- Advertisement -

شہزادی کے بہ منت الفاظ

علامہ راشد الخیری کا ایک اردو افسانہ

اتنا کہہ کر خنجر اٹھایا۔ چاہتا تھا کہ کام تمام کر دے، شہزادی نے بہ منت یہ الفاظ کہے:
“میں بے گناہ ہوں۔ جس دماغ میں آج سے پندرہ بیس برس پہلے میری محبت کے خیالات بھرے ہوئے تھے آج اس میں قتل کی تجویزیں ہیں۔ بادشاہ کی جن آنکھوں سے آج خون ٹپک رہا ہے، یہ کبھی میری طرف پیار و محبت سے بھی اٹھی ہیں۔ اگر تیری کامیابی صرف میری موت پر منحصر ہے تو میں یہ جان قربان کرتی ہوں، لیکن نافرمانی کا الزام میرے اوپر بہتان ہے۔ الیاس! وہ کام نہ کر کہ میرے دونوں بچے دنیا میں ذلت کی زندگی بسر کریں۔ میں جانتی ہوں کہ تھوڑی دیر میں میرا جسم فرش پر تڑپ رہا ہوگا اور جب تک تیری آنکھیں مجھ کو مردہ نہ دیکھ لیں، دل ٹھنڈا نہیں ہو سکتا۔ میں اپنا خون معاف کرتی ہوں، بائیس برس تیرے ساتھ زندگی بسر کی۔ تیری بدولت دنیا کے لطف اٹھائے۔ ایک ایسے رفیق کو جان نذر کر دینی کوئی بڑی بات نہیں۔ اب میں اجازت دیتی ہوں کہ تو شوق سے اپنی خواہش پوری کر”۔
ابھی یہ پہلا فقرہ ختم بھی نہ ہوا تھا کہ ظالم الیاس نے آبدار خنجر کو حرکت دی اور عین اُس وقت جبکہ مظلوم شہزادی کی آنکھیں اپنے خاوند کے چہرے کو تک رہی تھیں، اس کے کلیجے میں بھونک دیا۔
کیوں مادہ! کیا وہ مذہب اور اخلاق اور قانون جس پر انسان بہت کچھ نازاں ہے اور سمجھتا ہے کہ ابتدائے دنیا سے آج تک ہم نے بہت کچھ ترقی کرلی، یہی تعلیم دیتا ہے؟ کیا وہ شہزادی جس نے عفت و عصمت جیسی چیز قربان کر دی، کیا وہ عورت جس کو الیاس نے زبردستی اپنی محبت کا یقین دلایا، اسی سلوک کی مستحق تھی؟ کس طرح سنگدل الیاس کا ہاتھ ایک بے گناہ، برسوں کی رفیق اور برسوں کی ساتھی عورت پر اٹھا۔
یہ کچھ ایسا درد انگیز سماں تھا کہ میرے پر شل اور ہاتھ پاؤں پٹڑا ہو گئے، طاقت پرواز نہ رہی۔ آفتاب غروب ہو چکا تھا، میں نے وہیں بسیرا کیا اور رات کو جس وقت میں نے یہ دیکھا کہ ایک نئی عورت الیاس کی خواب گاہ میں داخل ہوئی اور الیاس اس کے استقبال کو اٹھا، مجھ میں دیکھنے کی تاب نہ رہی۔ میں اڑا اور راتوں رات اپنے گھر پہنچا۔
میرا دماغ اس وقت بالکل صحیح نہ تھا، پریشان خیالات نے میری قوت زائل کردی تھی۔ ہر چند چاہتا تھا کہ تھوڑی سی نیند لے کر دماغ کو تسکین دوں مگر بے گناہ شہزادی کی آخری گفتگو میرے کانوں میں موجود تھی اور کسی طرح نہ بھولتی تھی۔
بدقت تمام رات بسر کی لیکن کائنات کی اس قابل ناز شے یعنی انسان کے مطالعہ کا مجھ کو اس قدر شوق ہوا کہ میں پھر آبادی میں پہنچا۔ شہر میں ایک پہاڑی تھی جس پر سہ منزلہ اور چو منزلہ مکان بنے ہوئے تھے، ان میں سے ایک بلند مکان دیکھ کر میں ممٹی پر جا بیٹھا۔
