- Advertisement -

Nafsiyati Mutalya

An Urdu Afsaana By Saadat Manto

نفسیاتی مطالعہ

مجھے چائے کے لیے کہہ کر، وہ ان کے دوست پھر اپنی باتوں میں غرق ہو گئے۔ گفتگو کا موضوع، ترقی پسند ادب اور ترقی پسند ادیب تھا۔ شروع شروع میں تو یہ لوگ اردو کے افسانوی ادب پر طائرانہ نظر دوڑاتے رہے۔ لیکن بعد میں یہ نظر گہرائی اختیار کرگئی اور جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے، گفتگو گرما گرم بحث میں تبدیل ہو گئی۔ میرے شوہر، ترقی پسند ہیں نہ رجعت پسند، لیکن بحث پسند ضرور ہیں، چنانچہ اپنے دوستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ گرمجوش وہی نظر آتے تھے۔ وہ اس اندیشے کے یکسر خلاف تھے کہ پاکستان میں ترقی پسند ادب کا مستقبل تاریک ہے۔ بحث کے دوران میں ایک مرتبہ انھوں نے بالکل

’’تم آج شام کو ساڑھی پہنوگی‘‘

کے سے فیصلہ کن انداز میں اپنے دوست حبیب سے کہا۔

’’تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں ترقی پسند ادب کی تحریک زندہ رہے گی۔ ‘‘

حبیب صاحب فوراً سر تسلیم خم کردینے والے نہیں تھے، چنانچہ بحث جاری رہی، اور جب میں چائے تیار کرنے کے لیے اٹھی تو حفیظ اللہ صاحب جن کو سب اُلاّ کہہ کر پکارتے تھے پچیسواں سگریٹ پھونکتے ہوئے ترقی پسند ادب پر کریملن کے اشتمالی اثر کو غلط ثابت کرنے کی کوشش شروع کرنے والے تھے۔ میں اٹھ کر باورچی خانے میں آئی تو نوکر غائب تھا اور چائے کا پانی چولہے پر دھرا بالکل غارت ہو چکا تھا۔ میں نے کیتلی کا پانی تبدیل کیا اور باہر نکل کر نوکر کو آواز دی۔ وہ جب آیا تو اس کے ہاتھ میں

’’اداکار‘‘

کا پرچہ تھا جس کے سرورق پرمنورما کی نیم برہنہ تصویر چھپی ہوئی تھی۔ میں نے جھڑک کر پرچہ اس کے ہاتھ سے لیا۔

’’جب دیکھو واہیات پرچے پڑھ رہا ہے۔ چائے کا پانی ابل ابل کر تیل بن چکا ہے اس کا کچھ خیال ہی نہیں۔ جاؤ، پیسٹری لے کر آؤ۔ منٹا منٹی میں آنا۔ ‘‘

میں نے پرس میں سے ایک پانچ کا نوٹ اس کو دیا اور باورچی خانے میں لوہے کی کرسی پر بیٹھ کر

’’اداکار‘‘

کی تصویریں دیکھنا شروع کردیں۔ تصویریں دیکھ چکنے کے بعد میں سوال جواب پڑھ رہی تھی کہ پیسٹری آگئی۔

’’اداکار‘‘

کا پرچہ میز پر رکھ کر میں نے سب دانے الگ الگ طشتریوں میں چنے اور نوکر سے یہ کہہ کر وہ دودھ گرم کرکے جلدی چائے لے آئے، واپس بڑے کمرے میں چلی آئی۔ جب اندر داخل ہوئی تو وہ اور ان کے دوست قریب قریب خاموش تھے۔ میں سمجھی، شاید ان کی گفتگو ختم ہو چکی ہے لیکن اُلاّ صاحب نے اپنے موٹے موٹے شیشوں والی عینک اتار کر رومال سے آنکھیں صاف کرکے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’بھابی جان سے پوچھنا چاہیے۔ شاید وہ اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں؟‘‘

میں کرسی پر بیٹھنے والی تھی۔ یہ سن کر قدرے رک گئی۔ اب حبیب صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے۔

