آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط

نازکی اونگھتی ہے بستر کی

کلیم باسط کی ایک اردو غزل

نازکی اونگھتی ہے بستر کی
گدڑیاں اوڑھ لو قلندر کی

کام کا کیا ہے چلتا رہتا ہے
یاد آنے لگی ہے اب گھر کی

چاکری میں کوئی برائی نہیں
ہاں مگر کیسی اور کس در کی؟

کرچیوں سے بنائے شیش محل
عادتیں دیکھو میرے دلبر کی

شعلے دوزخ سے چوری کر لایا
کوٹھڑی دل کی یوں منوّر کی

وائے محرومی اور تشنہ لبی
تلخیاں پی گیا سمندر کی

کلیم باسط

post bar salamurdu

کلیم باسط

کلیم باسط سرگودھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button