ڈھونڈنے نت نئے نگر مجھ میں
شعر کرتے رہے سفر مجھ میں
اک دھواں سا دکھائی دیتا ہے
کون جلتا ہے رات بھر مجھ میں
تو نے آ کر بچا لیا۔۔۔۔۔ورنہ
وحشتیں کر گئی تھیں گھر مجھ میں
دل میں ڈیرہ جمائے بیٹھا ہے
تجھ کو کھونے کا ایک ڈر مجھ میں
ایک امید جاگ جاتی ہے
روز کھلتا ہے ایک در مجھ میں
تجھ کو پانے کی خواہشیں ہر پل
پھر اٹھانے لگی ہیں سر مجھ میں
ان ہواؤں نے لاکھ کوشش کی
جلتی رہتی ہے لو مگر مجھ میں
میرے رب کی عطا ہے خاص عنبر
شاعری کا ہے جو ہنر مجھ میں
فرحانہ عنبر








