آپ کا سلاماردو غزلیاتشجاع شاذشعر و شاعری

سانس لیتا وہ سمندر موت کا تھا

شجاع شاذ کی ایک اردو غزل

سانس لیتا وہ سمندر موت کا تھا
ڈوبتے سورج میں منظر موت کا تھا

بین کرتی تھیں مری تنہائیاں بھی
میں جہاں رہتا تھا وہ گھر موت کا تھا

کائناتیں مجھ میں گُم ہونے لگی تھیں
ایک سناٹا سا اندر موت کا تھا

پی لیا تھا زہر رس اُس سیپ نے بھی
پیٹ میں اب اس کے گوہر موت کا تھا

زندگی جس پر سکوں سے سو رہی تھی
مجھ کو حیرت ہے وہ بستر موت کا تھا

شاذؔ کیا بنتا کسی کی زندگی میں
جو ملا مجھ کو مقدر موت کا تھا

شجاع شاذ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button