- Advertisement -

مداوائے آلام ہو جائے گا

کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل

مداوائے آلام ہو جائے گا
تو کیا دل ترا کام ہو جائے گا

اگر میں یونہی خاک اُڑاتا رہا
یہ رستا مرے نام ہو جائے گا

یہی زندگی ہے تو کیا سوچنا!
جو ہونا ہے انجام ہو جائے گا

سلامت رہے تیرا شوقِ سفر
مسافر ترا کام ہو جائے گا

اگر اُٹھ گیا دل تو سنّاہٹا
لباسِ در و بام ہو جائے گا

کسے یہ خبر تھی کہ کاشف حسین
یہ قصّہ ترا عام ہو جائے گا

کاشف حسین غائر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل