آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو ! ہر اہل ایمان مسلمان اس وقت اسلامی کلینڈر کے دوسرے مہینے یعنی صفر المظفر کے مہینے کی بہاریں لوٹنے میں مصروف عمل ہے کیونکہ اس مبارک مہینہ میں جہاں بیشمار بزرگان دین کا یوم وصال منایا جاتا ہے وہاں امام اہلسنت مجدد دین و ملت حضرت علامہ مولانا مفتی امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی برکاتی قادری رحمتہ اللہ علیہ کا وصال کم و بیش 25 صفر کو ہوا اور بریلی شریف سمیت پورے ہندوستان ، پاکستان اور جہاں جہاں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے چاہنے اور ماننے والے موجود ہیں ہر سال بڑی شان و شوکت کے ساتھ ان کا عرس منایا جاتا ہے اتنے بڑے مقام کی حامل شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا لیکن آج کی تحریر میں میری کوشش ہوگی کہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے بارے میں مختصر کچھ باتیں اور ان کے مرتبے اور مقام کو ظاہر کرنے کی غرض سے ان کے بارے میں ایک اہم واقعہ تحریر کرنے کی سعادت حاصل کروں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت میری اس چھوٹی سی کاوش کو اپنی بارگاہ میں اپنے حبیب کریم ﷺ سے صدقہ و طفیل قبول و منظور فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہر ولی کی طرح امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ بھی اللہ تعالیٰ کے خوف اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنے ہر ہر عمل میں نظر آتے تھے اب چاہے وہ کوئی منکر خدا ہو یا حضور ﷺ کی ناموس کی کوئی بات ہو شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جہاں آپ نے قلم نہ اٹھایا ہو آپ علیہ الرحمہ دنیا کی وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں دنیا کے ہر موضوع پر اتنی مہارت تھی جتنی کسی سائنسدان کو سائینس سے بھی نہ ہوگی ایک ایک نقطے پر کئی کئی جلدوں پر کتابیں لکھ کر ان میں دلائلوں کے انبار لگا دینا صرف اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا ہی خاصہ ہے یہ ہی نہیں عام آدمی کے لیئے وہ انتہائی شفیق اور نرم مزاج رکھنے والے تھے غریبوں کی دادرسی کرنا ان کی پریشانیوں کو دیکھ کر ان کا فوری طور پر حل نکالنا آپ علیہ الرحمہ کی عادت مبارکہ میں شمار تھا ہر سال جب سردی شروع ہوتی تو اپنی جیب خاص سے پیسے نکال کر اپنے صاحبزادگان سے فرماتے کہ اتنے کمبل اور اتنی رضائیاں خرید کر غریبوں میں تقسیم کردو ایک دفعہ آپ علیہ الرحمہ کو ایک خاص چاہنے والے نے بہت ہی خوبصورت ، ریشمی اور گرم چادر یا شال پیش کی اور عرض کیا کہ یہ میں خاص طور پر آپ علیہ الرحمہ کے لیئے لایا ہوں سردی ہے پہن لیجیئے لہذہ آپ علیہ الرحمہ نے اس کی محبت کا مان رکھتے ہوئے اسے پہن لی اور وہ خوش ہوگیا لیکن جب آپ علیہ الرحمہ اس شال کو پہن کر باہر تشریف لے گئے تو ایک غریب شخص سردی میں ٹھٹرتا ہوا آپ علیہ الرحمہ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور عرض کیا کہ میرے گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور سردی سے بچائو کے لیئے کچھ بھی نہیں ہے یہ سن کر آپ علیہ الرحمہ نے اسی وقت خادموں کو حکم دیا کہ اس کے گھر جاکر سردی سے بچائو کا جو انتظام ہوسکے وہ کریں یہ ہی نہیں بلکہ وہ ریشمی اور گرم شال جو آپ علیہ الرحمہ کو تحفے میں ملی تھی وہ بھی اس غریب شخص کو پہنادی اور وہاں سے رخصت ہوگئے ۔ یہ تھی اعلی حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کا اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے خیال رکھنے کا جذبہ اور کسی کو تکلیف میں دیکھ کر کچھ کر گزرنے کا جذبہ یہ خوبیاں ہمیں اپنے بیشمار اسلاف میں نظر آتی ہیں بات ہے انہیں پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اسی طرح جب امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے وصال کا وقت جب قریب تھا تو آپ علیہ الرحمہ نے اپنے بڑے صاحب زادے
حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ
کو بلایا اور وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے جیب خاص سے رقم نکال کر میرے کفن دفن کا انتظام کیا جائے اور فرمایا کہ میرے انتقال پر سوئم پر یا دسویں چالیسویں پر صرف غرباء میں کھانا کھلایا جائے اور ایک لمبی فہرست آپ علیہ الرحمہ نے لکھوائی اور فرمایا کہ وہ وہ ڈشیں بنوانا جو غریبوں نے کبھی سنی بھی نہ ہوں یا صرف دیکھی ہوں کھانے کی توفیق ہی نہ ملی ہو اس میں ہر قسم کے گوشت سے تیار ہونے والی ڈشیں ہر قسم کی میٹھی ڈشیں ہر قسم کا ٹھنڈا تاکہ غریبوں کا دل سکون پائے اور میری یہ تمنا پوری ہوسکے مایہ ناز باورچیوں کی خدمات حاصل کرکے انتہائی لذیذ کھانا تیار کروانا اور ایک وسیع دسترخوان بچھا کر غریبوں کو بٹھاکر خود اپنے ہاتھوں سے کھانا تقسیم کرنا یہ میری وصیت ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ تو میں نے حضور مفتی امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کی غریبوں کے لیئے ہمدردی اور دلی جذبہ کی بات بتارہا تھا اب آئیے ان کے منصب ان کے مقام و مرتبہ اور ان کی شان و عظمت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دل موہ لینے والا واقعہ تحریر کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں جسے پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ میرے امام اللہ تعالیٰ اور اس حبیب کریم ﷺ کے کتنے محبوب اور پسندیدہ شخص تھے ۔
استاد العلماء مفسر اعظم صدر الأفاضل حضرت علامہ مولانا مفتی سید نعیم الدین قادری مرادآبادی
علیہ الرحمہ
ملک العلما، فاضل بہار، مولانا سید محمد ظفر الدین قادری برکاتی رضوی علیہ الرحمہ اور
صدر الشريعہ مفتى محمد امجد على اعظمى علیہ الرحمہ
یہ تینوں شخصیات کسی تعارف کی محتاج نہیں اور یہ تینوں شخصیات امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے خلفاء میں شامل تھے اور ہر تدریسی کاموں میں آپ علیہ الرحمہ کے ساتھ ساتھ رہتے اور رات کو دیر تک وہ سلسلہ جاری و ساری رہتا حضور مفتی سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ فرماتے کہ اکثر ایسا ہوتا کہ کتابیں کھلی ہوئی ہیں مختلف کتابوں کی ترتیب کا کام چل رہا ہے اور اچانک امام کہتے کہ بس اب اٹھو اور جائو باقی کام کل کریں گے ہم کہتے کہ حضور ابھی تو کام بھی ادھورا ہے اور بیشمار کتابیں بھی کھلی ہوئی ہیں تو فرماتے کہ کوئی بات نہیں بس اب تم لوگ جائو اور کل آنا حضور مفتی نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ فرماتے کہ یہ اکثر و بیشتر ہوتا اور ہمیں جلدی سے وہاں سے نکلنا پڑتا لیکن جب یہ معاملہ کچھ زیادہ ہونے لگا تو ہم تینوں نے سوچا کہ کیوں نا اس بات کی تہہ تک جایا جائے کہ آخر معاملہ کیا ہے لہذہ اب ہم اس دن کا انتظار کرنے لگے کہ کب ہمیں اچانک دوران تدریس جانے کا حکم ہوگا اور ہم اپنا کام کریں پھر وہ دن بھی آیا کہ جب اچانک ہمیں یہ حکم ملا ہم باہر نکل گئے امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے دروازہ بند کیا اور اندر اندھیرا ہوگیا اب ویسے تو کسی کا راز افشاں کرنا شرعی طور پر ممنوع ہے اور اس طرح کسی کی جاسوسی کرنا