سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں
ایک وقت تھا کہ بات کرنے سے پہلے لوگ سوچتے تھے، بولنے سے پہلے توقف کرتے تھے اور لکھنے سے پہلے کئی بار لفظوں کا وزن تولتے تھے۔ مگر آج کی دنیا میں بولنا آسان ہو گیا ہے اور سمجھنا مشکل۔ ایک زمانے میں شور صرف بازاروں اور میلوں میں ہوتا تھا، لیکن آج یہ شور ہمارے ہاتھوں میں موجود موبائل کی اسکرین تک آ پہنچا ہے۔ اب ہر شخص بول رہا ہے مگر کم لوگ سمجھ رہے ہیں۔ ہر شخص اپنے آپ کو نمایاں کر رہا ہے مگر کم لوگ اپنے اندر جھانک رہے ہیں۔
سوشل میڈیا نے بظاہر دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے مگر ذہنوں کے فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ پہلے علم گفتگو سے پہچانا جاتا تھا، اب انداز گفتگو سے پہچانا جاتا ہے۔ پہلے بات کو اس کے مضمون کے ذریعے پرکھا جاتا تھا، اب پیش کرنے والے کے چہرے کے تاثرات معیار بن چکے ہیں۔ یہ تبدیلی خاموش نہیں آئی بلکہ قدم بہ قدم ہمارے معاشرتی رویوں کا حصہ بنتی گئی۔
وِلاگرز کی ایک نئی دنیا کھل چکی ہے جہاں کیمرہ ہی معیار سمجھا جاتا ہے۔ جو کل تک ایک سطری رائے دینے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا آج وہ قوم کی فکری سمت کا فیصلہ کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ تحقیق، مطالعہ اور مشاہدہ پیچھے رہ گئے ہیں اور لمحاتی تاثر نے دانشور کی جگہ سنبھال لی ہے۔ دکھ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس شور میں وہ آوازیں دب جاتی ہیں جو اصل میں رہنمائی کا حق رکھتی ہیں۔ وہ آوازیں جن میں تحقیق کی خوشبو، علم کی سنجیدگی اور معاشرتی بصیرت ہوتی ہے وہ چیختے ہوئے نعروں کے سامنے بے آواز ہو جاتی ہیں۔
آج سوشل میڈیا پر حقیقت اور رائے کے درمیان فرق دھندلا گیا ہے۔ ایک عام خبر بھی جذباتی انداز میں پیش کی جائے تو سنجیدہ حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں کبھی جھوٹ سچ کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے اور کبھی سچ بھی اتنا کمزور دکھائی دیتا ہے کہ لوگ اسے قبول کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ سطحیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نوجوان ذہن معلومات تو حاصل کر لیتے ہیں مگر سمجھ تک نہیں پہنچ پاتے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو نے چند صفحات کی کتاب پر سبقت حاصل کر لی ہے۔ لمحاتی تجزیہ گہرے تجزیے کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔
ایک دور تھا جب استاد، محقق اور ادیب معاشرے کی فکری سمت طے کرتے تھے۔ گفتگو کتابوں سے نکلتی تھی اور کتابوں میں ہی مکمل ہوتی تھی۔ مگر اب سوال بھی ویڈیو میں ہے اور جواب بھی ویڈیو میں۔ ایک متاثر کن آواز، ایک خوبصورت اسٹوڈیو یا ایک تیز جملہ کسی کو عقل مند ثابت کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ سوچ کی دنیا کو کمزور کر رہا ہے۔ علم کا سفر برداشت مانگتا ہے مگر آج کے صارف کے پاس چند منٹ بھی نہیں۔
اس کے باوجود امید زندہ ہے اور شاید ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اس ہجوم میں کچھ لوگ ایسے بھی موجود ہیں جو اپنے لفظوں کو امانت سمجھتے ہیں۔ جو اپنی تحریر کو ذمہ داری سمجھ کر لکھتے ہیں۔ جو تحقیق کے بغیر کسی بات کو آگے نہیں بڑھاتے۔ یہ لوگ کم ضرور ہیں مگر ان کی موجودگی ہی معاشرے کا اصل سرمایہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم شور کے بیچ سے انہی آوازوں کو پہچانیں۔ ہم فرق سمجھ سکیں کہ کون صرف بول رہا ہے اور کون بات بھی کر رہا ہے۔
قارئین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر معاشرہ اعلیٰ معیار کو قبول کرے، اگر وہ تحقیق اور سنجیدگی کو اہمیت دے تو سطحی مواد خود ہی اپنی جگہ کھو دیتا ہے۔ اگر ہم گہرائی کو قدر بنائیں تو تحریر اور تقریر میں گہرائی دوبارہ پیدا ہونے لگے گی۔ اگر ہم تحقیق کی روشنی کو ترجیح دیں تو آنے والی نسلیں شور میں نہیں بلکہ علم کے چراغ کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔
سوشل میڈیا ایک طاقت ہے اور طاقت کبھی اچھی یا بری نہیں ہوتی۔ اس کا استعمال اچھا یا برا ہوتا ہے۔ یہی پلیٹ فارم فکری بلندی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اگر ہم چاہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن کو شور کا اسیر نہ بنائیں۔ ہم اپنی آنکھ کو دھوکے سے بچائیں اور اپنے ذہن کو سطحیت کا قیدی نہ بننے دیں۔
وہ قومیں جو اپنی سنجیدہ آوازیں کھو دیتی ہیں وہ راستے بھی کھو دیتی ہیں۔ اور وہ قومیں جو اپنے اہل فکر کو پہچان لیتی ہیں وہ تاریخ میں اپنا راستہ خود بناتی ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس راستے کے مسافر ہیں۔ شور والے راستے کے یا شعور والے راستے کے۔
یوسف صدیقی








