سلام اردو سپیشل

متن کے تعاقب میں

مدثر عباس، لوندخوڑ

ادب جب جمود و حرکت کے دور سے گزر رہا تھا تو لفظ کے تعین کے لیے ادیبوں نے انتھک محنت کی اور پرانے الفاظ کو نئے معنی پہنائے دراصل جب کسی معاشرے اور اس کے ادب میں ٹھہراؤ آتا ہے تو روایتی الفاظ اپنی تاثیر اور تازگی کھو دیتے ہیں۔ وہ محض رسم اور عادت بن کر رہ جاتے ہیں اور ان میں چھپے احساسات دم توڑنے لگتے ہیں۔ ایسے میں ادیب اِن پرانے الفاظ کو نئے معنی بخشتے ہیں یا پھر نئے الفاظ تراشتے ہیں۔

​موجودہ دور میں ادیب کا کام مزید مشکل نظر آتا ہے کیوں کہ آج کا ادب محض جمود و حرکت کی کشمکش کا شکار نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے اثرات کی زد میں بھی ہے، جس کی وجہ سے خالص تخلیقی متن کا تعین کرنا دشوار ہو گیا ہے۔ اصل متن تک پہنچنے اور اس میں نئے زاویے و معنی تلاش کرنے کے لیے بہت کم ادیبوں نے تحقیقی صلاحیتوں کا سہارا لیا ہے۔ آئیں ذرا مصنوعی ذہانت کو منصور ساحل کے زاویے سے دیکھتے ہیں:

​”انسان اپنی تخلیق میں محبت، درد، امید اور خوف جیسی انسانی کیفیات سموتا ہے، جب کہ مصنوعی ذہانت کے پاس یہ داخلی کیفیات ناپید ہیں۔ انسانی تخلیق مصنف کے سماجی ماحول، تہذیبی ورثے، مشاہدات اور نفسیاتی تجربات سے براہ راست متاثر ہوتی ہے اور یہ اردگرد کے رنگ اور المیے اپنے اندر جذب کرتی ہے جب کہ مصنوعی ذہانت کا عمل صرف اس کے ڈیٹا بیس میں موجود معلومات اور طے شدہ الگورتھم تک محدود ہوتا ہے۔ اس میں نہ کوئی ذاتی یادداشت ہوتی ہے اور نہ ہی معاشرے کا ایک زندہ حصہ بننے کا احساس۔” (1)

​مصنوعی ذہانت کا بنیادی کام معلومات کی فراہمی ہے، وہ آپ کو اصل متن تک نہیں پہنچا سکتی البتہ ڈیٹا بیس کے ذریعے کچھ مواد فراہم کر سکتی ہے۔ اب یہ مواد اصلی ہے یا کاپی شدہ، یہ طے کرنا ادیب کا کام ہے؛ لیکن ادیب یہاں ایک ایسی الجھن کا شکار نظر آتے ہیں جس سے نکلنا اب دشوار معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ معاشرہ و ادب اب زمانی اعتبار سے ڈیجیٹلائز ہو چکا ہے۔ اس سے ایک پہلو یہ بھی اجاگر ہوتا ہے کہ ادیب محض ایک انسٹرکٹر بن کر رہ گیا ہے اور ادب صرف ایک ساخت بن چکا ہے۔

رکھیں اب متن کو ذرا ترجمے کے زاوئیے سے دیکھتے ہیں۔ ترجمہ مختلف تہذیبوں، تمدنوں اور معاشرتی رجحانات کو سمجھنے اور ان کے اصل متن کے قریب پہنچنے کا سب سے بڑا وسیلہ رہا ہے لیکن یہ سفر اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا نظر آتا ہے۔ ​جب ہم کسی دوسرے معاشرے کے ادب کا ترجمہ پڑھتے ہیں تو ہم صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں دیکھ رہے ہوتے بلکہ ایک تہذیبی انتقال (Cultural Transference) کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ ​ترجمہ ہمیں دوسرے خطوں کے نظریات، المیوں اور انسانی تجربات تک رسائی دیتا ہے۔ شیکسپیئر، ٹالسٹائی، کافکا، گوئٹے، مٹلن، برگسا، ارسطو، سقراط یا رومی کے خیالات اگر دنیا بھر میں پہنچے ہیں تو وہ ترجمے ہی کا مرہونِ منت ہیں لیکن کوئی بھی ترجمہ اصل متن کا سو فیصد نعم البدل نہیں ہو سکتا کیوں کہ ہر زبان کے اپنے محاورے، اساطیر اور تہذیبی علامتیں ہوتی ہیں جو دوسری زبان میں منتقل ہوتے وقت اپنا کچھ نہ کچھ رنگ بدل لیتی ہیں۔ ایک ماہر ادیب یا مترجم محض لفظی ترجمہ نہیں کرتا بلکہ وہ دوسرے معاشرے کے تہذیبی سیاق و سباق کو اپنی زبان کا پیرایہ فراہم کرتا ہے۔ اس لیے مشینی یا AI ترجمہ آپ کو لغوی معنی اور الفاظ کا ڈیٹا تو فراہم کر سکتا ہے لیکن اس تہذیب کے داخل، احساس اور نفسیاتی زوایوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ وہاں ادیب یا ماہرِ زبان کا وہ تخلیقی لمس درکار ہوتا ہے جو الفاظ کے پیچھے چھپے ہوئے رویوں کو محسوس کر سکے۔ اس لیے متن کے تعاقب میں جاتے ہوئے دیکھنا ہوگا کہ ترجمہ ہمیں اصل متن کا عین عکس تو نہیں دے سکتا لیکن اس کی روح اور پیغام کو اتنا قریب ضرور کر دیتا ہے کہ ہم ایک اجنبی معاشرے کے احساسات اور رجحانات کو اپنانے اور سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

