دو ڈرامے اور ہماری ڈیجیٹل پیڑھی بردار بیبیاں
ایک اردو تحریر از سیمیں کرن
نہیں بھئی ابھی کم از کم ایک صدی اور لگے گی ذہنوں میں تبدیلی آتے آتے جی بالکل یہی سوچا میں نے ان دو ڈراموں پہ آنے والے منفی تبصرے دیکھ دیکھ کر اور دل نے بے ساختہ اعتراف کیا کہ عورت کی سب سے بڑی دشمن اول عورت ہی ہے۔ ایک تو ہمارے لکھاری بچارے مجبور ہیں سنسر کا شکار کہ وہ یہ نہیں لکھ سکتے، وہ نہیں لکھ سکتے ورنہ لکھنے کو تو اس معاشرے میں ان گنت کہانیاں ہیں، کیسے ہمارے ووٹ چوری ہو جاتے ہیں، کیسے ہمارے ذہن رہن رکھ دیے جاتے ہیں، ہمارے ہسپتال، ہمارے سکول، ہمارے جنگل، ہماری دھواں چھوڑتی ملیں، ہمارے سوکھتے دریا مگر شاید یہ سب لکھنے کی اجازت نہیں، یہاں وہی پاپولر مسالہ کہانی درکار ہے۔
ایسے میں کوئی رائٹر جو ذرا روایت سے ہٹ کر تھوڑی سی دلیری دکھائے اور معاشرے کو آئینہ دکھانے اور کسی نئی سوچ اور بدلتے وقت اور زمانے کے ساتھ چلنے کی دعوت دے تو ہوتا یہ ہے کہ جیسے پرانے زمانوں میں ہوتا تھا کہ جو جیسے ہی کسی فیشن ایبل بابو یا مٹیار یا کسی بھی جدت کو دیکھا جاتا تو گلیوں چوپالوں میں پیڑھیوں پہ بیٹھی بڑی بوڑھیاں اپنے ناکوں پہ انگلیاں رکھ لیتیں تھیں۔ اسی طرح اب مختلف خواتین کے گروپس ہیں جن میں شومئی قسمت ہم بھی ایڈ ہیں اور سکرول کرتے یہ تبصرے نظر سے گزرتے ہی رہتے ہیں تو یہ ڈیجیٹل پیڑھی بردار بیبیاں شروع ہو جاتی ہیں ”اوئی اللہ ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا یہ بے حیا۔“ اور پھر وہ فضیحتے لیے جاتے ہیں وہ وہ اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں کردار اور کہانی پہ جن کا نہ کوئی سر ہوتا ہے نہ پیر۔
کردار اور کہانی پہ اتنا بغض نکالنے پہ پہلے تو ڈرامہ رائٹر اور ڈائریکٹر کو مبارکباد دی جانی چاہیے کہ لوگ اتنی دور تک ملوث ہو جاتے ہیں، جذباتی ہونے لگتے ہیں، پرسنل لینے لگتے ہیں تو مبارک ہو آپ کامیاب ہیں، اثر انداز ہونے پہ تالی تو بنتی ہے۔
یہاں ذکر ہے دو ڈراموں ”پامال“ اور ”جمع تقسیم“ کا، ان ڈراموں کے مرکزی خیال کو سمجھے بغیر جس قدر منفی تبصرے ہماری فیس بکی پیڑھیوں سے آئے توبہ ہی بھلی ہے اس پہ مستزاد ان خواتین کو خود پہ لکھاری ہونے کا بھی گمان ہے مگر ایک لکھاری کا تجزیہ کیا اس قدر بودا بھی ہو سکتا ہے اس پہ کف افسوس ہی ملا جا سکتا ہے۔
