اردو شاعریاردو نظمفیصل عجمی

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے

فیصل عجمی کی ایک اردو نظم

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے

مہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہے

ہے کوئ سخی اس کی طرف دیکھنے والا

یہ ہاتھ بڑی دیر سے پھیلایا ہوا ہے

حصہ ہے کسی اور کا اس کارِ زیاں میں

سرمایہ کسی اور کا لگوایا ہوا ہے

سانپوں میں عصا پھینک کے اب محوِ دعا ہوں

معلوم ہے دیمک نے اسے کھایا ہوا ہے

دنیا کے بجھا نے سے بجھی ہے نہ بجھے گی

اس آگ کو تقدیر نے دہکایا ہوا ہے

کیا دھوپ ہے جو ابر کے سینے سے لگی ہے

صحرا بھی اسے دیکھ کے شرمایا ہوا ہے

اصرار نہ کر میرے خرابے سے چلا جا

مجھ پر کسی آسیب کا دل آیا ہوا ہے

تو خوابِ دگر ہے تری تدفین کہاں ہو

دل میں تو کسی اور کو دفنایا ہوا ہے

فیصل عجمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button