کیوں نہ بات کو ایک اور مثال سے واضح کرنے کی کوشش کریں؟ جیمز جوائس کے یولیسس یا گوئٹے کی نوجوان ورتھر کی داستان جیسے شاہکار ناولوں کے اصل متن کا مطالعہ جس جمالیاتی حظ کا باعث بنتا ہے تو کوئی بھی ترجمہ اُس کی کامل منتقلی سے قاصر رہتا ہے۔ ذرا یولیسس کے انگریزی متن کو دیکھیں:

Wombed in sin darkness I was too, made not begotten. By them, the man with my voice and my eyes and a ghostwoman with ashes on her breath. They clasped and sundered, did the coupler’s will. From before the ages He willed me and now may not will me away or ever. A lex eterna stays about Him. Is that then the divine substance wherein Father and Son are consub-stantial? Where is poor dear Arius to try conclusions? Warring his life long on the contransmagnificandjewbangtantiality. Illstarred heresiarch. In a Greek watercloset he breathed his last euthanasia. With beaded mitre and with crozier, stalled upon his throne, widower of a widowed see, with upstiffed omophorion, with clotted hinderparts.

Airs romped around him, nipping and eager airs. They are coming, waves. The whitemaned seahorses, champing, brightwindbridled, the steeds of Mananaan.

I mustn’t forget his letter for the press. And after? The Ship, half twelve. By the way go easy with that money like a good young imbecile. Yes, I must.

His pace slackened. Here. Am I going to Aunt Sara’s or not? My consubstantial father’s voice. Did you see anything of your artist brother. (2)

اب دل تھام کر مصنوعی ذہانت کا ترجمہ دیکھیں:

میں بھی گناہ کی تاریکی کے رحمِ مادر میں تھا، بنایا گیا، نہ کہ جَنا گیا۔ ان کے ذریعے—وہ مرد جس کی آواز اور آنکھیں میری جیسی ہیں، اور ایک روح نما عورت جس کی سانسوں میں راکھ کی بو تھی۔ وہ آغوش میں آئے اور جدا ہوئے، ملاپ کرانے والے کی مرضی پوری کی۔ زمانوں سے پہلے ہی اس نے میرے وجود کا ارادہ کیا تھا اور اب وہ مجھے ختم نہیں کر سکتا، نہ اب نہ کبھی۔ ایک قانونِ ابدی (Lex Eterna) اس کے گرد قائم رہتا ہے۔ تو کیا یہ وہ الٰہی جوہر ہے جس میں باپ اور بیٹا ہم جوہر (ہم ذات) ہیں؟ غریب پیارا آریوس کہاں ہے جو اب آخری بحث کرے؟ وہ جو اپنی تمام زندگی عقیدہِ ہم الجوہریت کے خلاف جنگ لڑتا رہا۔ بدقسمت بدعتی پیشوا! ایک یونانی بیت الخلا میں اس نے اپنی آخری سانس لی: آسان موت۔ موتیوں جڑے تاج اور چوپانی عصا کے ساتھ، اپنے تخت پر براجمان، ایک بیوہ اسقفیت کا رنڈوا، اکڑے ہوئے مذہبی لباس اور آلودہ عقبی حصوں کے ساتھ۔

