آپ کا سلاماردو غزلیاتدانش نقویشعر و شاعری

تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں

دانش نقوی کی ایک اردو غزل

تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں
میں تیرے بارے فرشتوں کی طرح سوچتا ہوں

جی میں آتا ہے لپٹ جاوں در و بام کے ساتھ
گھر پہنچتا ہوں تو بچوں کی طرح سوچتا ہوں

میرے سینے میں امانت ہے کسی روشنی کی
شام کے وقت چراغوں کی طرح سوچتا ہے

تیری مرضی ہے مجھے جیسا سمجھ لے لیکن
میں تیرے بارے درختوں کی طرح سوچتا ہوں

اک یہی بات تو اچھی ہے میرے سوچنے میں
آپ ویسا نہیں جیسوں کی طرح سوچتا ہوں

ٹھوکریں کھائی، گرا، سر لگا دیواروں میں
میں اسے آج بھی اندھوں کیطرح سوچتا ہوں

دانش نقوی

post bar salamurdu

دانش نقوی

دانش نقوی آبائی گھر گڑھ مہاراجہ حاضر سکونت خانیوال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button