- Advertisement -

سر تال ہے پر تار میں وہ تان نہیں ہے

کلیم باسط کی ایک اردو غزل

سر تال ہے پر تار میں وہ تان نہیں ہے
جانان تری باتوں میں اب جان نہیں ہے

دن رات لہو تھوکنا آسان نہیں ہے
پر ان دنوں اس فن کا قدر دان نہیں ہے

انصاف کرو ناصحو، یہ قوس تو دیکھو
کیا تم میں کوئی صاحبِ ایمان نہیں ہے

اس حوصلے کی داد کوئی دے بھی تو کیا دے
اس حال میں بھی یزداں پشیمان نہیں ہے

الفاظ پہ کچھ غور ہو لہجے پہ توجہ
یہ طرزِ بیاں آپ کے شایان نہیں ہے

نیند آئی مگر جھولی رہی خالی کی خالی
آنکھوں میں کسی خواب کا سامان نہیں ہے

لکھنو کے اُسی مرثیہ خواں کو ہی بلا
کہتے ہیں کہ برسات کا امکان نہیں ہے

اس واسطے ہوں خیمہ نشیں دشت میں آ کر
کوئی کہہ نہیں سکتا ترا دالان نہیں ہے

لازم ہے لہو بول کے تصدیق بھی کر دے
اک ورقِ سیہ حجت و برہان نہیں ہے

 

کلیم باسط

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
کلیم باسط کی ایک اردو غزل