’’تشریف رکھیے!‘‘

میں بیٹھ گئی۔ میرے شوہر اپنی جگہ سے اٹھے اور بالکل

’’اس کو سینا پرونا نہیں آتا‘‘

کے سے انداز میں اپنے دوست اُلاّ سے کہا۔

’’یہ اس معاملے پر کوئی روشنی نہیں ڈال سکتی۔ ‘‘

’’پوچھنا مجھے تھا۔ ‘‘

حبیب صاحب نے ان سے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

حسب عادت میرے شوہر گول کر گئے۔

’’بس۔ !‘‘

پھر مجھ سے مخاطب ہوئے

’’چائے کب آئے گی؟‘‘

میں نے مسکرا کر جواب دیا۔

’’جب آپ مجھ سے روشنی ڈالنے کے لیے کہیں گے۔ ‘‘

اُلاّ صاحب نے چشمہ ناک پر جمایا اور تھوڑا سا مسکرائے۔

’’بات یہ ہے بھابی جان کہ۔ وہ ہیں نا آپ کی۔ میرا مطلب ہے۔ ‘‘

حبیب صاحب نے ان کی بات کاٹ دی۔

’’اُتے، خدا کی قسم تمہیں اپنا مطلب سمجھانے کا سلیقہ کبھی نہیں آئے گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے۔

’’آپ یہ فرمائیے کہ آپ کا اپنی سہیلی بلقیس جہاں کے متعلق کیا خیال ہے؟‘‘

سوال بڑا اوندھا سا تھا۔ میں جواب سوچنے لگی۔

’’میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی۔ ‘‘

اُلاّ صاحب نے حبیب صاحب کی پسلیوں میں اپنی کہنی سے ایک ٹھونکا دیا۔

’’بھئی واللہ، اپنا مطلب واضح طور پر سمجھانے کا سلیقہ ایک فقط تمہیں ہی آتا ہے۔ ‘‘

’’ٹھہرو یار‘‘

حبیب جھنجھلا گئے۔ انھوں نے ٹائی کی گرہ ٹھیک کی اور جھنجھلاہٹ دور کرتے ہوئے مجھ سے کہا۔

’’ابھی ابھی بلقیس کی باتیں ہورہی تھیں۔ اردو کے موجودہ ادب میں اس خاتون کا جو رتبہ ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ان کا ایک خاص مقام ہے۔ افسانہ نگاری میں اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں وہ بہت آگے ہیں۔ جہاں تک نفسیات کے مطالعے کا تعلق ہے۔ ‘‘

حبیب صاحب جیسے یہ کہنے کے لیے بیتاب تھے۔

’’ان کا مطالعہ بہت گہرا ہے۔ ‘‘

’’خاص طور پر مردوں کی جنسی نفسیات کا۔ ‘‘

میرے شوہر نے اپنے مخصوص انداز میں کہا اور میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ حبیب نے مجھ سے مخاطب ہو کر میرے شوہر کے الفاظ دہرائے۔

’’جی ہاں خاص طور پر مردوں کی جنسی نفسیات کا۔ ‘‘

اور یہ کہتے ہوئے دو دفعتہً محجوب سے ہو گئے اور آنکھیں نیچی کرلیں۔ مجھے ان پر کچھ ترس آیا چنانچہ میں نے ذرا بیباکی سے کہا

’’آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘

اُلاّ صاحب خاموش رہے۔ ان کی جگہ حبیب بولے۔

’’چونکہ آپ بلقیس صاحبہ کی سہیلی ہیں، اس لیے ظاہر ہے کہ آپ ان کو بہت اچھی طرح جانتی ہیں۔ ‘‘

میں نے صرف اتنا کہا۔

’’ایک حد تک!‘‘

میرے شوہر نے کسی قدر بے چین ہو کہا۔

’’بیکار ہے۔ بالکل بیکار ہے۔ عورتیں راز کی باتیں نہیں بتایا کرتیں، خاص طور پر جب وہ خود ان کی اپنی صنف سے متعلق ہوں۔ ‘‘

پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے۔

’’کیوں محترمہ، کیا میں جھوٹ کہتا ہوں۔ ‘‘

میرا خیال ہے ایک حد تک درست کہہ رہے تھے، لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اتنے میں چائے آگئی اور گفتگو تھوڑے عرصے کیلیے

’’چائے کتنی۔ دودھ کتنا۔ شکر کتنے چمچ‘‘

میں تبدیل ہو گئی۔ اُلاّ صاحب پانچویں کریم رول کی کریم اپنے ہونٹوں پر سے چوستے ہوئے پھر بلقیس جہاں کی طرف لوٹے اور بلند آواز میں کہا۔

