آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزسیمیں کرن

پچاس برس کے بعد

ایک اردو تحریر از سیمیں کرن

اک آئینہ ہے جس میں میرے خال و خد بڑے واضح ہیں ان پہ ابھی گزرے برسوں کی دھول نہیں جمی۔ اتنی نہیں جمی جتنی جم جایا کرتی ہے۔ یہ شاید آسودگی ہے، آگہی ہے یا دور حاضر کی سہولیات کا ثمر کہ اب بدن بہت جلدی خاک نہیں ہوتے۔
یہ عکس مجھ سے سرگوشیاں کرتا ہے آؤ مجھے دیکھو مجھے کھوجو میرے جمال کو محسوس کرو۔ یہ عکس مجھے کہتا ہے ابھی چہرے کے نقوش تنے ہیں، آنکھوں میں چمک ہے اور عدسے ابھی دھندلے نہیں پڑے جہاں کچھ دھند ہے وہاں نفیس سی عینک شخصیت کا وقار بن کر ابھرتی ہے۔ ابھی رنگ بہار بن کر کھلتے ہیں، ابھی بدن میں چستی ہے کچھ فربہی گزشتہ برسوں کی دین ہے مگر یہ ایسی نہیں کہ اس عکس کو اتنا مسخ کردے کہ پہچانی نہیں جاتی میری صورت کی مثل ٹھہرے۔

مگر عکس جو مجھ سے یہ سرگوشیاں کر رہا تھا کچھ شور سن کر دھندلا پڑ گیا ہے۔ یوں جیسے صدمے اور دکھ سے پیلا پڑ گیا ہو جیسے آئینے پہ کسی نے پتھر دے مارا ہو۔ ہاں پتھر ہی تو تھے جو پچاس برس کو ہدف بنا کر برسائے گئے تھے۔

کسی نے مجھے ایسٹروجن کی کمی کا طعنہ دے کر جھریوں اور چائے خانے میں پہنچا دیا، میری شخصیت کا جمال، ہنر، صلاحیت، خدمت، محبت سب پس پشت اور ایسٹروجن کے باٹ میں تلتی عورت صدیوں کی پدرشاہی میں حصول مقصد کا ذریعہ بنائی عورت محض ایک ٹول ٹھہری اس کا تمسخر اڑا کر اسے اس کی اوقات بتانے کی کوشش کی گئی۔ اور کہیں یہ عکس اس دکھ کی شدت سے تڑخ گیا کہ اسے ٹیسٹرون اور تناؤ کی کمی کا پتھر مار مار کر عمر بھر کی ریاضت کو خاک میں ملا دیا گیا۔

انسانیت کا طویل سفر ہے آئینہ ہے آئینے میں، دھندلا عکس مجھ سے شکوہ کناں ہے، مجھ سے دھیرے دھیرے سرگوشیاں کرتا ہے۔

کیا پچاس برس کے بعد مجھے جینے کا، ہنسنے کا، گانے کا، سفر کرنے کا، تخلیق کرنے کا حق حاصل نہیں؟

یہ عکس صاف کہتا ہے میں ان کی بات نہیں کرتا جو اِن دھول اڑاتی راہوں میں زندگی کا بوجھ لیے بوڑھے ہی جنمے تھے اور جواں ہونے سے پہلے ہی مر گئے ان کا مقدمہ پھر سہی۔ بات ان کی کیجیے جو اب پچاس برس کے بعد بھی جواں سال جواں اور پر عزم ہیں انہیں جینے کے حق سے صرف اس لیے محروم کر دیا جائے کہ زندگی کے دائرے نے پچاس کا ہندسہ دیکھ لیا ہے؟

کیا انسانوں کو برسوں کے اس پیمانے اور دو ہارمونز میں تولنے والے خود کو بدستور معزز اور قابل احترام بھی ٹھہرا پائیں گے؟ کیا وہ اس پہ معذرت طلب کریں گے؟

میں اور میرے پچاس برس۔ اور جو پچاس برس کے بعد
گیت خودبخود میرے گلے سے ابل پڑیں تو،
میرے ہاتھ مصور بن جائیں،
مرا قلم تلوار ہو جائے۔

میں بدن کی کچھ بوسیدگی و شکستگی سے شکست ماننے سے انکار کردوں تو کیا یہ حق مجھے حاصل نہیں ہے؟

کیا پچاس برس کے بعد آئینہ مجھے کہے کہ
تم اب بھی حسین دکھتے ہو،
تمھاری آنکھیں غزال ہیں،
تمھارے لب غنچہ دہن،
بدن ابھی بھی کسا ہے،
چاق و چوبند ہو

کیوں مصنوعی سرمئی رنگ طاری کرتے ہو اگر زندگی کی ذمہ داریوں نے کچھ فراغت دی ہے تو کچھ گھڑیاں اپنے لیے بھی جی لو تو کیا پچاس برس کے بعد مجھے اپنے لیے جینے کی اجازت ملے گی؟ کیا پچاس برس کے بعد میرے دل کو دھڑکنے کی اجازت ہے؟ کیا کوئی یا کچھ لوگ مجھے میرے فن، میری تخلیق، میری شخصیت کی جاذبیت، مری روح، مری ان برسوں میں کمائی کسی ریاضت کے سبب ایک گھنا سایہ دار پیڑ سمجھ کر مجھ سے محبت کر سکتے ہیں؟ کیا پچاس برس کے بعد مجھے کوئی اعزاز دیا جا سکتا ہے۔

