آپ کا سلاماردو غزلیاتاویس خالدشعر و شاعری

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

ایک اردو غزل از اویس خالؔد

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو
ممکن ہے خوبیوں پہ تمہیں کچھ سزا ہی ہو

دونوں امور ہم نے سپردِ خدا کیے
اب ہو وفا کسی کی تو چاہے جفا ہی ہو

چوکھٹ کبھی نہ چھوڑیں گے پروردگار کی
دل مبتلائے درد ہو چاہے شفا ہی ہو

دونوں ہی صورتوں میں وہ دل کو عزیز ہے
راضی رہے وہ مجھ سے تو چاہے خفا ہی ہو

مجھ کو تلاش کرنے دو ان نفرتوں کے بیچ
شاید محبتوں کا کوئی گل کھلا ہی ہو

دستک ہوئی ہے دل پہ جو خالدؔ تو کھول در
ممکن ہے تیرے درد کی اب کے دوا ہی ہو

اویس خالدؔ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button