- Advertisement -

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

اکبر الہ آبادی کی ایک اردو رباعی

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

بنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک

حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہی

تو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک

میاں سے بی بی ہیں پردہ ہے ان کو فرض مگر

میاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک

طبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میں

یہ غیرتیں یہ حرارت یہ گرمیاں کب تک

عوام باندھ لیں دوہر تو تھرڈ وانٹر میں

سکنڈ‌ و فرسٹ کی ہوں بند کھڑکیاں کب تک

جو منہ دکھائی کی رسموں پہ ہے مصر ابلیس

چھپیں گی حضرت حوا کی بیٹیاں کب تک

جناب حضرت اکبرؔ ہیں حامئ پردہ

مگر وہ کب تک اور ان کی رباعیاں کب تک

اکبر الہ آبادی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک غزل از شہزاد نیّرؔ