ہوائیں اس کے گرد اٹکھیلیاں کر رہی تھیں، کاٹنے والی اور بے تاب ہوائیں۔ وہ آ رہی ہیں، لہریں۔ سفید ایال والے سمندری گھوڑے، چباتے ہوئے، روشن ہواؤں کی لگام تھامے، منانان (سمندری دیوتا) کے گھوڑے۔

مجھے پریس (اخبار) کے لیے اس کا خط نہیں بھولنا چاہیے۔ اور اس کے بعد؟ ‘دی شپ’، ساڑھے بارہ بجے۔ ویسے، ایک اچھے احمق نوجوان کی طرح ان پیسوں کو ذرا احتیاط سے خرچ کرو۔ ہاں، مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے۔

اس کی رفتار دھیمی ہو گئی۔ یہاں۔ کیا میں آنٹ سارا کے گھر جا رہا ہوں یا نہیں؟ میرے ہم جوہر (ہم ذات) باپ کی آواز: "کیا تم نے اپنے فنکار بھائی کی کوئی خبر لی…”

انگریزی متن اور اُردو متن میں تہذیبی اقدار کا کتنا فاصلہ رہ گیا؟ یہ اصل متن کی خوبی ہے اب یہاں ذرا مشین اور ادیب کا تقابل پیش کرتے ہیں کہ وہ درج ذیل الفاظ کا ترجمہ کیسے کریں گے:
Contransmagnificandjewbangtantiality

یہاں ادیب جوائس جیمز کے اس ترکیب سے لطف اُٹھاتے ہیں لیکن مشین اس الفاظ کا ترجمہ نکالے گا ذرا دیکھیں:
Transmagnificand: شاندار یا عظمت والا۔
​Jew: یہودی۔
​Bang: دھماکہ یا ٹکراؤ۔
​Tiality (Reality/Substantiality): حقیقت یا جوہر۔

سچ تو یہ ہے کہ جو لطف اصل متن میں ہوتا ہے وہ ترجمے میں نہیں! کیوں کہ اصل متن اُس معاشرے کے زمانی و مکانی احساسات، مشاہدات اور تجربات کا عکاس ہوتا ہے جب کہ ترجمہ ان احساسات کو کسی دوسری زبان اور ماحول میں ڈھالنے کا نام ہے۔ آپ نے دیکھا کہ درج بالا ترکیب کوئی باقاعدہ لغوی لفظ نہیں ہے بلکہ جوائس جیمز کا خود ساختہ ایک انتہائی طویل اور طنزیہ لفظ ہے۔ جس میں اس نے کئی الفاظ اور تراکیب کو آپس میں گڈ مڈ کر دئیے ہیں لیکن پھر بھی مشین نے اس کا ترجمہ نکال دیا کیوں کہ مشین کے پاس پرانا ڈیٹا بیس موجود تھا جب کہ ادیب یا مترجم کے پاس اس متن کا داخلی احساس موجود ہوتا ہے تو اس تناظر میں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عہدِ حاضر میں اصل متن کا تعاقب گرچہ ایک دشوار گزار مرحلہ ہے مگر ناقابلِ تسخیر نہیں لیکن اگر الگورتھمی جبر اور ڈیجیٹلائزیشن کی بساط کو مدِ نظر رکھا جائے تو آنے والے دور میں ادب کو ایسے سنگین اور نامعلوم فکری خطرات درپیش ہو سکتے ہیں جو اصل متن کی معنوی شناخت کے تعاقب اور بحالی کو مکمل طور پر ناممکن بنا سکتے ہیں۔

حوالہ جات
1. منصور ساحل،ڈاکٹر، لفظ و معنی نئی تشکیل نئے زاوئیے, ناشر کتابی دنیا، 2026ء، ص 74
2. James Joyce, Ulysses, Published by the Egoist Press, London, 1922, Page, 36
3, ChatGpt, 3.5 Flash lite version,

مدثر عباس
25 جولائی 2026ء

post bar salamurdu

مدثر عباس

مدثر عباس کا تعلق ضلع مردان کے نواحی علاقے لوند خوڑ سے ہے۔ وہ جامعہ پشاور میں اُردو زبان و ادب(ایم فل) کے طالبِ علم ہیں اور علمی و فکری جستجو سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ تاریخ اور تاریخی کتب سے خاص شغف ان کے مطالعے کو وسعت بخشتا ہے، جب کہ مسلسل اور وسیع مطالعہ ان کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سیاسی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر وقتاً فوقتاً قلم اُٹھاتے ہیں، جہاں ان کی تحریروں میں مطالعے کی گہرائی اور سنجیدہ فکری رجحان جھلکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button