نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
کبھی کبھی کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے کچھ تحریریں ایسی پڑھنے کو مل جاتی ہیں جنہیں پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دنیا اور ہمارے اردگرد کے لوگوں کے بیچ کتنی اور کیسی کیسی کہانیاں موجود ہیں یعنی یوں لگتا ہے کہ دنیا میں بسنے والے ہر شخص اور ہر گھر میں کوئی نہ کوئی کہانی موجود ہے شاید طرح طرح کی ان کہانیوں کا دوسرا نام ہی زندگی ہے اسی طرح کی ایک کہانی میری نظروں سے گزری جو پاکستان ملٹری میڈیکل کور میں ایک میجر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر راشدہ کاظمی کی زبانی لکھی گئی تحریر تھی میں نہ تو انہیں جانتا ہوں اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ یہ کوئی سچا واقعہ ہے جو انہوں نے لکھا لیکن جس طرح سوشل میڈیا پر لوگ کوئی اچھی چیز یا اچھی بات پوسٹ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اگر ” یہ پسند آئے تو آگے شیئر کردیجیے” اسی طرح اس کہانی کو میں اپنے الفاظوں میں ڈھال کر آپ تک پہنچانے کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کروں گا یہ شیئر بھی ہو جائے گی اور جہاں جہاں مجھے کچھ جھول نظر آیا وہ بھی صحیح ہو جائے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ڈاکٹر صاحب کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ان کے پاس ایک فوجی آفیسر کو لایا گیا جو عہدے کے اعتبار سے ایک کرنل لگ رہے تھے ان کی ایک ٹانگ میں گولی ہوئی تھی ان کو بیہوش کرکے آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی اور وہ اپنی ایک ٹانگ سے معذور ہوچکے تھے آپریشن کافی لمبا تھا یعنی دوپہر ظہر سے پہلے انہیں آپریشن تھیٹر لایا گیا اور جب انہیں فارغ کرکے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تو اس وقت عشاء کی اذان ہورہی تھی وہ ساری رات بیہوش رہے فجر کی اذان سے کچھ دیر قبل ان کو ہوش آیا تھا انہیں ہسپتال میں سپیشل کمرہ دیا گیا تھا انہوں نے ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے وقت پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ فجر کا وقت ہے جس پر انہوں نے فوراً وضو کی خواہش کا اظہار فرمایا کرنل صاحب کو بتایا گیا کہ وہ اس وقت ایسی حالت میں نہیں ہیں کہ وہ وضو کرسکیں تو وہ پریشان ہوگئے لیکن ان کی بیوی نے مجھے اشارہ کیا پھر میری مدد سے ان کے بستر پر پلاسٹک کی شیٹ ڈالی اور مجھے باہر بھیج دیا اسی وقت ایک نوجوان کو کرنل صاحب کا بیٹا تھا کمرے کے اندر مجھے سلام کرتے ہوئے داخل ہوا کچھ دیر کے بعد مجھے اندر بلالیا گیا فجر کی اذان ہوچکی تھی میں کمرے میں جاکر دیکھا تو پلاسٹک شیڈ اتار کر سائیڈ پر رکھ دی گئی تھی اور کرنل صاحب بڑے سکون سے نماز ادا کررہے تھے ان کی بیوی اور بیٹے باوضو کھڑے تھے اس انتظار میں کہ پہلے کرنل صاحب نماز ادا کرلیں پھر وہ بھی نماز پڑھ لیں حالانکہ میں بھی مسلمان گھرانے سے تھی مگر دینی معاملات سے کافی دور رہی ہوں مجھے یاد نہیں کہ میں نے آخری بار جب نماز پڑھی