’’کچھ بھی ہو، یہ طے ہے کہ یہ محترمہ ہم مردوں کی جنسی نفسیات کو خوب سمجھتی ہے۔ ‘‘

ان کا روئے سخن ہم سب کی طرف کم اور ساری دنیا کی طرف زیادہ تھا۔ میں ان کا یہ فیصلہ سن کر دل ہی دل میں مسکرائی۔ کیونکہ کم بخت بلقیس، اُلاّ صاحب کی جنسی نفسیات خوب سمجھتی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ مجھ سے کہاتھا۔

’’تھپو۔ اگر یہ اُلاّ صاحب تمہارے شوہر نیک اختر کے دوست نہ ہوتے تو خدا کی قسم میں انھیں ایسے چکر دیتی کہ ساری عمر یاد رکھتے۔ اول درجے کے ریشہ خطمی انسان ہیں۔ اسٹریم لائنڈ عاشق۔ ‘‘

مجھے معلوم نہیں بلقیس نے اُلاّ صاحب کے متعلق یہ رائے کیسے قائم کی تھی۔ میں نے ان کی طرف غور سے دیکھا۔ عینک کے دبیز شیشوں کے پیچھے ان کی آنکھیں گڈمڈ سی ہورہی تھیں۔ اسٹریم لائنڈ عاشق کا کوئی خط مجھے ان کے چہرے پر نظر نہ آیا۔ میں نے سوچا ایسے معاملے جانچنے کے لیے ایک خاص قسم کی نگاہ کی ضرورت ہوتی ہے جو قدرت نے صرف بلی ہی کو عطا کی تھی۔ اُلاّ صاحب نے جب مجھے گھورتے دیکھا تو سٹپٹا سے گئے۔ چھٹے کریم رول کی کریم بہت بری طرح ان کے ہونٹوں سے لتھڑ گئی۔

’’معاف کیجیے گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر رومال سے اپنا منہ پونچھا۔

’’کیا آپ کی سہیلی بلقیس کے بارے میں میرا خیال غلط ہے۔ ‘‘

میں نے اپنے لیے دوسرا کپ بانا شروع کردیا۔

’’میں اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔ ‘‘

میرے شوہر ایک دم اٹھ کھڑے ہوئے اور بالکل

’’شلجم بن جلائے تم کبھی نہیں پکا سکتیں‘‘

کے سے انداز میں کہا۔

’’یہ اس بارے میں کبھی کچھ کہہ نہیں سکیں گی‘‘

میں نے غیر ارادی طور پر ان کی طرف دیکھا۔ بلی کی ان کے بارے میں یہ رائے تھی کہ بنتے بنتے بننے کے فن میں بڑی مہارت حاصل کرگئے ہیں۔ بے حد خشک ہیں اور یہ خشکی انھوں نے اپنے وجود میں ادھر ادھر سے ملبہ ڈال ڈال کر پیدا کی ہے بظاہر کسی عورت میں دلچسپی ظاہر نہیں کریں گے مگر ہر عورت کو ایک بار چور نظر سے ضرور دیکھیں گے۔ دفعتہً انھوں نے میری طرف چور نظر سے دیکھا۔ میں جھینپ گئی۔ اُلاّ صاحب اپنے ہونٹ تسلی بخش طور پر صاف کر چکے تھے۔ ایک پیٹس اٹھا کر وہ میرے شوہر سے مخاطب ہوئے۔

’’یار تمہاری بیگم صاحبہ نے تو ہمیں بہت بری طرح ڈس اپائنٹ کیا ہے۔ ‘‘

حبیب صاحب چائے کا آخری گھونٹ پی کر بولے

’’درست ہے۔ لیکن اس معاملے میں بیوی کے بجائے خاوند کسی حد تک رہبری کرسکتا ہے۔ ‘‘

اُلاّ صاحب نے پوچھا۔

’’تمہارا مطلب ہے، بلقیس صاحبہ کے بارے میں؟‘‘

’’جی ہاں‘‘

یہ کہہ کر حبیب صاحب اٹھے، میرے شوہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے۔

