ہے میر رہ صعب عشق میں
ایسا نہ ہو کہیں کہ دل و دیں کو کھو رہو

میر تقی میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button