کیا میں محض ایک ہی ہارمون ہوں
کیا میں صرف ایسٹروجن کی کمی بیشی کا نام ہوں
یا میں محض ٹیسٹرون کے تناؤ اور کرختگی کا عنوان ہوں؟
کیا حضرت انسان کا فارمولا بس انہی دو ہارمون کی مار ہوا کرتا ہے؟
کیا محض پچاس برس۔ اور بس۔

اور جو پچاس برس کے بعد بھی سب کچھ صحیح ہو تو کیا مجھے جینے کی اجازت ملے گی؟ پچاس برس گزر جانے کے بعد بھی اک نوخیز سا لڑکا اک الہڑ سی لڑکی میرے اندر ابھی بھی پوری توانائی سے بستی ہے جس کے رخسار اپنی تعریف پہ گلابی پڑتے ہیں پلکیں جھک جاتی ہیں جسے رقص، موسیقی، کتابیں، اچھی فلم، ڈرامہ من بھاتے ہیں۔ جسے سفر کرنا بہت اچھا لگتا ہے جس کے اندر بچوں جیسا تجسس اور کھوج ہے دنیا کو جاننے کی کیا اس کو زندہ رکھنے کی اجازت ہے، میرے حضور؟

ہاں پچاس برسوں میں اگر میں نے اپنے جیون ساتھی کو کھو دیا تو کیا مجھے سماج کے ٹھیکیدار اجازت دیں گے کہ میں کہیں پڑاؤ ڈال لوں کوئی گھونسلہ بنا لوں یا کسی کو میری ان دیکھی جھریاں یاد آئیں گی، لذت کے باب کھولنے کو مجھے چائے خانے کی سیڑھیاں چڑھائی جائیں گی یا میرے تنے ہوئے جسم کو زیر بحث لایا جائے گا؟

وہ پوچھنا یہ تھا کہ میرے بدن کو صدیوں بوسیدہ پیمانوں اور محاوروں میں تولنے والے کیا آج جدید تکنیک کے ہر دروازے دوا دارو سے لے کر سوشل میڈیا تک کے سفر کو فراموش کر چکے؟ گر نہیں تو سائنس کی جدید ترین ریسرچ ایگزوسوم یا سٹیم سیلز کے بارے میں کیا خیال ہے جو کسی معجزے جیسا ہے ویسا ہی معجزہ جو معجزوں کے رب نے ضعیف سارہ کو اسحاق جیسے بیٹے کی خوشخبری دے کر کیا تھا اور وہ کسی نوجوان لڑکی کی طرح کھلکھلا کر ہنسی تھیں۔

پچاس برس کے بعد ساٹھ ستر اسی اور نوے برس کے لوگ پھر کیا انسانوں اور جیون کے ہر حق سے باہر سمجھ لیے جائیں؟

اچھا وہ جو عبادتوں ریاضتوں سیاحتوں خدمت خلق سے بدن سیرٹونون سے بھر جاتا ہے اسے کہاں رکھیے گا؟ یہ جو سب تخلیق کار، فنکار، ڈوپامین سے بھرے ہوتے ہیں اور ہر دوسری احتیاج سے جیسے عاری ہو جاتے ہیں اس کا جواز کون دے گا۔ وہ تخلیق، وہ فن، وہ قلم، وہ رنگ، وہ برش، وہ پیڑ جس پہ عین جوانی اور بے مثل بہار پچاس کے بعد ہی آیا کرتی ہے۔

پچاس برس کے بعد اگر آئینہ مجھے چلا کر کہے کہ تم اب بھی مصور کی حسین مورت ہو تو کیا خود پہ تیزاب پھینک لوں؟

میں جو کسی جمال کل کے جمال کا اظہار ہوں کیا مجھ پہ یہ وقت بھی آنا تھا کہ مجھے محض ایک عضو سمجھا جائے گا۔

سمجھنے والے خود کو دانشور سمجھتے ہیں، حقوق کا چمپئن سمجھتے ہیں۔ مگر ان سے یہ کون پوچھے گا کہ مسوجنی اور تانیثت کے اوپر ایک بہت بڑا دائرہ ہے جو انسانیت کا ہے جہاں انسان پچاس برسوں میں اور محض دو ہارمونز میں تولے نہیں جاتے۔

انسان اچھے ہوتے ہیں یا پھر برے ہوتے ہیں۔ وہ پچاس برسوں کے بعد بھی انسان ہوتے ہیں، خوبصورت ہوتے ہیں، محبت اور احترام کے لائق ہوا کرتے ہیں۔

سیمیں کرن

post bar salamurdu

سیمیں کرن

تعارف ۔۔اصل نام سمیرہ کرن ۔قلمی نام سیمیں کرن ،تعلیم ایم اے ایل ایل بی ۔۔چار افسانوی مجموعے شجر ممنوعہ کے تین پتے ،بات کہی نہیں گئی،مربعوں کی دائرہ کہانی ،سوئی ہوئی لڑکی ، دو ناول ۔خوشبو ہے تو بکھر جائے گی اک معدوم کہانی ۔۔تیسرا ناول زیر طبع ۔۔ کالمز کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ستر- اسی تجزیاتی مضامین ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button