’’اپنی بیگم صاحبہ کے ذریعے سے آپ کو بلقیس کی عجیب و غریب شخصیت کے بارے میں کچھ نہ کچھ تو ضرور معلوم ہوا ہو گا۔ ‘‘

میرے شوہر نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا۔

’’صرف اسی قدر کہ اس کا مطالعہ کتابی نہیں‘‘

یہ کہہ کر انھوں نے مجھ سے پوچھا۔

’’کیوں سعیدہ؟‘‘

میں نے ذرا توقف کے بعد کہا۔

’’جی ہاں۔ اسے کتابوں کے مطالعے کا اتنا شوق نہیں!‘‘

میرے شوہر نے ایک دم سوال کیا۔

’’تم اس کی وجہ بتا سکتی ہو؟‘‘

مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں تھی، اس لیے میں نے اپنی معذوری ظاہر کردی لیکن میں سوچنے لگی کہ جب بلقیس کا کام ہی لکھنا ہے، پھر اسے پڑھنے سے لگاؤ کیوں نہیں۔ مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ نمائش میں گھومتے ہو ئے اس نے مجھ سے کہا تھا۔

’’بھپو، یہ نمائش نہیں ایک لائبریری ہے۔ زندہ اور متحرک کتابوں سے بھری ہوئی۔ غور تو کرو کتنے دلچسپ کردار چل پھر رہے ہیں۔ ‘‘

سوچتے سوچتے مجھے اس کی اور بہت سی باتیں یاد آگئیں۔ عورتوں کے مقابلے میں وہ مردوں سے کہیں زیادہ تپاک سے ملتی اور باتیں کرتی تھی۔ لیکن گفتگو کاموضوع ادب، شاذو نادر ہی ہوتا تھا، میرا خیال ہے کہ ادبی ذوق رکھنے والے مرد اس سے مل کر یقینی طور پر اس نتیجے پر پہنچتے ہوں گے کہ بہت غیر ادبی قسم کی عورت ہے، کیونکہ عام طور پر وہ گفتگو کا رخ لٹریچر کی طرف آنے ہی نہیں دیتی تھی، لیکن اس کے باوجود اس سے ملاقات کرنے والے بہت خوش خوش جاتے تھے کہ انھوں نے اتنی بڑی ادبی شخصیت کے ایک بالکل نئے اور نرالے پہلو کی جھلک دیکھ لی ہے۔ جہاں تک میں سمجھتی ہوں، بلی اپنی شخصیت کے اس بظاہر بالکل نئے اور نرالے پہلو کی جھلک خود دکھاتی تھی، بقدر ضرورت اور وہ بھی صرف اپنے ملاقاتیوں کے کردار کی صحیح جھلک دیکھنے کے لیے۔ میرے ساتھ اس کو اپنا یہ محبوب اور مجرب نسخہ استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی کیونکہ بقول اس کے

’’میں نے ایک نظر ہی میں تاڑ لیا تھا کہ تم بے حد سادہ اور چغد قسم کی لڑکی ہو۔ ‘‘

میں بے حد سادہ اور چغد قسم کی لڑکی تو نہیں ہوں۔ لیکن شاید بلی نے یہ رائے اس لیے قائم کی تھی کہ میں نے اس کی بحث پسند، ضدی اور اڑیل طبیعت کے پیش نظر اس سے راہ و رسم بڑھانے سے پہلے ہی اپنے دل میں فیصلہ کرلیا تھا کہ میں اس کی طبیعت کے خلاف بالکل نہ چلوں گی۔ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے بعض افسانے جو بڑے ٹھیٹ قسم کے جنسیاتی یا نفسیاتی ہوتے تھے، میری سمجھ سے عام طور پر اونچے ہی رہتے تھے۔ وہ اکثر ایسے افسانوں کے متعلق پوچھا کرتی تھی

’’کہو، بھپو، تم نے میرا فلاں افسانہ پڑھا۔ ‘‘

اور پھر خود ہی کہا کرتی تھی۔

’’پڑھا تو ضرور ہو گا، مگر سمجھ میں کیا آیا ہو گا۔ خاک۔ خدا کی قسم تم بے حد سادہ اور چغد قسم کی لڑکی ہو!‘‘

میں یہ افسانے سمجھنے کی کوشش ضرور کرتی، مگر مجھے اس بات سے بڑی الجھن ہوتی کہ بلی عورت ہوکر ایسی گہرائیوں میں کود جاتی ہے، جن میں اترنے سے مرد بھی گھبرائیں۔ میں نے کئی دفعہ اس سے کہا

’’تم کیوں ایسی باتیں لکھتی ہو کہ مرد بیٹھ کر تمہارے متعلق طرح طرح کی افواہیں اڑاتے ہیں۔ ‘‘

مگر اس نے ہر بار جواب کچھ اسی قسم کا دیا۔

’’اڑانے دو۔ میں ان کیڑوں کی کیا پروا کرتی ہوں۔ ایسی درگت بناؤں گی کہ یاد رکھیں گے!‘‘

وہ کتنے مردوں کی درگت بنا چکی تھی، اس کا مجھے کوئی علم نہیں، لیکن میرٹھ کے ایک ادھیڑ عمر کے شاعر جو دو سال تک اسے عشقیہ خط لکھتے رہے تھے اور جسے دو سال تک یہ شہہ دیتی رہی تھی، انجام کار سب کچھ بھول کر ایک بہت ہی خفیہ خط میں اس کو اپنی بیٹی بنانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ بلکہ یوں کہئے کہ مجبور کر دیے گئے تھے۔ اس نے مجھے ان کا آخری خط دکھایا تھا۔ خدا کی قسم مجھے بہت ترس آیا تھا بیچارے پر۔ اُلاّ صاحب دوسرا پیٹس ختم کر چکے تھے۔ حبیب صاحب تفریحاً خالی پیالی میں چمچ ہلا رہے تھے۔ میں اٹھ کر چائے کے برتن جمع کرنے لگی تو اُلاّ صاحب نے رسمیہ طور پر کہا۔

’’اتنی نفیس چائے کا بہت بہت شکریہ۔ مگر یہ گلہ آپ سے ضرور ر ہے گا کہ آپ نے بلقیس جہاں صاحبہ کی جنسیات نگاری پر کوئی روشنی نہ ڈالی۔ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ بڑے بڑے ماہر جنسیات بھی حیراں ہیں کہ ایک عورت میں اتنی گہری نگاہ کہاں سے آگئی۔ ‘‘

میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی، میرے شوہر نے ریسیور اٹھایا۔

’’ہلو۔ ہلو۔ جی؟۔ جی جی۔ آداب عرض۔ جی ہاں ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر انھوں نے مجھ سے کہا۔

’’تمہارا فون ہے۔ ‘‘

پھر جیسے دفعتہً یاد آیا ہو۔

’’بلی ہے!‘‘

اُلاّ صاحب، حبیب اور میں بیک وقت بولے۔

’’بلقیس!‘‘

میں نے بڑھ کر ریسیور لیا۔ گو بلقیس آنکھ سے اوجھل تھی، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ وہ جانتی ہے کہ اس کے متعلق یہاں باتیں ہورہی تھیں۔ اس احساس کے باعث میں بوکھلا گئی۔ جلدی جلدی میں اس سے چند باتیں کیں اور ریسیور رکھ دیا۔ اس نے مجھے اپنے یہاں بلایا تھا۔ محفل جمی رہی۔ میں گھر کے کام کاج سے جلدی جلدی فارغ ہو کر بلی کے ہاں روانہ ہو گئی۔ کوٹھی کے باہر بے شمار اسباب افراتفری کے عالم میں پڑا تھا، اس لیے کہ سفیدی ہورہی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں تھی، مگر اس کا سامان بھی درہم برہم تھا۔ میں ایک کرسی صاف کرکے اس پر بیٹھ گئی، بلی نے ادھر ادھر دیکھا اور مجھ سے کہا۔

’’میں ابھی آئی۔ ‘‘

چند منٹ کے بعد ہی وہ واپس آگئی اور مجھ سے کچھ دور اسٹول پر بیٹھ گئی۔ میں نے اس سے کہا۔

’’آج تمہارے متعلق بہت باتیں ہورہی تھیں!‘‘

’’اوہ!‘‘

اس نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔

’’اُلاّ صاحب بھی تھے۔ ‘‘

’’اچھا!‘‘

’’میں نے انھیں بہت غور سے دیکھا، مگر مجھے ان میں اسٹریم لائنڈ عاشق کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ ‘‘

بلی نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی، پھر سنجیدگی کے ساتھ کہا۔