قوت مشاہدہ میری مددگار تھی، تمام شہر میری آنکھ کے سامنے تھا اور میری آنکھ افعال انسانی پر بغرض تحقیقات پڑ رہی تھی۔ میرا خیال تھا کہ وہ ما بہ الامتیاز شے جس نے اس مخلوق کو اشرف بنا دیا، حیات انسانی کی رہنما ہوگی مگر مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ ان سیکڑوں اور ہزاروں ذی روح لوگوں میں ایک متنفس بھی ایسا نظر نہ آیا جس پر انسان کا اطلاق جائز ہوسکتا۔
اُن بخارات کی طرح جو شدتِ حرارت و تمازتِ آفتاب سے پہاڑ کی چٹانوں یا تپتے ہوئے کرۂ زمین سے نکل کر ہوا میں اڑتے رہتے ہیں، میری نگاہ ابھی تک کہیں ٹھہری نہ تھی اور مطالعہ انسان کے اشتیاق نے مجھ کو اس قدر بے تاب کر دیا تھا کہ قوتِ باصرہ کی رفتار حد آخر تک پہنچ چکی تھی۔ رنگ برنگ کی اشیا، مختلف ہیئت و صورت کے اجسام سامنے سے گزر رہے تھے؛ مگر چونکہ متجسس نگاہ سرعت کے ساتھ دیکھ رہی تھی، مَیں ان میں سے کسی کو تمیز نہ کر سکا، یہاں تک کہ ایک زرد دوپٹہ بیچ میں آکر حائل ہوا اور میری تمام توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ یہ دوپٹہ انسان کے اُس کمزور فرقے کے سر پر تھا جو عورت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے، لیکن یہ کپڑا بجائے سرخ رنگ اور چمکدار ہونے کے پھٹا ہوا اور میلا کچیلا تھا۔ الیاس کے ظلم اور شہزادی کی منت و زاری نے میرے دل میں اس فرقے کی حمایت پیدا کر دی تھی۔ میں نے سر سے پاؤں تک اس عورت کو دیکھا، گو شہزادی کی طرح اس کے پاس دلفریبی کا کوئی سامان نہ تھا اور باوجود یہ کہ ہوا کے ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے بجائے دل و دماغ کو تر و تازہ کرنے کے، اس چار دیواری سے جس میں یہ موجود تھی ٹکرا ٹکرا کر واپس جا رہے تھے۔ تاہم اس کے چہرے سے خوشی کا مینہ برس رہا تھا اور جہاں تک میرا قیاس حیوانی کام دے سکا، میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ فکر و غم کی گھٹا اس کے قلب سے بالکل نا آشنا ہے۔ افسوس میرے نتیجہ نے مجھ کو مغالطہ دیا، میں نہ سمجھ سکا کہ یہ حالت مستقل نہیں عارضی ہے اور یہ زور کا چھینٹا تھوڑی دیر بعد کھل جائے گا اور یہ دل جو اس وقت باغ باغ ہے، اس پر حوادث کی بجلی چمک چمک کر اور کڑک کڑک کر گرے گی۔
یہ عورت ایک ٹوٹے سے کُھرّے کھٹولے پر صحن میں بیٹھی تھی اور اندر اس کی تین چار ہم جنسیں مختلف کاموں میں مصروف تھیں۔ اس زرد ڈوپٹہ میں مجھے کوئی چیز کلبلاتی ہوئی نظر آئی، وہ کوئی بے جان نہ تھی، جاندار تھی اور طاقتور بھی تھی اور یہ کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح اس پھٹے ہوئے ڈوپٹہ کو ہٹا کر باہر نکلے؛ مگر عورت کی طاقت غالب تھی۔ وہ چاروں طرف سے ڈوپٹہ کو چھپاتی تھی اور چاہتی تھی کہ یہ قوت اور اس کا یہ فعل ان ہم جنسوں کے علم میں نہ آئے جو سامنے ہیں۔ کچھ دیر تک ان دونوں میں کشمکش رہی اور بالآخر چھوٹی طاقت میں بڑی طاقت کی طرف سے تھوڑی سی محبت شامل ہوئی۔ ڈوپٹہ سر کا تو میں نے دیکھا کہ ایک ننھا سا بچہ گود میں پڑا دودھ پی رہا ہے۔ نرم رخساروں پر ہنسی کی جھرّیاں، پیارے پیارے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور ماں کے منہ پر ٹکٹکی تھی۔ بچہ کی یہ کیفیت دیکھ کر چونکہ میں خود صاحب اولاد تھا، کس قدر خوش ہوا ہوں بیان نہیں کر سکتا۔ اس کا ننھا سا دل دنیا کے تفکرات سے بالکل آزاد تھا۔ اس کی تمام سلطنت ماں کی گود تھی جس میں پڑا ہوا حکومت کر رہا تھا۔ جس پیار اور محبت سے ماں کی نگاہیں اس بچہ پر پڑ رہی تھیں، وہ کوئی میرے دل سے پوچھے۔ جھکتی تھی، طرح طرح کے منہ بناکر چمٹتی تھی، مختلف ناموں سے پکارتی تھی، بھینچ بھینچ کر لپٹتی تھی۔ اس کی گود میں ایک ایسی لازوال دولت اور بیش بہا خزانہ تھا جس کی خوشی کا احساس کسی طرح ختم نہ ہوتا تھا۔ مامتا دماغ میں خیال اور خیال میں بلندیاں، دل میں حوصلے اور حوصلوں میں امیدیں پیدا کر رہی تھی۔ اس کی حرکات قریب قریب مجنونانہ تھیں، مگر کچھ ایسی خوشی سے لبریز تھیں کہ اس کا پتہ مجھ کو اُن خوشیوں میں بھی نہ ملا جو الیاس و شہزادی کے پاس شب ماہ میں تھیں۔ فرطِ محبت سے چومتے چومتے خیالات نے امیدوں کو جامۂ کامیابی پہنایا۔ چاہتی تھی کہ کلیجہ سے لگا کر ہولے ہولے تھپڑ مارے۔ دفعۃً ایک ہم جنس سنگ دل کی خفگی اور فقرے نے اس کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا:
“کیوں ری انّا کمبخت! تو نے پھر اپنے بچہ کو دودھ دیا!”
خدا معلوم اس فقرے کی تہ میں ایسی کیا چیز چھپی تھی جو بے فکر دل پر تیر کی طرح جا کر لگی اور ہشاش بشاش چہرہ کو جس پر رنج و غم کا نشان تک نہ تھا، بالکل سہما دیا۔ اتنی عمر ہونے آئی، مگر آج تک اتنی جلدی مَیں نے کبھی آسمان کو بھی رنگ بدلتے نہ دیکھا۔ جس کے وہم و گمان میں بھی انقلاب کا اندیشہ نہ تھا، جو خلقت اور صنعت سب کو ہیچ سمجھ رہی تھی، جس کی تمام خوشیاں، جس کے تمام خیالات اس دو ڈھائی سیر کے لوتھڑے میں محدود تھے، جس کے دماغ میں اس بے بہا نعمت نے اپنا سکہ بٹھا رکھا تھا اور جس کے دل میں یہ ننھا سا لال راج کر رہا تھا، دفعتاً سٹ پٹا گئی۔ بچہ کو وہیں پٹخا اور سہمی ہوئی سامنے آ کھڑی ہوئی۔ منہ پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور گھگیا گھگیا کر کہہ رہی تھی: “نہیں تو بیگم! بڑی دیر سے رو رہا تھا، میں نے گود میں اٹھا لیا”۔
