آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرحانہ عنبر

ڈھونڈنے نت نئے نگر مجھ میں

فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل

ڈھونڈنے نت نئے نگر مجھ میں
شعر کرتے رہے سفر مجھ میں

اک دھواں سا دکھائی دیتا ہے
کون جلتا ہے رات بھر مجھ میں

تو نے آ کر بچا لیا۔۔۔۔۔ورنہ
وحشتیں کر گئی تھیں گھر مجھ میں

دل میں ڈیرہ جمائے بیٹھا ہے
تجھ کو کھونے کا ایک ڈر مجھ میں

ایک امید جاگ جاتی ہے
روز کھلتا ہے ایک در مجھ میں

تجھ کو پانے کی خواہشیں ہر پل
پھر اٹھانے لگی ہیں سر مجھ میں

ان ہواؤں نے لاکھ کوشش کی
جلتی رہتی ہے لو مگر مجھ میں

میرے رب کی عطا ہے خاص عنبر
شاعری کا ہے جو ہنر مجھ میں

فرحانہ عنبر

post bar salamurdu

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button