چلئے پہلے ذکر کرتے ہیں پامال ڈرامے کا۔ ایک ایسی الہڑ شوخ لڑکی، خواب دیکھتی لڑکی، پہاڑوں کی بیٹی۔ ایک کہانی کار جی وہ لڑکی کہانی کار ہے، کہانیاں لکھتی ہے، وہ خود ایک مکمل کہانی ہے، ایک ایسی کہانی جس کی زندگی میں کئی کردار ہیں اور کچھ کردار نہ ہونے سے کچھ کمیاں ہیں جیسے باپ جیسے مرکزی کردار کے نہ ہونے سے زندگی میں آنے والے خوابوں کے شہزادے میں ان دیکھے رنگ سارے باپ جیسے ہیں، اس باپ جیسے جسے اس نے کبھی نہیں دیکھا، خوابوں کا شہزادہ ملتا ہے اور وہ کچھ بھی سوچے بنا ”تیرے سنگ چل دی میں، سوچی اک پل نہ میں“ تو صاحب محبت اسی حماقت کا ہی تو نام ہے یہ کب سوچتی سمجھتی ہے، اور یہی باریک فرق مصنفہ نے دکھایا ہے کہ شادی ایک ادارہ ہے، ایڈجسٹمنٹ مسلسل گھسنے پسنے کا نام خاص طور پہ جب اپ کا جیون ساتھی رضا جیسا نارسسٹ ہو، جس کی ہر چیز میں سے شروع ہو کر میں پہ ختم ہوتی ہے۔ اس ڈرامے میں بڑی مشاقی سے بڑے باریک سوال رکھ دیے گئے ہیں۔ یہ آپ سے زیریں لہروں میں پوچھتا ہے کہ کیا عورت کو لکھاری نہیں ہونا چاہیے ایک مرکز، ایک مرکزی کردار؟ اور اگر ایسا ہو تو کیا اسے صرف ایک کردار ایک مدار تک محدود کر دینا چاہیے؟
جو بودے اعتراضات اس ڈرامے پہ اٹھائے گئے وہ غالباً بہشتی زیور پڑھ کر اٹھائے گئے تھے جہاں معاشرے میں سگھڑ بیبیاں نہ کبھی غلطی کرتی ہیں نہ ان کو کبھی دکھ، رنج ہوتا ہے، نہ وہ ماں سے کوئی بات بانٹتی ہیں، نہ وہ کبھی اکتاتی ہیں، نہ بچوں کے معاملے میں کوئی خطا ہوتی ہے اور نہ زچگی کے دوران انہیں کوئی مسئلہ کوئی ڈپریشن چھوتا ہے۔ وہ بس مہندی کی طرح فوراً پس کر گھل جانے اور رنگ دینے پہ اصرار کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ ان سینز کا مقصد دراصل اصلاح و تعلیم بھی ہوتا ہے ڈرامہ تفریح کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تعلیم و رجحان سازی کا کام بھی کرتا ہے۔ ملکہ جو اپنے تمام تر سلیقے خصائص خصائل کے باوجود بار بار اپنی کچھ غلطیوں پہ معتوب ٹھہرائی جاتی ہے تو بہت بڑی وجہ معاشرتی تفاوت ہے جو زیریں لہر کا ایک اہم سبق ہے۔ محبت تو دونوں نے کی محبوب کے رنگ میں رنگ جانے کی آرزو پھر دونوں طرف ہونی چاہیے مگر ایک شخص ہر معصوم آرزو کو پامال کرتا چلا جائے بچوں کے ناموں سے لے کر ان کے لباس تک بچے کی ماں کو رد کردے، اس کی غلطی پہ اس کو گھر سے نکال دے مگر جب خود وہ ناکردہ جرم کی سزا بھگتے تو وہی بیوی جانثاری کی ہر ادا نبھا دے، یہ فرق عورت اور مرد کے بیچ کس عمدگی سے دکھایا گیا ہے۔
