آشفتہ چنگیزیاردو غزلیاتشعر و شاعری

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں
کوچ کر جائیں کب کچھ بھروسا نہیں

ہیں فصیلوں سے الجھے ہوئے سرپھرے
دور تک کوئی شہر تمنا نہیں

شام سے ہی گھروں میں پڑیں کنڈیاں
چاند اس شہر میں کیوں نکلتا نہیں

آگ لگنے کی خبریں تو پہنچیں مگر
کوئی حیرت نہیں کوئی چونکا نہیں

چھین کر مجھ سے لے جائے میرا بدن
معتبر اتنا کوئی اندھیرا نہیں

کیا یہی ملتے رہنے کا انعام ہے
ایک کھڑکی نہیں اک جھروکا نہیں

ایک منظر میں لپٹے بدن کے سوا
سرد راتوں میں کچھ اور دکھتا نہیں

تیز ہو جائیں اس کا تو امکان ہے
آندھیاں اب رکیں ایسا لگتا نہیں

آشفتہ چنگیزی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button