تھی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ڈاکٹر صاحبہ نے مزید کہا کہ جب کرنل صاحب کی بیوی اور بچے نے نماز پڑھ لی تو انہوں نے مجھے دعوت دی کہ آپ بھی نماز پڑھ لیں پھر تھوڑا آرام کر لیجئے گا میں شرمندگی سے بچنے کے لیئے وضو کیا اور نماز کی نیت کرکے نماز پڑھی اس کے بعد میری شفٹ ختم ہوگئی اور میں چلی گئی میں بہت تھکی ہوئی تھی اس لیئے گھر جاکر سوگئی جب اگلے دن ڈیوٹی پر پہنچی تو کرنل صاحب مجھے کافی بہتر لگے ان کا بیٹا اور بیوی گھر جاچکے تھے جبکہ کرنل صاحب کے پاس ان کی بیٹی اور داماد موجود پھر تھوڑی دیر میں ان کی بیگم آرام کرکے واپس آچکی تھیں اور کرنل صاحب کی خدمت میں لگ گئیں ظہر کا وقت تھا کرنل صاحب کی بیوی انہیں وضو کروانے لگیں تو میں باہر آگئی تھوڑی دیر بعد جب میں اندر گئی تو میں نے بیگم صاحبہ کو نماز کے لیئے جانے کو کہا اور خود کرنل صاحب کے پاس بیٹھ گئی میں نے دیکھا کہ کرنل صاحب کچھ ذکر و اذکار میں مصروف تھے میں نے پوچھا کہ اتنی تکلیف میں ہونے کے باوجود آپ نے نماز نہیں چھوڑی تو کہنے لگے کہ اس کے پیچھے ایک کہانی ہے تو میں نے سننے کی خواہش ظاہر کی اس پر وہ کہنے لگے کہ دراصل میرے والدین میں علیحدگی ہوگئی تھی اور مجھے ابا نے ہی پال پوس کر بڑا کیا میں بالغ ہونے تک اپنی ماں سے کبھی نہیں ملا کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ مر چکی ہے میں والد صاحب کے ساتھ پنڈی میں رہتا تھا پھر ایک دن جب میں اباجان کے پاس بیٹھا تھا تو ایک اچھی عمر کا شخص حاضر ہوا مجھے باہر بھیج دیا گیا اور وہ میرے والد سے بات کرنے لگا مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی لیکن مجھے اتنا سننے میں آیا کہ میرے والد نے جہاڑتے ہوئے کہا کہ دفعہ ہو جائو یہاں سے ورنہ مارے جائو گے اور وہ شخص باہر نکل کر چلا گیا لیکن میں ان سے ملنے ان کے پیچھے بھاگا اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو انہوں نے بتایا کہ میں تمہارا ماموں ہوں اور تمہاری ماں کے آخری دن چل رہے ہیں اور وہ تم سے ملنے کے لیئے بیقرار ہے یہ کہکر وہ چلے گئے لیکن جاتے جاتے اپنا ایڈریس مجھے دے گئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میرے ماموں وہاں سے چلے گئے لیکن میں حیرانگی اور صدمے کی حالت میں ان سے کوئی بات بھی نہ کرسکا پھر جب میں کچھ سنبھلا تو میں نے اس بات کا پتہ لگانے کی ٹھانی میں نے والد صاحب سے اپنے دوست کی شادی کا بہانہ کرکے کچھ دنوں کے لیئے اپنی گاڑی میں ضروری سامان اور رقم لیکر گھر سے نکل گیا جب میں ماموں جان کے دیئے ہوئے ایڈریس پر پہنچا تو کیا دیکھا کہ اندر سے بند خواتین بچوں اور کچھ مردوں کی آواز سنائی دی دروازہ کھولا گیا میں جیسے ہی اندر داخل ہوا تو
