- Advertisement -

زنجیر ہوس دل کو رہائی نہیں دیتی

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

زنجیر ہوس دل کو رہائی نہیں دیتی
کیا جلتی ہوئی آگ دکھائی نہیں دیتی

دنیا کے لئے بھول گئے اپنے خدا کو
کیا قبر کی آواز سنائی نہیں دیتی

کیا اپنے سوا کوئی نظر آئے نہ ہم کو
کیوں دل کو سکوں بات پرائی نہیں دیتی

جو مانگنا ہے مانگئے اﷲ سے اپنے
تسکیں کبھی دنیا کی گدائی نہیں دیتی

احساس سفر سے یہ گرہ کھلتی ہے باقیؔ
منزل کی خبر آبلہ پائی نہیں دیتی

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل