آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا
حیف کردار پہ تیرے ہے کہ گویا میں تھا

اصل اپنی کو بھلا بیٹھا، خدا بن جاتا
لا کے ساحل پہ تجھے جس نے ڈبویا میں تھا

مجھ کو ہر شخص کی بہبود کا رہتا ہے خیال
سر میں جس شخص کے سودا سا سمویا، میں تھا

عمر بھر کھوج رہی خود کو تلاشا کتنا
ہاتھ چھوٹا تھا مرا ماں سے کہیں کھویا میں تھا

کتنا آلودہ ہؤا جاتا ہے دامن میرا
رات احساسِ ندامت سے بھگویا میں تھا

کن مراحل میں رہی ساتھ، کہاں چھوڑ دیا
یارو تقدیر سے مل مل کے گلے رویا میں تھا

وقت کر دے گا ابھی فیصلہ اے دوست مرے
کون بے حس تھا ابھی "تم ہی” کہو یا "میں” تھا

اس نے پلکوں پہ مری پھر سے رکھی ہیں بوندیں
اپنے اشکوں سے ابھی آنکھوں کو دھویا میں تھا

آدھے رستے میں کوئی چھوڑ گیا ہے حسرتؔ
سکھ سے بیٹھا، نہ کبھی چین سے سویا میں تھا

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
یکم ستمبر، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button