سامنے چارپائی پر صاف ستھرے بستر پر ایک خاتون لیٹیں تھی جو انتہائی کمزور تھیں مجھے دیکھ کر انہوں نے ہاتھ اوپر اٹھا لئیے تھے اور ان کی آنکھوں کو دیکھتے ہی بنا کوئی ثبوت مانگے میں ان کے سینے سے لگ گیا تھا مجھے اپنے گالوں پر ماں کے آنسو کی نمی محسوس ہوئی تو میں نے ان کے آنسو پونچھے اور پھر میں دوسرے رشتہ داروں سے ملنے لگا اپنے ننھیال سے مل کر پہلی بار محسوس ہوا کہ رشتے کیا ہوتے ہیں اور ان کا خلوص کیا ہوتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دراصل میری ماں کینسر کی مریضہ تھی ان کا جگر ختم ہوگیا تھا اس لیئے وہ مجھے خود سے دور بیٹھنے کا کہتی لیکن میں کہتا کہ ماں مجھے کچھ نہیں ہوگا مجھے اپنے ساتھ بیٹھنے دو میری ماں نے ماموں سے کہا کہ بکری بیچ کر مجھے پیسے لادو تو میں نے پوچھا کیوں تو کہنے لگی کہ تمہارے سر سے صدقہ اتار کر لوگوں میں بانٹوں گی تو میری آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے میں فوراً گیا اور گاڑی میں رکھے ڈھیر سارے پیسے ماں کی جھولی میں ڈال دیئے اور کہا کہ میری ماں کو کوئی چیز بیچنے کی ضرورت نہیں پھر وہ پیسے میں نے ماں پر وار کر لوگوں میں بانٹ دیئے اتنے میں اذان کی آواز آئی تو ماں نے مجھے باہر جانے کو کہا مجھے ماموں باہر لےگیئے تو میں نے پوچھا کہ مجھے باہر کیوں بھیج دیا تو مامون نے کہا کہ تمہاری ماں وضو نہیں کرسکتی تو تمہاری ممانی انہیں وضو کروا دیتی ہے یہ سن کر میں بھاگا اور ممانی کے ہاتھ سے برتن لیکر کہا کہ جتنی شرعیت اجازت دیتی ہے اتنا میں اپنی ماں کو وضو خود کرواسکتا ہوں یہ بات سن کر میری ماں نے نہ صرف مجھے گلے لگا لیا بلکہ مجھے چومنے لگی اور کہنے لگی مجھے افسوس ہے کہ تو میرے دل و دماغ میں تو رہا مگر زندگی میں کبھی گود میں نہیں رہا پھر میں نے اپنے سہارے پر بٹھا کر انہیں نماز پڑھائی جب وہ فارغ ہوئیں تو میں نے کہا ماں آپ اتنی تکلیف میں ہیں پھر بھی نماز نہیں چھوڑتی تو انہوں نے میرا ماتھا چوما اور بڑی نرمی سے کہا کہ بیٹا نماز ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے جیسے تم اس وقت میری آنکھوں کی ٹھنڈک بن کر میرے پاس بیٹھے ہو تمہارے بغیر میں کتنی تکلیف میں تھی یہ میں جانتی ہوں یا میرا خدا بالکل اسی طرح جب حضور ﷺ کی امت نماز نہیں پڑھتی تو ان پر کیا گزرتی ہوگی خدا جانتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں وہ کہنے لگے کہ میری ماں نے مجھے سے کہا کہ اگر تم پانی کے اندر ہو اور تمہیں اذان کی آواز سنائی دے تو تمہارا فرض ہے کہ تم نماز پڑھو میں صرف بیمار ہوں بیٹا تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور تو نماز پڑھے گا تو مجھے نہ صرف اس دنیا میں تیری طرف ٹھنڈک پہنچے گی بلکہ قبر میں بھی تیرے اعمال کی وجہ سے مجھے اجر و ثواب پہنچے گا نماز پڑھنے کے لیے کسی جزا سزا کی وجہ کا ہونا ضروری نہیں ہے بس نماز پڑھنے کے لئے دو وجوہات ہی کافی ہیں کہ نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی امت کے لئے تحفہ ہے اور نماز میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے بیٹا ہوسکے تو نماز کبھی نہ چھوڑنا میں نے ماں سے نماز کبھی نہ چھوڑنے کا عہد کیا پھر انہوں نے میری ممانی کو سبزی بنانے کا کہا اور بتایا کہ کس طرح بنانی ہے پھر جب سبزی تیار ہوکر آئی اپنے ہاتھوں سے ماں نے نوالہ بناکر مجھے کھلایا تو میں نے اب تک ایسا ذائقہ کبھی نہ چکھا تھا عشاء کے بعد دیر تک ماں مجھ سے باتیں کرتی رہی پھر ماموں مجھے باہر لے گئے اور بتایا کہ تم جتنے دنوں سے یہاں ہو تمہاری ماں جتنا ہنسی ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہنسی لیکن وہ صرف کچھ دنوں کی مہمان ہیں یہ سن کر میں نے نے زیادہ وقت ماں کے ساتھ گزارا میں نے پوچھا کہ ماں کوئی خواہش ہو تو بتائو تو بس مجھے نماز کی پابندی کی تلقین کیا کرتی اور دین پر چلنے کا کہتی
