میں جو کم گو، شرمیلا، جھجکنے والا ہوں
تم سامنے آؤ تو لفظوں کا دریا بہہ جاتا ہے۔
پتا نہیں اتنی باتیں کہاں سے لاتا ہوں
ورنہ لفظوں کا یہ ذخیرہ تو خالی رہتا ہے۔
تمہیں آتی ہے خطاطی، یہ میں نے دیکھا ہے
تمہارے ہاتھ سے لکھا میرا نام اچھا لگتا ہے۔
تم ہو خوب، اور خوب صورت سے بھی بڑھ کر ہو
تمہارے گال کا تل مجھے ستارہ لگتا ہے۔
نہ پہنچ پاتی ہو فریج کے اُوپری خانے تک
مگر نخرہ تمہارا ساتویں آسماں پہ رہتا ہے۔
معذرت کرنے کو میں خود ہی کافی ہوں
تمہارا حکم چلانا، دھونس جمانا اچھا لگتا ہے۔
میں نے کہا، تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں
وہ ہنس کے بولی، تمہارا دماغ خراب لگتا ہے۔
میں اُس کی ہر ادا پہ بے اختیار مسکرا دیتا ہوں
وہ لاکھ ستائے، پھر بھی دل کو اچھا لگتا ہے۔
حسنؔ! اُس کی شرارتوں کا بھلا کیا گلہ کرنا
وہ روٹھ جائے تو منانا بھی اچھا لگتا ہے
میر حسن







