آپ کا سلاماردو نظمحسن فتحپوریشعر و شاعری

درندے (ایک سچا واقعہ)

ایک نظم از حسن فتحپوری

ہمارے ہی محلے میں
کہاں جائے گی یہ بچی

ادھر ٹوٹے ہوئے گھر میں
رہا کرتی تھی اک لڑکی.. وہ پاگل سی جواں لڑکی
مگر کچھ دن سے غائب تھی
خدا جانے کہاں تھی وہ

اچانک ایک دن پھر وہ
محلے میں نظر آئی
مگر میں دیکھتا کیا ہوں
بہت چھوٹی سی اک بچی… لگا کر اپنے سینے سے
جسے وہ پیار کرتی ہے
خدا جانے وہ بچی کون ہے؟

کسی نے یہ بتایا ہے کہ اک آوارہ لڑکے نے
ہوس اپنی مٹھائی ہے.
.. اسی کا یہ نتیجہ ہے! جو یہ چھوٹی سی بچی ہے
خدا غارت کرے ایسی ہوس کو
کہاں جائے گی یہ بچی

میں یہ بھی سوچتا ہوں
. چند سالوں بعد. یہ بچی جواں ہوگی
کوئی حیوان آئے گا.. ہوس اپنی مٹائے گا
نتیجہ پھر یہی ہوگا

مرے اللہ بتلا دے
سزا تو کیوں نہیں دیتا
یہ جو حیوان ہیں سارے
مٹا تو کیوں نہیں دیتا
ہوس کے ان درندوں کو

حسن فتحپوری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button