میں عشاء کی نماز پڑھنے مسجد گیا تو امام صاحب مجھے علیحدہ لیکر گیئے اور بتایا کہ اگر تم استطاعت رکھتے ہو تو پیسہ لوگوں میں نہ بانٹو بلکہ اپنے ماموں کو دو کیونکہ انہوں نے اپنا گھر زمین سب کچھ بیچ کر تمہاری ماں کے علاج میں لگا دیا ہے یہاں تک کہ بچوں کی پڑھائی چھڑوا کر وہ پیسہ بھی لگا دیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں وہ کہنے لگے کہ میری ماں نے رات کو مجھے اپنے پاس لٹایا تو میں آٹھ کھڑا ہوا اور ماں کے پائوں دبانے لگا بس وہ میری ماں کے آخری لمحات تھے اور ان آخری لمحات میں وہ کہنے لگی کہ بیٹا نماز قائم رکھنا دین پر چلنا
اور اگر اپنے باپ جیسی خصلتوں کے مالک نہ ہوئے تو اپنے ماموں اور ان کی بیٹیوں کا خیال و لحاظ کرنا
اپنے باپ کا ماضی جاننے کی کوشش نہ کرنا
نہ کبھی اپنے باپ سے نفرت کرنا ”
اس کے ساتھ ہی میری والدہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھا اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگیں ۔
اور پھر نہ جانے وہ کب سوگئی رات بارہ بجے ماموں میری ماں کی خبر گیری کرنے آئے ان کی نظر جب ماں پر پڑی تو وہ گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ تمہیں پتہ نہیں چلا کہ تمہارے ماں کی سانسیں نہیں چل رہی ہیں ؟تو ہم فوراً ہسپتال کی طرف دوڑے اور صبح تک رہے لیکن یوں میری ماں ہم سب کو چھوڑ کر چلی گئیں فجر کی اذانیں شروع ہوچکی تھیں ماموں ممانی سے کہنے لگے کہ کفن دفن کا بندوبست کرنا ہے پیسوں کا انتظام کرو اور میں نے یہ بات سن لی پھر ماموں مسجد کی طرف جانے لگے تو پیچھے میں بھی چلا گیا اور میں نے کہا کہ ماموں ماں کے کفن دفن کا سارا انتظام میں کروں گا تو وہ روپڑے اور مجھے بھی رونا آگیا مسجد میں موجود سارے لوگ ہمارے ساتھ ہمارے گھر تک آئے ماں کے کفن دفن کے بعد میں واپس پنڈی آیا اور اگلی صبح کچھ پیسے لیکر دوبارہ ماں کی قبر پر پہنچ گیا کیونکہ امام صاحب نے کہا تھا کہ کچھ دنوں تک صبح فجر سے سورج نکلنے تک اور عصر کے بعد سے سورج غروب ہونے تک ماں کی قبر پر بیٹھنا اس کے بعد سب سے پہلے میں نے اس شخص کا کھوج لگایا جس نے میرے ماموں سے گھر خریدا تھا میں نے اسے پیسے لوٹائے اور گھر واپس لے لیا اور کہا کہ واپس گھر کا تقاضہ نہ کرے پھر میں ماں کے سوال ثواب کے لیئے کچھ فلاحی کام بھی گائوں میں کروا دیئے اس کے بعد گائوں کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا تھا وہ حل کروادیا گلیاں اور سڑکیں بناوادیں مسجد کی چھت ٹھیک کروادی اور دس دن گزارنے کے بعد میں پھر واپس پنڈی آگیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں واپس آنے کے بعد میں چاہ کر بھی والد صاحب سے وہ برتاؤ نہ کر پایا لیکن والدہ کی نصیحت کے مطابق میں نے والد صاحب سے ان کے ماضی کے بارے میں کبھی کوئی