ماں کی گود کا فراق اور دودھ کا چھٹنا تھا کہ ننھا سا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ تعجب تو یہ تھا کہ ہرچند چیخا چلایا، مگر واقعات نے ماں کو اتنی اجازت نہ دی کہ اپنی صورت دکھا کر فوری رنج کی تلافی کر دیتی۔ ہاں اتنا ضرور تھا کہ جوں جوں اظہار تکلیف میں جس کا ذریعہ رونے کے سوا بچے کے پاس کچھ اور نہ تھا، زیادتی ہوتی جاتی تھی، ماں کا خون خشک ہوتا جاتا تھا۔ میں دور بیٹھا ہوا بہت کچھ تڑپا مگر بے بس تھا۔ بہتیرا غور کیا مگر قیاس نے مدد نہ دی کہ اس سنگدل عورت کے فعل پر کوئی رائے قائم کرتا۔ ہرچند وجہِ ارتکاب سوچتا تھا مگر کوئی خیال ٹھیک نہ بیٹھا، با وجود اس ناکامی کے کہ دماغ نے کوئی صائب رائے نہ دی، چونکہ افراط تخیلات کا مرض مجھ کو لاحق ہے اس جھگڑے کے الٹ پھیر میں پھنسا رہا۔ ممکن ہے کہ غلط ہو مگر میں جو قیاس لگا سکا اور جو رائے قائم کرنے پر مجبور تھا وہ یہ تھی کہ زرد ڈوپٹہ والی عورت کی کچھ ایسی اغراض اِن ہم جنسوں سے وابستہ تھیں جن کا پورا ہونا ضروریات زندگی میں شامل اور بقائے حیات کا جزوِ لازمی تھا۔
مگر اے مادہ! بشریت اسی کا نام ہے اور ان حرکات کا فاعل انسان کہے جانے کا مستحق ہے؟
بول بول پیاری مادہ، کس دل سےاس شقی القلب عورت نے ماں بیٹوں کے دورِ محبت کو درہم برہم کر دیا۔ وہ ذرا سا دل جو آزادی سے پڑا ہوا کلکاریاں مار رہا تھا، اس سنگ دل کی وجہ سے چیخیں مار مار کر رونے لگا اور اس کو پروا بھی نہ ہوئی۔ محض اپنے بچے کی محبت باعتبار تموّل بر تر ہونے کا زعم یا اسی کے قریب قریب کچھ اور ہونے کی رعونت۔ کیا سب جائز تھے؟ اس لیے کہ اپنی ہی جیسی عورت، اپنی ہی جیسی انسان کی مامتا صرف اس وجہ سے کہ اس کی ضرورتیں اٹکی ہوئی ہیں، اپنی مامتا پر قربان کردے اور ایسا نا جائز فائدہ اٹھائے کہ مجھ جیسا جانور تک لعن طعن کریں؟ بول بول پیاری مادہ کچھ تو بول۔ ننھے ننھے کلیجوں پر تیر لگانے والی مخلوق، مجروح دلوں پر برچھیاں چلانے والی مخلوق اور اشرف؟ توبہ توبہ!! اے آسمان پر بادشاہت اور زمین پر حکومت کرنے والے! الامان الحفیظ۔ بچائیو اس مخلوق سے جو اتنی ارذل اور پناہ میں رکھیو اس فرقے سے جو اس قدر خود غرض ہو۔
مادہ پیاری مادہ! باتوں ہی باتوں میں دن کہیں کا کہیں پہنچا اور سورج سر پر آ گیا۔ میں نہ کہتا تھا کہ ایسی منحوس مخلوق کا صبح ہی صبح نام لیا، خدا خیر کرے۔ خواہش یہ ہے کہ آئندہ کسی ایسی شے کا وجود میرے ذہن میں نہ ہو۔ آ اور دامن کوہ میں چل۔ جو کچھ کہا کچھ نہیں کہا، ابھی بہت کچھ کہنا ہے۔