’’مجھے تم سے ایک بات کرنا تھی؟‘‘

’’کیا؟‘‘

’’کوئی ایسی خاص نہیں۔ ‘‘

لیکن اس کے لہجے نے چغلی کھائی کہ بات بہت خاص قسم کی ہے، چنانچہ میں نے فوراً سوچا کہ اس کے لیے خاص بات صرف ایک ہی ہوسکتی ہے۔ کسی مرد کے عشق میں گرفتار ہو جانا۔

’’آنکھ لڑ گئی ہے کسی سے؟‘‘

بلقیس نے میرے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے جب اس کی طرف غور سے دیکھا تو وہ مجھے بہت ہی متردد نظر آئی۔

’’بات کیا ہے۔ آج تم میں وہ شگفتگی نہیں۔ ‘‘

اس نے پھر مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔

’’شگفتگی؟۔ نہیں تو سفیدی ہورہی ہے نا۔ ساری پریشانی اسی کی ہے!‘‘

یہ کہہ کر وہ دانتوں سے اپنے ناخن کاٹنے لگی۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت تعجب ہوا۔ کیونکہ وہ اس کو بہت ہی مکروہ سمجھتی تھی۔ چند لمحات خاموشی میں گزرگئے۔ میں بے چین ہورہی تھی کہ وہ جلدی بات کرے، لیکن وہ خدا معلوم کن خیالات میں غرق تھی۔ بالآخر میں نے تنگ آکر اس سے کہا۔

’’کیا تم میرا نفسیاتی مطالعہ تو نہیں کررہی ہو۔ آخر کچھ کہو گی یا نہیں؟‘‘

وہ بڑبڑائی۔

’’نفسیاتی مطالعہ۔ ‘‘

اور اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ میں ابھی اپنے تعجب کا اظہار بھی نہ کرنے پائی تھی کہ وہ اٹھ کر تیزی سے غسل خانے میں چلی گئی۔ بلی کی سدا تمسخر اڑانے والی آنکھیں اور آنسو؟۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا مگر اس کا رونا نہایت کرب آلود تھا۔ اور تو کچھ میری سمجھ میں نہ آیا۔ سینے کے ساتھ لگا اس کی ڈھارس دی اور کہا

’’کیا بات ہے میری جان؟‘‘

اس کے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے، لیکن تھوڑی دیر بعد ایک دم آنسو رک گئے۔ مجھ سے دور ہٹ کر وہ دریچے کے باہر دیکھنے لگی۔

’’میں جانتی تھی کہ یہ کھیل خطرناک ہے، لیکن میں نے کوئی پرواہ نہ کی۔ کیا دلچسپ اور مزیدار کھیل تھا‘‘

وہ دیوانوں کی طرح ہنسی۔

’’بہت ہی مزیدار کھیل۔ ان کی فطری کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا، چند روز بے وقوف بنایا اور ایک افسانہ لکھ دیا۔ کس کا افسانہ۔ بلقیس جہاں کا۔ جنسی نفسیات کی ماہر کا۔ ‘‘

اس نے پھر رونا شروع کردیا اور مجھ سے لپٹ کر کہنے لگی۔

’’بھپو۔ میری حالت قابل رحم!‘‘

’’کیا ہوا میری جان؟‘‘

مجھ سے دور ہٹ کر وہ پھر دریچے کے باہر دیکھنے لگی۔

’’بلقیس جہاں کا خاتمہ۔ کل اسی کمرے میں اس کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ ‘‘

’’کیسے؟‘‘

’’یہ مجھ سے نہ پوچھو بھپو۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ مجھ سے لپٹ گئی۔

’’لیکن نہیں۔ میں تم سے نہیں چھپا سکتی۔ لو سنو۔ چند دنوں سے میں سفیدی کرنے والے مزدور کا مطالعہ کررہی تھی۔ کل شام اسی وحشی نے اچانک۔ ‘‘

بلقیس نے دھکا دے کر مجھے باہر نکال دیا اور غسل خانے کا دروازہ بند کردیا۔ جب میں گھر پہنچی تو اُلاّ صاحب اور حبیب صاحب کے علاوہ اور صاحب بھی موجود تھے۔ بلقیس جہاں کی حیرت انگیز جنسی نفسیات نگاری گفتگو کا موضوع تھا۔

سعادت حسن منٹو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو