اردو غزلیاتشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

بابل رے توری بنتی کروں ہوں

شہزاد نیّرؔ کی ایک خوبصورت غزل

بابل رے توری بنتی کروں ہوں، کان لگا کر سُن
دل کی بات بہت مدّھم ہے، دھیان لگا کر سُن

آنکھیں جس کی چاہ کریں بس وہ مجھے چُھونے پائے
میں جس ھاتھ کو جانوں ناھیں کبھی نہ مجھ تک آئے

موہ پریت کا بھوجن مورا اور کوئی نہ کھائے
تھالی اُس کے آگے رکھوں جو مورے من بھائے

بابل تجھ سے پھول نہ مانگوں پھول کی باس اُڑ جائے
پیارے پی کا پیار دلا دے کبھی نہ جو کملائے

بابل تجھ سے دھیج نہ مانگوں، مانگوں ایک نیائے
من بھاون مورا گھونگھٹ کھولے، من بھاون لے جائے

شہزاد نیّرؔ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button