سوال نہیں کیا اور نہ ہی کبھی نماز ترک کی والد صاحب کی ناراضگی مول لیتے ہوئے میں نے اپنی ماموں زاد سے شادی کرلی اور اس نیک دل خاتون کی نیک دل بیٹی نے یہ ثابت کر دکھایا کہ میرے ننھیال کی نسل میں کتنی وفا تھی المختصر یہ کہ میری والدہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں میں کامیابی کی انتہا تک پہنچ چکا ہوں وقت اور حالات کے تحت بہت کچھ بدل چکا ہے میرے ماموں نے میری والدہ پر جو کچھ خرچ کیا اس سے کہیں زیادہ انہیں لوٹا چکا ہوں لیکن اس کے باوجود میں ان کا ہمیشہ احسان مند رہوں گا کہ انہوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر میری والدہ کی خدمت کی میری والدہ کی نصیحت کے مطابق میں نے ماموں ممانی کا بہت خیال رکھا انہیں تین تین دفعہ حج کروائے جبکہ اپنی بیگم کے ساتھ میں نے بھی یہ سعادت حاصل کی والدہ کے انتقال کے بعد ان کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی صرف اس لیئے نہیں کی یہ ان کی نصیحت تھی بلکہ اس لیئے کہ ” نماز میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ” اگر کبھی نماز قضا بھی ہو جائے تو فوراً دوسری نماز میں اسے ادا کرلیتا ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ڈاکٹر راشدہ کاظمی کرنل صاحب کی کہانی سن کر بڑی حیران ہوگئیں اور نماز کے وقت ہونے پر کرنل صاحب ان کی بیوی اور ان کے بیٹے کے نماز پابندی کے ساتھ پڑھنی کی وجہ بھی انہیں بخوبی سمجھ میں آگئی اس کہانی اس واقعہ کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ ڈاکٹر راشدہ کاظمی نے یہ کہانی کرنل صاحب کی زبانی سنی اور پھر اپنے انداز میں اسے تحریر کیا پھر یہ کہانی میری نظروں سے گزری اور میں نے اپنے انداز میں اپنے الفاظوں کے ذریعے اسے آپ تک پہنچانے کی سعادت حاصل کی اب آیئے ہم اس واقعہ کے اصل مقصد کی طرف دیکھتے ہیں سب سے پہلی بات یہ سمجھ میں آئی کہ بہت کم جگہوں پر یہ دیکھا گیا ہے کہ بیٹے جیسی اولاد کی تربیت میں جو ماں کا کردار ہے وہ باپ ادا نہیں کرسکتا خاص طور پر جب میاں بیوی میں علیحدگی ہو جائے ہاں اگر ماں کا انتقال ہوگیا ہو تو باپ بیٹے کو ماں بن کر بڑا کرسکتا ہے لیکن یہاں معاملہ علیحدگی کا تھا اس لیئے باپ سے وہ تربیت نہ ہوسکی جو بچہ حق رکھتا تھا اور جب ماں سے سامنا ہوا تو انتہائی کم وقت میں اس ماں نے وہ تربیت کردی جو وہ ساری زندگی نہ کرپائی دوسرا یہ کہ نماز جیسی عبادت کو صرف فرض نہ سمجھنا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک سمجھ کر ادا کرنا اور کبھی ناغہ نہ کرنا ایک قابل رشک بات ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مجھے امید ہے اس کہانی کو پڑھنے اور اس واقعہ کو سمجھنے کے بعد آپ اور ہم بھی نماز کی پابندی کریں گے اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دیں گے صرف اس لیئے نہیں کہ یہ ہم لوگوں پر فرض ہے بلکہ اس لیئے کہ یہ ہمارے آقا و مولا حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے نماز پنج گانہ اپنے وقت پر باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔
محمد یوسف میاں برکاتی








