جھوٹ رزق کو کھا جاتا ہے ۔ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کے جھوٹ کی بد بو کی وجہ سے ایک میل دور چلا جاتا ہے ۔جھوٹ معاشرہ کوتباہ برباد کردیتا ہے ۔ اسی جھوٹ کی وجہ سے ہمارا ملک ڈوب رہا ہے ۔ سیاستدان ہوں ، نوکر شاہی (بیوروکریسی یا اسٹبلشمنٹ) یا عدلیہ آج تک قوم سے جھوٹ بولتے آ رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے حکومتی رٹ بھی قائم نہیں ہو سکی ۔ سچ بولنا شروع کر دیں اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کر یں گے ۔ جب ملک میں سچ تھا ۔ ملک قرض دیتا تھا ۔جب جھوٹ اور شعورشروع ہوا ۔ ملک 87000ارب کا مقروض ہو گیا ۔ اس خالت میں جب ملک چلانے کے لئے اہل اقتدار و اختیار پوری دنیا کے پاؤں پڑ رہے ہیں ۔ پارلیمنٹ نے تنخواہوں ، پینشن اور مراعات میں ضرورت سے زیادہ اضافہ کر دیا ہے ۔ کیا یہ ملک کے ساتھ دشمنی نہیں ۔
ذاتی مفادات ،نوازشات اور جھوٹی انا کو پس پشت ڈال کر ملکی سا لمیت اور رٹ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ مثلاً 9 مئی 2023 کو پورے ملک میں جلاؤ گھراؤ ہوا ۔ فوجی تنصیبات پر واضع حملے ہوئے ۔ فخرے پاکستا ن کرنل شیر خان کے مجسمے کی بے حرمتی کی گئی ۔ ان واقعات کو پورے ملک میں زندہ چینل پر دیکھا گیا ۔ اگر عدلیہ اندھی ہے تو کیا پارلیمنٹ گ۔ن۔و ہے ؟ ملکی سلامتی کے لئے کسی مصلحت کو نہیں دیکھنا چاہیئے ۔
سر عام کنٹینر پر بجلی کے بلوں کو آگ لگائی گئی ۔ کیا یہ ملک کے ساتھ بغاوت نہیں ۔اور ساتھ نعرے لگائے گے بل جمع نہیں کروانے جو بل پوچھنے آئے اسے مارو۔ حکومتی رٹ کہاں ہے۔ تو کیا پارلیمنٹ گ۔ن۔و ہے؟ سائفر آیا ۔ جسے جلسوں میں لہرایا گیا ۔ہمیں بتا یا گیا کہ ملک کے ساتھ غداری ہے ۔بین الاقوامی سطح پر ملک کا نقصان ہو ا ہے۔ مگر جس نے یہ کیا ہے اسے دیسی بکرے دیسی گھی میں پکا کر کھلائے جا رہے ہیں ۔کیس عدالت میں آیا عدالت نے کہا یہ کوئی کیس ہی نہیں ۔
چھوٹا سا ایک واقعہ لطیفے کے طور پر ۔ وارث مریض کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گئے ۔ ڈاکٹر نے کہا مریض مر چکا ہے ۔ مریض نے کہا ڈاکٹر صاحب میں زندہ ہوں ۔ اسرار پر ڈاکٹر صاحب نے کہا ڈاکٹر میں ہوں یا آپ ۔ موصوف مان رہا ہے کہ سائفر آیاکالے بھونڈ کہہ رہے ہیں کہ نہیں آیا ۔ پارلیمنٹ کے لئے شرم کا مقام ہے ۔ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی جا رہی ہے ۔ کہ آئی ،ایم، ایف سے کو ئی سہولت مل جائے ۔ اس کے بر عکس امریکا میں ایک کمپنی فینٹن 25000ڈالر پر ہائر کی گئی ۔کہ پاکستان کوآئی ایم ایف کی اس سہولت سے محروم رکھا جائے یہ آپ کے پیسے واپس نہیں کریں گے۔ حکومتی رٹ ۔ تو کیا پارلیمنٹ گ۔ن۔و ہے؟ سب سے بڑی بات فارن فنڈنگ کیس جب اطہر من اللہ (کالا پونڈ) اسلام آباد ہائی کورٹ میں تھے ۔ تو وکیل سے پوچھا وکیل صاحب آپ کے موکل پر کیس چندہ جمع کرنے کا نہیں بلکہ غیر قانونی طریقے سے ممنوعہ لوگوں سے پیسے لینے کا ہے جن میں ہندوستان سے 26 لاکھ ڈالر اور اسرائیل سے 29 لاکھ ڈالر آئے۔ اس کے علاوہ اور بھی ہیں لمبا کیس ہے جو اکبر ایس بابر جیت بھی چکے ہیں ۔لیکن حکومتی رٹ کہاں ہے ۔ کیوں عمل نہیں ہو سکا ۔ پچھلے دنوں خبر آئی جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری جعلی ہے ۔ وہ آج تک اپنی سیٹ پر براجمان ہیں ۔ کیاملک کی تباہی تک مصلحتوں سے کام لیا جائے گا ۔ تو کیا پارلیمنٹ گ۔ن۔و ؟؟؟؟؟
عابد خان لودھی