میں اس تماشے میں ایسا محو اور اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ بھوک پیاس غارت ہوئی۔ ہرچند جی چاہا کہ نیچے اتروں اور اپنے پروں کی ٹھنڈی ہوا سے معصوم دماغ کو تر و تازہ کروں مگر اندیشہ اور اندیشہ کیا یقین تھا کہ اگر بھولے سے بھی ان حدود میں داخل ہو جاؤں گا جہاں حضرت انسان کے قدم پہنچتے ہیں تو آزادی کا خاتمہ ہوگااور پر قینچ ہو کر کسی کونے میں پھینک دیا جاؤں گا۔ اڑا اور جدھر منہ اٹھا اُدھر کا رخ کیا۔ جہاں انسان کی طرف سے اس قدر نفرت آمیز خیالات میرے دماغ میں جڑ پکڑے جاتے تھے، وہیں تحقیقات مزید کی خواہش اور یقین کی ضرورت بھی اس درجہ محسوس ہو رہی تھی کہ میں آبادی میں چکر لگاتا رہا۔ گرمی نہایت شدت سے پڑ رہی تھی اور چونکہ حرارتِ آفتاب اس وقت پورے زور پر تھی۔ نازک مزاج انسان کو اتنی برداشت کہاں؟ کوئی تہ خانوں میں گھسا، کوئی خس خانوں میں۔ ہاں ایک جگہ تین چار آدمی کھڑے دکھائی دیے۔ ان کو دیکھ کر میں نے بھی طاقت پرواز کو کمزور کیا، دیکھتا کیا ہوں کہ ایک موٹا تازہ آدمی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ادھر ادھر ٹہل رہا ہے۔ اتنا ہی موٹا مگر عمر میں کچھ چھوٹا ایک شخص جس کی صورت بڑے موٹے سے بہت ہی ملتی جلتی تھی، ایک طرف چپکا کھڑا تھا۔ دو تین آدمی اور بھی تھے مگر مجھے دیکھ کر تو کیا، کسی ضرورت ہی سے سمجھنا چاہیے باہر چلے گئے۔
گو پچھلے واقعہ نے اس چیز کو جو انسانی و شیطانی حرکات میں ما بہ الامتیاز ہے، دماغ سے قریب قریب غارت کردیا تھا۔ مگر پھر بھی میں ایسی اعلیٰ و اشرف مخلوق سے بدظن نہ ہوا اور میں نے فیصلہ کیا کہ انسانی تاریخ کے بدنما دھبے شاید مذہب کے رگڑوں کا مقابلہ نہ کرسکیں اور جو طبیعتیں اصول مذہب جیسی مؤثر شے سے متاثر ہو چکی ہیں، ان سے ایسی کمینہ حرکات کا ظہور نہ ہوگا۔ مگر جانور اور مجھ جیسے آزاد کے واسطے یہ تو آسان نہ تھا کہ میں محض انسان کی صورت دیکھ کر یہ پتہ لگا لوں کہ یہ مذہب کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ تاہم واقعات پر نظر ڈالنے سے پہلے میں نے جیبوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے لحیم شحیم کو اسی غرض سے دیکھا۔ اس کا سر منڈا ہوا تھا، بگلے کا پر سفید ڈاڑھی، پیشانی پر نور، گٹے، ٹخنوں سے اونچا پائجامہ ۔ مختصر یہ کہ کچھ ایسا تقدس ٹپک رہا تھا کہ میرے دل نے بلا تامل اس شخص کے انسان ہونے کی شہادت دی۔ میں منتظر تھا کہ اس کے قول و فعل سے کس طرح واقفیت حاصل کروں، دفعتاً اس بڑے موٹے نے چھوٹے موٹے سے کہا:
