آصف الدولہاردو غزلیاتشعر و شاعری

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا

آصف الدولہ کی ایک اردو غزل

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا
پر ڈرتے ہوئے لے جو وہاں نام ہمارا

کیا تاب ہے جو سامنے ٹھہرے کوئی اس کے
آفت ہے غضب ہے وہ دل آرام ہمارا

آغاز نے تو عشق کے یہ حال دکھایا
اب دیکھیے کیا ہووے گا انجام ہمارا

اے چرخ اسی طرح تو گردش میں رہے گا
پر تجھ سے نہ نکلے گا کبھو کام ہمارا

اے پیر مغاں دیکھیو آصفؔ یہ کہے ہے
خالی نہ رہے مے سے سدا جام ہمارا

آصف الدولہ

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button