"وجود کا شور یا عدم کی خاموشی”
(اُردو شاعری کا ایک نیا فکری زاویہ
انسانی شعور کا ارتقا دراصل معنویت کی تلاش کا نام ہے۔ اٹھارویں صدی کے نصفِ آخر میں جب یورپی فکر نے کلاسیکیت کی عقلی بندشوں کو توڑ کر رومانیت Romanticism کی پناہ لی تو یہ محض ایک ادبی تحریک نہیں تھی بلکہ منطق اور عمل کے بجائے جذبے اور تخیل کو حیاتِ انسانی کا مرکز بنانے کی ایک کوشش تھی۔ لیکن اِس رومانی تلاطم کے برعکس اُسی دور میں ایک اور فکری بیج بویا گیا جس نے آگے چل کر وجودیت (Existentialism) اور پھر عدمیت (Nihilism) کی صورت میں انسانی فکر کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
یہ فکری سفر میں کون ہوں؟ کے سادہ سے سوال سے شروع ہو کر زندگی کی حتمی بے مقصدیت اور کائناتی لایعنیت کے کرب تک پہنچتا ہے۔ جب اِنسان اپنے وجود کو جوہر پر مقدم ٹھہراتا ہے تو اس کی خود مختاری اُسے اکثر ایک ایسی تنہائی کی طرف لے جاتی ہے جہاں روایتی اقدار اور اخلاقیات بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اِسی عدمیت کے آئینے میں ہم اُردو شعرا کی شاعری اور اُن کی حیات و ممات کا تجزیہ کریں گے جو اس بات کی ایک المناک شہادت ہوگی کہ جب زندگی کے خارجی اور داخلی راستے بند ہو جائیں تو عدمیت کس طرح وجود سے فرار کا واحد راستہ بن جاتی ہے۔
مضمون کی ابتدا چوں کہ رومانیت سے ہوئی ہے اس لیے لازم ہے کہ قاری لفظ رومانیت سے بھی واقف ہو اسی تناظر میں بات کو بڑھاتے ہیں کہ: لاطینی زبان میں رومانس کا لفظ مقامی اور غیر ترقی یافتہ بولیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن ادب میں رومانیت کا مطلب الفاظ کی شدت یا جذبات کی شدت ہے۔ چیمبرز انسائیکلو پیڈیا کے مطابق رومانیت کی تعریف کچھ یوں ہے:
"Romance has long since lost its original signification in every country except Spain where it is still occasionally used in speaking of the vernacular as it was in the middle ages when the Latin was the languages of the learned and documents of all kind of writing” (1)
ُاُس دور میں اِس رومانوی تحریک کے ساتھ ساتھ ایک اور فلسفے نے جنم لیا۔ جس کو وجودیت کا نام دیا گیا۔ اسی فلسفے کے مطابق تمام انسان اپنی زندگی کی انفرادیت اور داستان کے خود مختار رہ نما ہیں۔ آسان الفاظ میں اس نظریے کے مطابق انسان کیا ہے؟، میں کون ہوں؟، میرا وجود واقعی جوہر پر مقدم ہے؟، کیا میں خود اپنے تمام اعمال کا ذمہ دار ہوں؟،
جب انسان نے اِن سوالوں کے بارے میں کھوج لگانا شروع کیا تو وہاں سے انسانوں کو اپنا وجود بے معنی لگنے لگا۔ 1860 کی دہائی میں ایک نظریہ مقبول ہوا جسے نہلزم (Nihilism) کا نام دیا گیا۔ نہلزم کی اصطلاح پہلی بار روس میں استعمال ہوئی۔ جس کی تعریف کچھ یوں ہے:
"نہلزم لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کی معنی "کچھ نہیں” یعنی ایک ایسا فلسفیانہ نظریہ جو یہ مانتا ہے کہ زندگی کا کوئی حتمی مقصد، معنی یا داخلی قدر نہیں ہے اور تمام روایتی اقدار، اخلاقیات اور عقائد بے معنی ہیں” (2)
