اردو غزلیاتبہزاد لکھنویشعر و شاعری

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا

بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا
خود دل کو بے قرار کیا ہائے کیا کیا

معلوم تھا کہ عہد وفا ان کا جھوٹ ہے
اس پر بھی اعتبار کیا ہائے کیا کیا

وہ دل کہ جس پہ قیمت کونین تھی نثار
نظر نگاہ یار کیا ہائے کیا کیا

خود ہم نے فاش فاش کیا راز عاشقی
دامن کو تار تار کیا ہائے کیا کیا

آہیں بھی بار بار بھریں ان کے ہجر میں
نالہ بھی بار بار کیا ہائے کیا کیا

مٹنے کا غم نہیں ہے بس اتنا ملال ہی
کیوں تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا

ہم نے تو غم کو سینے سے اپنے لگا لیا
غم نے ہمیں شکار کیا ہائے کیا کیا

صیاد کی رضا یہ ہم آنسو نہ پی سکے
عذر غم بہار کیا ہائے کیا کیا

قسمت نے آہ ہم کو یہ دن بھی دکھا دیئے
قسمت پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا

رنگینئ خیال سے کچھ بھی نہ بچ سکا
ہر شے کو پر بہار کیا ہائے کیا کیا

دل نے بھلا بھلا کے تری بے وفائیاں
پھر عہد استوار کیا ہائے کیا کیا

ان کے ستم بھی سہہ کے نہ ان سے کیا گلہ
کیوں جبر اختیار کیا ہائے کیا کیا

کافر کی چشم ناز پہ کیا دل جگر کا ذکر
ایمان تک نثار کیا ہائے کیا کیا

کالی گھٹا کے اٹھتے ہی توبہ نہ رہ سکی
توبہ پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا

شام فراق قلب کے داغوں کو گن لیا
تاروں کو بھی شمار کیا ہائے کیا کیا

بہزادؔ کی نہ قدر کوئی تم کو ہو سکی
تم نے ذلیل و خوار کیا ہائے کیا کیا

بہزاد لکھنوی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button