آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزانور علیصحت کے کالم

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

ایک اردو تحریر از انور علی

میرے خاندان میں شوگر کی بیماری موجود رہی ہے۔ سب سے پہلے میرے والد صاحب، پھر والدہ اور اس کے بعد میری بڑی بہن کو شوگر کی تشخیص ہوئی۔ میں نے سنا تھا کہ شوگر موروثی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے میں نے دل میں عزم کر لیا کہ اپنی طرزِ زندگی ایسی رکھوں گا کہ خود کو حتی الامکان اس بیماری سے محفوظ رکھ سکوں۔

اسی سوچ کے تحت میں باقاعدگی سے واک کرتا رہا۔ سانگھڑ میں ہو یا ملازمت کے سلسلے میں جامشورو پاور پلانٹ پر، واک میری روزمرہ زندگی کا حصہ رہی۔ ہر چھ ماہ یا سال بعد شوگر کے ٹیسٹ بھی کرواتا تھا اور رپورٹس بالکل نارمل آتی تھیں۔

لیکن سکھر بیراج پر ملازمت کے دوران آہستہ آہستہ کچھ بے احتیاطیاں شروع ہو گئیں۔ خوراک میں لاپرواہی ہوئی، واک کم ہوگئی اور جسمانی سرگرمی بھی پہلے جیسی نہ رہی۔ نتیجتاً وزن بڑھتا گیا اور ایک وقت پر میرا وزن 85 کلو تک پہنچ گیا۔

اگست 2024ء میں ایک مرتبہ خیرپور جانا ہوا۔ ایک دوست کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تو میں نے بھی سوچا کہ اپنا HbA1c ٹیسٹ کروا لیتا ہوں۔ اگلے دن میں اپنے گاؤں چلا گیا۔ شام کو دوست نے میری رپورٹ بھیجی۔ رپورٹ دیکھی تو HbA1c 10.71 تھا۔

وہ نمبر دیکھ کر ایسا لگا جیسے میرے اوپر بم گر گیا ہو۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ جس چیز سے خود کو ساری زندگی بچانے کا سوچا تھا، وہ میری زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔

میں فوراً اپنے گاؤں کے ڈاکٹر سائیں محمد شیخ کے پاس گیا۔anwar ali رینڈم شوگر چیک کروائی تو 492 تھی۔ یہ دیکھ کر پریشانی اور بڑھ گئی۔ ذہن میں عجیب عجیب خیالات آنے لگے اور میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے زندگی ختم سی ہوگئی ہو۔

وقت گزرتا گیا۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کرتا رہا، شام کو گلوب چوک پارک میں واک بھی شروع کردی اور آہستہ آہستہ شوگر کافی حد تک کنٹرول میں آنے لگی۔

لیکن اسی دوران کمر اور ریڑھ کی ہڈی میں شدید درد شروع ہوگیا۔ بہت علاج کروایا مگر درد ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ سکھر کے ایک فزیشن کو دکھایا تو انہوں نے کہا کہ آپ کے مسلز بہت کمزور ہوگئے ہیں، حتیٰ کہ نماز بھی کچھ عرصہ کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے کا مشورہ دیا۔

یہ بات سن کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ اس شام نماز کے دوران میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ میں نے اللہ پاک کے حضور دعا کی۔

اگلی صبح میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے اپنے جسم کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔

میں صبح تیار ہو کر پارک پہنچا۔ وہاں کچھ لوگ میٹ بچھا کر ورزش اور یوگا کر رہے تھے۔ ایک دو دن تک انہیں دیکھتا رہا۔ تیسرے دن ہمت کرکے ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ اگر میں یوگا ٹیم میں شامل ہونا چاہوں تو طریقہ کیا ہے اور فیس کتنی ہے۔

وہاں میری ملاقات یوگا ٹیچر سائیں سلیم شاہ صاحب سے ہوئی۔ انہوں نے میری رہنمائی بھی کی اور بہت حوصلہ بھی دیا۔ یوں 18 اگست 2025ء کو میرے یوگا اور باقاعدہ ورزش کے سفر کا آغاز ہوا۔

میری ایک عادت شروع سے رہی ہے کہ میں جو بھی کام کرتا ہوں، دل سے کرتا ہوں۔ اس لیے اس سفر میں بھی میں نے پوری محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ وقت دینا شروع کیا۔

صبح تقریباً 50 منٹ واک، 5 سے 6 کلومیٹر پیدل چلنا، پھر 45 منٹ یوگا اور ورزش، اس کے ساتھ کچھ انفرادی ورزشیں بھی جاری رکھیں۔