آخر جب وہ مروجہ پیمانوں پہ خود کو پامال کر ہی لیتی ہے اور رضا کے پیمانے میں ڈھل جاتی ہے کہ محبت کا تقاضا ہے تو قدرت کو اب اک امتحان اور مقصود ہے رضا کو آخری سٹیج کا کینسر ہے اور موت کے منہ میں جاتے محبوب کا تقاضا ہے کہ وہ پہلے جیسی با اعتماد ملکہ بن جائے، گویا ایک بار پھر خود کو گرا کر تعمیر کرنا ہے، وہ تقاضا کرتا ہے ”یتیم بچیاں بہت حساس ہوتی ہیں۔“ آہ ملکہ کے چہرے کے تاثرات نم آنکھیں بھیگی مسکراہٹ، اس میں ساری کہانی پوشیدہ تھی۔ اب جو محبت میں فنا عورت اپنے محبوب کی آرزو میں پھر پامال ہو رہی ہے، اپنے ملبے سے ققنس کی طرح پھر ایک نیا جنم لے رہی ہے اس زخمی دل و جگر کے ساتھ جہاں ہر لمحہ جدائی ابدی گیت سناتی ہے اور پیام دیتی ہے اگلا سفر کتنا کٹھن ہے کیا یہ کسی کو نہیں نظر آیا؟ کیا اک دوسرے کی محبت میں گم ابدی ہجر کے گیت سے کیسے پامال ہو رہے ہیں، کسی کو یہ نظر آیا؟ کیا کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ اگر ہم سب کو اپنی موت کا معین وقت معلوم ہو جائے تو پھر ہم اپنی عورت کو پامال کرنے کی بجائے اسے مضبوط کرنے کی ضرورت جانیں گے؟ ہماری پیڑھی پہ بیٹھی منہ بسورتی تبصرے کرتی بیبیاں اب کہاں ہیں۔ اور وہ شاید یہ سب لکھنے سے ریٹنگ کیسے آئے گی کمنٹ کیسے ملیں گے، کمنٹ تو پوسٹ پہ ساری منفیت انڈیلنے سے ہی آیا کرتے ہیں۔
چلئے اب دوسرے ڈرامے کی جانب آتے ہیں دوسرا ڈرامہ ”جمع تقسیم“ ہے جس میں ڈرامے کی مصنفہ نے بڑی ہی عمدگی سے ہمارے سسٹم میں موجود مشترکہ خاندانی نظام کی خامیوں اور خوبیوں کی منظر کشی کی ہے مگر یہاں بھی ڈرامے کی ساری نفرت سارے منفی تبصروں کا بار لیلیٰ اور قیس اٹھاتے ہیں، جی لیلیٰ اور قیس۔ ناموں پہ غور کیا؟ جی دور حاضر کے لیلیٰ مجنوں، محبت کے سفیر، ساری روایتوں کو توڑ، رکاوٹوں کو عبور کر کے دو مختلف گھروں کے پس منظر کے لوگ ایک ہو گئے کیونکہ دو دل محبت سے سرشار ہیں، اب آگے امتحان ہی امتحان ہیں کہ ہمارے ہاں نفرت تو گوارا ہے، محبت جرم ہے آج بھی، بوڑھے والدین محبت میں نہیں عدم تحفظ کے جبر کے تحت غیر فطری انداز میں بچوں کو جن کے اپنے بچے جوان ہو رہے ہیں ساتھ رکھنے پہ مجبور کیے ہوئے ہیں۔ پرانی دقیانوسی سوچ ہے جہاں بہو سے نہ کوئی غلطی گوارا ہے نہ بیٹے کی محبوب بیوی ہونے پہ۔ نئے جوڑے کو ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہونے پہ برداشت کیا جاتا ہے۔ ساس بجائے خود بہو کو اپنی نگرانی میں لینے کے بڑی بہوؤں کا چارہ بنا دیتی ہیں۔