بھی مناسب نہیں تھا لیکن پھر ہم نے سوچا کہ خدا نخواستہ ہمارا اس کام کے پیچھے نہ تو دنیاوی مقصد ہے اور نہ کسی کو نقصان پہنچانے کی تدبیر ہم تو صرف یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ پھر اچانک اندر روشنی ہوئی اور محسوس ہوا کہ اندر پورا کمرہ ایک عجیب روشنی سے منور ہوگیا فرمایا کہ بعض لکڑی کے دروازوں میں باریک باریک سوراخ ہوتے ہیں اسی طرح کا ایک سوراخ جب ہمیں نظر آیا تو ہم نے دیکھا کہ کوئی لیٹا ہوا ہے اور امام ان کے پائوں دبارہے ہیں بس پھر ہم لوگ تھوڑی دیر تک کھڑے رہے کمرے میں اندھیرا ہوگیا اور امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے چراغ جلایا اور کمرے کا دروازہ کھولا لیکن ہمیں دیکھ کر کہنے لگے کہ تم لوگ یہاں کیا کررہے ہو تو حضور مفتی نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ نے عرض کیا کہ ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آخر یہ کونسی ہستی ہیں جو آپ علیہ الرحمہ سے ملنے آئیں تھی لیکن امام نے منع فرمایا کہ میں نہیں بتا سکتا مگر وہ بھی بضد تھے کہ آج ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک آپ علیہ الرحمہ ہمیں بتا نہیں دیتے یہ سن کر امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے اور اس قدر برسے کے آپ علیہ الرحمہ کی داڑھی مبارک بھی تر ہوگئی فرمانے لگے کہ تم لوگ تو مجھ سے پوچھتے ہو لیکن مجھے بھی تو کسی سے پوچھنا پڑے گا پھر آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ یہ اور کوئی نہیں سردار اولیاء ہم سب کے مرشد ہم سب کے سر کے تاج شہنشاہ بغداد حضور شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی ذات اقدس تھی جو کبھی کبھار تشریف لے آتے ہیں مجھے کچھ خدمت کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں کچھ نصیحت و وصیت بھی فرماتے ہیں تو میں پھر سے تازہ دم ہوجاتا ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آپ لوگ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے مقام و مرتبہ کو اس واقعہ سے پہچان لیا ہوگا کہ جن سے ملاقات کے لیئے سردار اولیاء شہنشاہ بغداد حضور شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جیسے عظیم المرتبت ہستی خود تشریف لاتے اور ان کو اللہ رب العزت کی عطا سے ملنے والے نور کی چھما چھم برسات برسا کر چلے جاتے اور پھر کئی روز تک اس نور کی چمک آپ علیہ الرحمہ کے دل میں چمکتی رہتی اور آپ علیہ الرحمہ اسی تازگی سے دوبارہ منکر خدا منکر رسول ﷺ اور دین کے خلاف باتیں کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیکر ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے خاموش کروادیا کرتے تھے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں معروف اردو ویب سائٹس” ہماری ویب ڈاٹ کام ” ” ہماری آواز ”
اور سلام اردو جیسے پلیٹ فارمز پر میں نے پہلے بھی امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے بارے میں آرٹیکل لکھے ہیں جو ان ویب سائٹس کی زینت بن چکے ہیں چونکہ اس مہینہ یعنی صفر المظفر کے مہینے کو اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے نسبت ہے اس لیئے ایک قلمکار ہونے اور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے چاہنے والے کی حیثیت سے اس آرٹیکل کے ذریعے میں نے اپنا کچھ حصہ ڈالنا مناسب سمجھا اور اسی لیئے ایک مختصر مضمون لیکر حاضر ہوگیا آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف برکاتی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button