آہستہ آہستہ میرے جسم میں نمایاں تبدیلی آنے لگی۔ تقریباً چار ماہ میں میرا وزن 85 کلو سے کم ہو کر 75 کلو تک آگیا۔

اور سب سے بڑی خوشی یہ تھی کہ فروری 2026ء میں میرا HbA1c 5.00 تک آ گیا۔

میں رِور سٹی ہسپتال میں ڈاکٹر فرحان بلوچ سے علاج لے رہا تھا۔ انہوں نے میری رپورٹس اور میری بدلتی ہوئی طرزِ زندگی کو دیکھتے ہوئے دوا کم کی۔ مئی 2026ء میں HbA1c 5.5 آیا، جس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مجھے طبی نگرانی میں دوا کے بغیر اپنی ورزش اور بہتر غذا جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔

تین ماہ بعد دوبارہ ٹیسٹ کروایا تو HbA1c 5.6 آیا، جو نارمل رینج میں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے مبارکباد دی اور بتایا کہ ایسی صورتحال کو عام طور پر Diabetes Remission کہا جاتا ہے، یعنی طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیوں کے نتیجے میں شوگر کے نمبرز کا نارمل حد میں برقرار رہنا۔

اس دن مجھے محسوس ہوا کہ اصل کامیابی صرف ایک رپورٹ کے نارمل آنے کی نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے انداز کو بدلنے کی ہے۔

آج جب میں اپنے ماضی کو دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ جب انسان آرام پسند زندگی کا عادی ہوجاتا ہے، سارا دن ایک جگہ بیٹھا رہتا ہے، جسمانی سرگرمی کم ہوجاتی ہے اور خوراک میں مٹھائیاں، بیکری کی اشیاء اور غیرمتوازن غذا شامل ہوجاتی ہے تو صحت متاثر ہوسکتی ہے۔

میرا یہ تجربہ کسی کے لیے طبی نسخہ نہیں بلکہ میری اپنی زندگی کا تجربہ ہے۔ ہر انسان کی جسمانی حالت مختلف ہوتی ہے، اس لیے شوگر کے مریضوں کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت اور باقاعدہ ٹیسٹ ضروری ہیں۔

لیکن اپنی زندگی کے تجربے سے ایک بات ضرور کہہ سکتا ہوں:

صحت کو قسمت کے حوالے کرکے بیٹھنے کے بجائے اپنی زندگی کے انداز کو بدلنے کے لیے آج ہی ایک قدم اٹھائیں۔

روزانہ واک، مناسب ورزش، متوازن غذا، وزن پر نظر اور اپنی صحت کے بارے میں شعور—یہ چھوٹے چھوٹے قدم مستقبل میں بہت بڑا فرق پیدا کرسکتے ہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں یہ محسوس کیا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی بدلنے کے لیے ہمیشہ کسی بڑے معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی؛
ایک مضبوط فیصلہ، مسلسل محنت، اچھی عادتیں اور اللہ پاک پر یقین بہت کچھ بدل سکتے ہیں۔

اگر میرے اس تجربے سے کسی ایک شخص کو بھی اپنی صحت کے لیے ایک قدم اٹھانے کی ہمت مل جائے تو میں سمجھوں گا کہ اپنی کہانی لکھنے کا مقصد پورا ہوگیا۔

اپنی صحت کو ترجیح دیں، جسم کو حرکت میں رکھیں، اپنی غذا کا خیال رکھیں اور آرام کی نہیں، صحت مند عادتوں کی زندگی اپنائیں۔

انور علی

post bar salamurdu

انور علی

انور علی — عزم اور خدمت کا سفر انور علی کا تعلق لاڑکانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں، خیر محمد آریجا تحصیل باقرانی سے ہے۔ بچپن سے ہی تعلیم کے لیے جدوجہد کی، جہاں وسائل کی کمی اور معاشرتی ناانصافیاں تھیں۔ علامہ اقبال کے فکر اور خودی کے تصور نے انہیں زندگی کا نیا مقصد دیا۔ آج، انور علی اپنے وسائل سے ایک تعلیمی فاؤنڈیشن چلا رہے ہیں، جو 275 غریب بچوں کو مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ ان کا خواب ہے کہ یہ بچے معاشرے کے قابل اور ذمہ دار فرد بنیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کا اصل مقصد دوسروں کے لیے جینا ہے، اور انہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button