بیاہی بیٹی جو خود سسرال سے علیحدہ ہو چکی ہے گھر کے ہر معاملے میں بری طرح دخل انداز ہیں وہ بہوئیں جن میں سے ایک کمزور گھر سے تعلق رکھنے کے باعث اپنا اعتماد اور شخصیت کھو چکی ہے اور اسے اپنی بچیوں تک کا ہوش نہیں ہے جبکہ بڑی بہو امیر گھر سے ہونے کے باوجود ہر استحصالی حربہ آزماتی ہیں اور انہی کا بیٹا اپنی کزن کو جنسی طور پہ ہراساں کرتا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جب گھرانا بکھرتا ہے کہانی کے اگلے حصے میں مصنفہ نے بڑی مہارت و مشاقی سے معاشرے کے عام رسم و رواج کہ بیٹے کا گھر اور بیٹی کا گھر اور والدین کے حقوق اور مثالی صورتحال کے مناظر کو عکس بند کیا ہے۔ معاشرے کی غلط رسوم پہ کاری ضرب لگائی ہے۔ لیلیٰ کی تعلیم یافتہ ماں کی خامیاں بھی بڑے سبھاؤ سے دکھائی گئی ہیں۔ دونوں سمدھنوں کی نوک جھونک، کرداروں کی چھوٹی موٹی غلطیاں، ناراضی، خفگی کشمکش اتار چڑھاؤ۔ کیا یہ سب ہی ڈرامہ یا پھر زندگی کا حسن نہیں ہوا کرتا؟ مگر یہ کیا کہ اپ اپنی زندگی کے گزشتہ تجربوں کی آگ اور نفرت انڈیلنے کو کسی ڈرامے کے کردار کو ذریعہ بنا لیں کہ لوگ سوچنے پہ مجبور ہو جائیں کہ خدانخواستہ اگر اپ ساس کے منصب پہ فائز ہوئیں تو یقیناً کوئی ”لیلیٰ“ شہادت کے منصب پہ پہنچے گی۔
کیا آپ یہ بھی نہیں سمجھ سکتیں کہ آج کے بچے اور بچیوں سے ہم آج سے بیس پچیس تیس برس والی توقعات نہیں رکھ سکتے؟ اور اگر ہم انہیں کچھ سکھانا چاہتے ہیں تو نفرت انڈیل کر تو ہرگز ممکن نہیں، زمانہ قیامت کی چال چل گیا، آج کی تو پندرہ سال کی بچی بہت اعتماد سے بائیک چلا رہی ہے۔ آپ اسے دوبارہ پنجروں میں قید کرنے کی کوشش مت کریں۔ یہ آزادی عورت نے بڑی قربانی سے حاصل کی ہے۔ اپنی سوچ کو زمانے کے حساب سے اپ ڈیٹ کیجیے اور نئی نسل کی تربیت میں ضروری ہنر مندی اور دور جدید کے لوازم دونوں کا خیال رکھیے۔ لیلیٰ کو ایک ایسا ہی مثبت کردار پایا جو سیکھنے، اپنانے، قربانی دینے کے لیے تیار ہے، شوہر کے والدین سے اپنا آپ منوا لیتی ہے۔ کہیں کچھ غلطیاں کرتی ہے اور کچھ کمیاں خامیاں، شک، حسد مگر کیا انسانی کردار میں یہ سب نہیں ہوں گی؟ کیا باقی تمام کردار بھی ایسے ہی نہیں ہیں ؛ غلطیوں، کوتاہیوں، کمیوں، خوبیوں سے بھرے۔ سب کو بھلا دیا معاف کر دیا مگر نہیں معاف کیا تو لیلیٰ اور قیس کو ہماری فیس بکی پیڑھی بردار بیبیوں نے۔
اب بندی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اصل جھگڑا اپنے کسی پرانے انتقام اور احساس کمتری کا ہے یا پھر پوسٹ پہ کمنٹ کی دوڑ کا۔
اچھا ایک اور آپشن بھی تو ہوتا ہے، اتنا ہی ناپسند ہے ڈرامہ یا کوئی کردار تو چینل بدل کر کچھ اور دیکھ لیجیے، مجھے اپنے پسندیدہ اداکار عمران اشرف کا معصوم کردار قطعی پسند نہیں آیا، بودا سکرپٹ، ڈائریکشن اور عمران اشرف بھولے کے کردار سے نکل ہی نہیں پایا۔ میں نے سوئچ اف کر دیا مگر یہ نفرت اور بیزاری یا غصے کے ساتھ جڑت یہ پریم کہانی گجب کی ہے قسم سے۔
سیمیں کرن








