آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

دل لگی یاد آئے گی

ایک اردو غزل از رشید حسرت

دل لگی یاد آئے گی دل کی لگی یاد آئے گی
جو بچھڑنے کا بنی باعث کمی یاد آئے گی

ہر کوئی پھر اپنی دنیا میں مگن ہو جائے گا
چھوڑ جاؤ گے تو کچھ دن آپ کی یاد آئے گی

ایک تھا کوئے محبت من نگر کے بیچ میں
یاد آیا دل تو دل کی بے بسی یاد آئے گی

گر کوئی دن پیچھے جا کر دل ٹٹولو گے تو پھر
ہے یقیں مجھ کو عقیدت آپ ہی یاد آئے گی

تم ابھی مستی میں کھوئے ہو، مگر اک موڑ پر
یاد رکھنا میری یہ بے چارگی یاد آئے گی

اب کہیں جا کر جھکا ہے سر کسی مغرور کا
میں نہ کہتا تھا کبھی یہ عاجزی یاد آئے گی

شکر ہے اللہ کا حسرتؔ کہ ہم خوش حال ہیں
غم کی یلغاروں میں ہونٹوں کی ہنسی یاد آئے گی

رشید حسرتؔ
۰۲ اگست، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button