سلام بر مصرعہِ طرح۔۔۔۔(حملہ نبی کے دیں پہ ہو اور کربلا نہ ہو) بریلی خانقاہ نیازیہ
باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو
عین و الف کے بیچ جو سجدہ رکھا نہ ہو
تسلیم کیجئے جو ابھی تک کیا نہ ہو
کیا دین میں بچے گا اگر کربلا نہ ہو
لگتا یہ ہے اگر یہ غمِ کربلا نہ ہو
دنیا میں غم ہی غم ہوں غموں کی دوا نہ ہو
دریا کا ٹیڑھا میڑھا سفر بے سبب نہیں
صحرا میں تشنگی کو کہیں ڈھونڈتا نہ ہو
پھر بعد میں کہیں نظر آئی نہ ذولفقار
کیا معجزہ دکھائے جو دستِ خدا نہ ہو
لے آئے بندگی کو یہ کس موڑ پر حسین
خنجر رگِ گلو پہ ہو لب پر گلہ نہ ہو
آخر یہ ہو ، میں کوئے نجف میں پڑا ملوں
اس کے علاہ دوسرا کوئی پتہ نہ ہو
اس سمت جل رہاہے چراغِ غمِ حسین
کہہ دو ہوا سے رخ بھی اِدھر کا ذرا نہ ہو
ہم کو تو ذی شعور نہ آیا کوئی نظر
جس نے حسین تیرا قصیدہ پڑھا نہ ہو
معنی پہ غور سورہءِ کوثر کے کیجئے
مقصود اور کیا ہے اگر فاطمہ نہ ہو
طارق علی سا کون ملے گا بقولِ میر
بندہ خدا نہ ہو پہ خدا سے جدا نہ ہو
ڈاکٹر طارق قمر