نہلزم وجودیت کا متضاد لفظ ہے۔ اُردو میں نہلزم کے لیے عدمیت یا لایعنیت کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ عدمیت وجودِ انسان اور کائنات کے باہمی تعلقات پر بحث کرتی ہے جب کہ عدمیت وجود کی نفی کرتی ہے۔ اس کی ایک آسان مثال یوں ہے کہ ایک شخص جو ہر روز محنت کرتا ہے اور ہر بار ناکام ہوتا ہے۔ اکثر سوچتا ہے کہ میری یہ محنت کسی کام کی نہیں۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ عدمیت کی شکل اختیار کرتی ہے کہ میرا یہ وجود کسی کام کا نہیں اور پھر وہ آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ختم کر دیتا ہے۔
اُردو ادب میں کئی ایسے شعرا کا ذکر ملتا ہے جو عدمیت(لایعنیت کے شکار رہے۔ اُن میں سے چند کے اشعار ملاحظہ کیجیے:
لوٹ کر کوئی جہاں سے نہیں آتا ثروت
انہی راہوں پر کسی وقت نکل کے دیکھو گے (3)
موت کے درندے میں ایک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہیں خود کشی کے بارے میں (4)
ثروت حسین زندگی کی تلاش میں نکلے تھے ایک ایسی زندگی جہاں کوئی غم درد نہ ہو اور پھر وہ مایوس ہو کر واپس لوٹے اسی مایوسی نے اُن کے اندر Quitism of Despair کا رجحان پیدا کیا اور پھر آہستہ آہستہ وہ اس دنیا سے اکتا گئے۔ بالآخر جب اُن کے پاس زندگی کے تمام راستے بند ہو گئے تو انہوں نے اس دنیا سے فرار چاہا۔ اُسی فرار میں انہوں نے ٹرین کے نیچے آ کر خودکشی کی۔ اب یہ محرک داخلی تھا یا خارجی؟ لیکن انہوں نے خودکشی کے عمل کو کیوں چنا اہم نکتہ یہ ہے اور یہ نکتہ عدمیت کے تصور کا عکاس ہے۔ ثروت کے حوالے سے ڈاکٹر صفیہ عباد کچھ یوں رقم طراز ہیں:
"ثروت حسین اپنی تلاش کے جس سفر پر نکلے تھے کوئی اسرار اُن کے پیش نظر نہ تھا۔ اسرار اور خوفزدگی کے مرحلے تو منزل اولیں میں انسان کو درپیش ہوتے ہیں جبکہ ثروت ان مرحلوں سے گزر کر تیقن کے ڈیرے پر پہنچ چکے تھے، خارجی زندگی اور اس کی گہما گہمی اب واقعی اُن کے سامنے بے معنی تھی۔ اپنی ذات کے عادی خول کو اُتار پھینکنے کے لیے وہ خودکشی کے اولین ناکام تجربے کے بعد اس لذتِ ناتمام کا آخری اور بھرپور تجربہ کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے واحد اور یقینی راستہ اُن کے سامنے خودکشی کا تھا۔”
ثروت حسین شدت سے عدمیت کے شکار تھے۔ وہ زندگی سے باغی تھے اور انہوں نے ہمیشہ کے لیے زندگی سے فرار چاہا۔ تو دوسری طرف یہ مناظر روسی ناول نگار تور گنیف کے ناول "باپ اور بیٹے” (Father and Son) میں مرکزی کردار "بزاؤوف” عدمیت کے علمبردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس نے آخر میں خودکشی کر لی، اسی طرح ثروت حسین نے بھی زندگی سے فرار چاہا اور آخر میں خودکشی کرلی۔