“یہ صرف فتنہ پروازوں کی شرارت ہے جو تم کو میری طرف سے بھڑکا رہے ہیں۔ میں اگر تمھارا دشمن ہوں گا تو دوست کس کا ہوں گا۔ یہ دولت اور ریاست سب مل جانے والی چیزیں ہیں مگر تم جیسا برابر کا بھائی، نہ ماں باپ زندہ ہو کر آئیں گے، نہ نصیب ہوگا۔ صدقہ کردوں تم پر سے وہ جائداد جو تمھارے دل میں میری طرف سے گرہ ڈالے۔ بھائی سلیم! تم نے کس طرح یقین کرلیا کہ میں حکام کو تمہاری بغاوت کا یقین دلا رہا ہوں اور اس کمبخت موضع عزیز آباد کے واسطے! لاحول ولاقوة! اگر خدا کوئی چیز ہے اور مرنے کے بعد اس کے حضور میں افعال دنیوی کا جواب دینا ہے تو میں اس کو شاہد کرتا ہوں کہ اگر تم سے دغا کروں تو خدا سے۔ تم بلا تامل اس دستاویز پر دستخط کردو۔ والله باللہ ثم باللہ اس کو میری بدنیتی پر محمول نہ کرو۔ تمھاری ریاست تم کو مبارک ہو۔ میری یہ کوشش دوراندیشی پر مبنی ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسی ویسی ہو تو یہ آبائی نشانیاں جہاں باپ دادا کی ہڈیاں گڑی ہوئی ہیں نیست نابود نہ ہو جائیں”۔
باپ دادا کا نام لیتے ہوئے اس شخص کی آنکھ میں آنسو بھر آئے اور کچھ ایسے درد سے تقریر کی کہ چھوٹے موٹے نے فوراً ہی دستخط کردیے۔ نہ معلوم اس کاغذ میں کیا خدائی کی دولت تھی کہ دستخط ہوتے ہی بڑا موٹا باغ باغ ہو گیا اور کاغذ ہاتھ میں لے یہ جا وہ جا۔ ابھی اس شخص کو گئے مشکل سے ایک گھنٹہ ہوا ہوگا کہ چند طاقتور انسان رنگ برنگ کی وردیاں پہنے درّانہ گھس آئے اور اس چھوٹے موٹے کو زنجیروں میں جکڑ ایک طرف لے چلے۔ اس شخص کی گریہ و زاری اور اظہار بے گناہی پر کلیجہ کٹتا تھا۔ زمین پر یہ چھوٹی سی جماعت اور ہوا پر میں اکیلا۔ مختصر یہ کہ ہم سب ایک ایسی جگہ پہنچے جو عدالت کے نام سے تعبیر کی جاتی تھی۔ سب سے پہلا شخص جس نے اس مظلوم کے باغی ہونے کی شہادت دی، وہی بڑا موٹا تھا۔ پس پیاری مادہ جانے دے، میں نے تیرے ننھے سے دل کو بہت تکلیف پہنچائی۔ ایسا نہ ہو اس قسم کے واقعات تیری صحت پر برا اثر کریں۔ حقیقی بھائی سے زیادہ دوست کون ہو سکتا تھا۔ اس شخص کو جلا وطنی کا حکم ہوا۔ جس وقت اس کو کشاں کشاں لے چلے ہیں، وہ نہایت حسرتناک وقت تھا۔ قیدی نے بڑے بھائی کی طرف دیکھا اور کہا: “بھائی جان! موضع عزیزآباد میرے پاس رہا نہ تمھارے پاس رہے گا۔ چار دن کی زندگی کے واسطے تم نے مجھ سے میرے پیارے چھڑوائے۔ میں تو چلا لیکن اب تم اس جگہ چلنے کے واسطے تیار رہو جہاں میرا تمھارا انصاف ہوگا اور جہاں میری شکایت کے بغیر اس کا فیصلہ ہو جائے گا”۔
بتا پیاری بتا، کچھ تو بتا۔ کیا اب بھی تو اس مخلوق کے ہمسایہ میں رہنا پسند کرتی ہے؟ وہ دن اور آج کا دن، میں نے تو عہد کر لیا کہ آبادی کی طرف رخ نہ کروں گا۔ لیکن کل شام کو میں نے یہاں بھی حضرت انسان کی صورت دیکھی۔ بس اڑ اور چل وطن کو خیرباد کہہ اور عزیز و اقارب کو خداحافظ۔

 

علامہ راشد الخیری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
علامہ راشد الخیری کا ایک اردو افسانہ