اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند

اپنی تقدیر کہاں بھول گیا عید کا چاند

ان کے ابروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے

اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چبھا، عید کا چاند

جانے کیوں آپ کے رخسار مہک اٹھتے ہیں

جب کبھی کان میں چپکے سے کہا، "عید کا چاند”

دور ویران بسیرے میں دیا ہو جیسے

غم کی دیوار سے دیکھا تو لگا عید کا چاند

لے کے حالات کے صحراؤں میں آ جاتا ہے

آج بھی خلد کی رنگین فضا، عید کا چاند

تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں

گھول کر درد کے ماروں نے پیا عید کا چاند

چشم تو وسعت افلاک میں کھوئی ساغر

دل نے اک اور جگہ ڈھونڈ لیا عید کا چاند

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button