اس کے علاوہ اُردو شاعری میں جون ایلیا کا نام آتے ہی ایک ایسے منفرد لہجے کا تصور اُبھرتا ہے جو کائنات، حیات اور وجود کے رشتوں سے بیزار نظر آتا ہے۔ جون کے ہاں وجود کی لایعنیت اُن کی ذات کا حصہ بن چکی تھی۔ وہ کائنات کے خالق نظام سے شکوہ کناں کیفیت میں دیکھائی دیتا ہے۔ ہم یہاں جون کی شاعری آر کی ٹائپ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس سے میرا یہ مقصد یہ نہیں کہ شخصے جون ایلیا کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں بلکہ یوں سمجھے کہ اس سے جون ایلیا کی فکری اور لاشعوری انفرادیت قارئین کے سامنے ہوگی۔
جون نے ہمیشہ زندگی کو منفرد زاوئیے سے دیکھا ہے ایک ایسا بنیادی زاویہ، جس میں وہ مذہب، سماج اور تمام معاشرتی اقدار سے ماورا نظر آتے ہیں:
جون ہم اپنی زندگی کے راہوں میں
اپنی تنہا روی کے مارے ہیں
جون ایلیا ہمیشہ سے زندگی سے مایوس نظر آتے تھے۔ یہ مایوسی اُن کی داخلی کشمکش کا وہ لاوا ہے جو ادب کی فکری موجوں میں بہہ کر باہر آتا ہے۔ بقول شخصے، داخلی کشمکش ہمیشہ انسان (ادیب) کے بیرون کو متاثر کرتی ہے۔ کبھی کبھی یہ تناؤ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD)، شیزوفرینیا اور بارڈلائن پرسنالٹی ڈس آرڈر (BPD) جیسی عارضی علامات میں تبدیل ہو جاتا ہے اور کبھی اس کا اثر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان خودکشی پر مجبور ہو جاتا ہے۔
درج بالا بحث کے دوران آپ کا خیران ہونا فطری امر ہے کیوں کہ یہ تذبذب برقرار رہا کہ آیا گفت گو عدمیت کے فلسفے پر ہو رہی ہے یا خودکشی کے رجحان پر اظہارِ خیال کیا جا رہا ہے۔ اس مبہم صورتحال کے پیش نظر میں آپ کی توجہ پشتو شاعری کے چند اشعار کی جانب مبذول کرنا چاہوں گا:
د خپل ضمیر، د خپل احساس ترجماني مې اوکړے
په زړه مې بوج دی خو بس وایم چې شاعري مې اوکړے
ته لرې یې او زه د مدثر غزلې اورم
په داسې حال یم، وایم چې لاړې خودکشي مې اوکړے
ان اشعار کو لکھتے وقت راقم بھی اُسی حالات سے گزر رہا تھا جن سے جون ایلیا گزرتے آرہے تھے اس لیے کہنا ضروری ہے کہ عدمیت(لایعنیت) کا آخری حاصل خودکشی ہے۔
اے خدا جو کہیں نہیں موجود
کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں
جون کے بارے میں ڈاکٹر صفیہ عباد یوں رقم طراز ہیں:
”جون کی شاعری میں قدم قدم پر نہ صرف خواہش مرگ موجود تھی بلکہ ایسی اذیت ناک زندگی کا تصور سامنے آتا ہے جو جون کے لیے بسر کرنا کسی طور پر گوارا نہ تھی۔”
تیرے عدم کو گوارا نہ تھا وجود میرا
سو اپنی بیخ کنی میں کمی نہ کی میں نے
جون صاحب کا یہ شعر عدمیت کی اصطلاح پر پورا اترے شاید،
ہم نے خدا کا رد لکھا، نفی بہ نفی لا بہ لا
ہم ہی خدا گزیدگاں تم پہ گراں گزر گئے
عدمیت کوئی باقاعدہ فلسفہ یا کوئی نظریہ نہیں، بلکہ وجودیت کے زیر سایہ ایک ایسی نئی اصطلاح کا جنم ہے جس نے بڑے بڑے ادبی ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اردو ادب میں بہت سے ایسے شعرا کا ذکر ملتا ہے جو سرے سے عدمیت کا شکار تھے۔ ان نمایاں شعرا میں شکیب جلالی، مصطفیٰ زیدی، انیس معین، سارا شگفتہ، جون ایلیا اور دیگر شامل ہیں۔
مدثر عباس
21 جولائی 2026ء








