آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریصغیر احمد صغیر

مکاں کے ہوتے ہوئے بھی جو لامکاں کوئی ہے

ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر

مکاں کے ہوتے ہوئے بھی جو لامکاں کوئی ہے
تو پھر یقین و گماں کے بھی درمیاں کوئی ہے

اسے تھا زعم کہ مجھ سا نہیں کہیں کوئی
پھر ایک دن وہی کہنے لگا کہ ہاں، کوئی ہے

نہ زندگی کو نہ خود کو ہی میں سمجھ پایا
سو داستاں کے علاوہ بھی داستاں کوئی ہے

تو بات، بات پہ اپنا بیاں بدلتا ہے
جسے میں آخری سمجھوں، ترا بیاں کوئی ہے؟

تمام دوست مجھے اہلِ علم لگتے ہیں ! .
سمجھ سکے جو مری داستاں یہاں کوئی ہے؟

یہ کیا کہ اب تو ترے خواب تک نہیں آتے
سو فصلِ گل ہے مجھے اب، نہ اب خزاں کوئی ہے

زیاں تو ہوتا ہے لیکن زیاں نہیں لگتا
اب اس سے بڑھ کے بھلا اور بھی زیاں کوئی ہے؟

تمام عمر گزاری ہے امتحاں جیسی
سنا ہے اس کے علاوہ بھی امتحاں کوئی ہے

میں چل کے آگ پہ سب کو دکھا چکا پھر بھی
میں کیا کہوں، اگر اب بھی جو بدگماں کوئی ہے

نجانے وجد میں مجھ سے یہ کون کہہ رہا تھا
جہاں نہیں ہے اگر کوئی بھی ، وہاں کوئی ہے!

صغیر بار ہا میں خود پہ وار کرتا ہوں
مجھے جو مجھ سے بچاتا ہے مہرباں کوئی ہے

صغیر احمد صغیر

صغیر احمد صغیر

پورا نام: ڈاکٹر صغیر احمد قلمی نام: صغیر احمد صغیر جائے پیدائش؛ رحیم یار خان. 1967. ابتدائی تعلیم: میٹرک: گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول، صادق آباد گریجویشن: خواجہ فرید گورنمنٹ کالج، رحیم یار خان ۔اعلٰی تعلیم: ایم ایس سی ذوآلوجی: پنجاب یونیورسٹی ایم اے تاریخ: پنجاب یونیورسٹی ایم فل؛ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان پی ایچ ڈی: بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان پیشہ: قوم کے بچوں کو حیاتیات پڑھاتے گزر گئی۔ ادبی سفر کا آغاز : اسّی کی دہائی سے لکھنا شروع کیا، پہلا شعری مجموعہ، (بھلا نہ دینا) میں اسّی اور نوّے کی دہائی کی شاعری شامل ہے۔ شرف ِ تلمذ : جناب امجد اسلام امجد اور جناب زاہد آفاق ایک شعری مجموعہ: بھلا نہ دینا رہائش.... لاہور ۔اخبارات یا رسائل سے وابستگی: پی ایچ ڈی شروع کرنے سے پہلے روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ خبریں اور بیاض میرے مضامین، کالم اور کلام شائع ہوتا تھا۔ اب دوبارہ سلسلہ شروع کرنے لگا ہوں۔ تعارفی شعر : اس عشق کے رستے کی بس دو ہی منازل ہیں یا دل میں اتر جانا ، یا دل سے اتر جانا (صغیر احمد صغیر)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button