- Advertisement -

حیاتِین – ب

افسانہ از راجندر سنگھ بیدی

حیاتِین – ب

ایجرٹن روڈ کے عین وسط میں جہاں جلی حروف میں ’روڈ اپ‘ لکھا ہوا تھا اور نصف درجن کے قریب سرخ پھریرے ہوا میں لہرا رہے تھے، میں بطور ایک چھوٹے اوورسیئر کے مزدوروں کے کام کی نگرانی کر رہا تھا۔ میرے ہاتھ میں ایک بہت لمبا ٹیپ تھا، جس سے بارہا مجھے مرمت طلب سڑک اور کٹی ہوئی روڑی کی پیمائش کرنی پڑتی تھی۔

’روڈاپ‘ بورڈ کے پاس ہی کولتار کے چند خالی پیپے پڑے تھے اور ان میں سًرخ شیشوں والی بتیاں رات کے وقت استعمال کے لیے اقلیدسی نصف دائرہ میں پڑی تھیں۔ قریب ہی پگڈنڈی میں چند گہرے سے گڑھے نظر آ رہے تھے۔ ان گڑھوں کو بطور چولھے کے استعمال کرتے ہوئے سڑک کے مرمت شدہ حصے پر بچھانے کے لیے کولتار کو گرم کیا جا رہا تھا اور دور ایک چیختا چلاتا ہوا انجن بچھی ہوئی کنکریوں کو دبا رہا تھا۔

پھریروں اور خالی ٹینوں کے ساتھ ہی چند مارواڑی اور پوربی عورتیں سڑک کے مرمت طلب قطعہ زمین کو بڑے بڑے برشوں سے صاف کر رہی تھیں اور اپنے مخصوص سُرتال سے گا کر کام میں روح پھونک رہی تھیں۔ پاس ہی سول لائن کے تھانے اور ایک بڑی سی نرسری کے درمیان ایک لہسوڑے کے نیچے دو ایک بچّے بلک رہے تھے۔ نرسری میں چند ایک چھوکرے غلیلیں اور گوپھیے ہاتھ میں لیے ثمر آور پودوں سے طوطوں وغیرہ کو اڑا رہے تھے۔ کنکری چھوڑتے وقت وہ بلند آواز سے ’اللہ اکبر‘ پکارتے۔ کبھی کبھی بے وجہ چیختے، زور زور سے ہنستے اور اپنی آواز کی گونج سے حظ اٹھاتے۔ میری توجہ نرسری کی طرف لہسوڑے کے نیچے بلکتے ہوئے بچوں کی طرف منعطف ہو گئی۔ بچوں کے پیٹ پھولے ہوئے تھے اور ان کی چھاتیاں اندر کو دھنس گئی تھیں۔ جب کوئی مارواڑی یا پُوربی عورت اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے اٹھتی تو ٹھیکیدار عرفانی خشم آلود نگاہوں سے اس کی طرف دیکھنے لگتا، مگر جیسے ہی پسِ پشت گر گراتا ہوا انجن سیٹی دیتا، عرفانی اچھل کر انجن کی زد سے باہر پٹڑی پر کھڑا ہو جاتا۔

اس دفعہ ٹھیکیدار عرفانی نے ٹنڈر بہت کم رقم کا بھرا تھا، اس لیے مزدوروں پر سخت نگرانی تھی۔ سستانا، گڑگڑی کے کش لگانا، دن میں دو دفعہ سے زیادہ پیشاب کے لیے کام چھوڑنا قواعد کے خلاف تھا۔ بچوں کو ایک دفعہ سے زیادہ دودھ پلانے کی اجازت نہ تھی۔ مادریت کے پھلنے پھولنے یا پیدائش کی شرح کا کسی کو خیال نہ تھا اور نہ حکومت کی طرف سے کوئی آسائش مہیّا تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بلکتے ہوئے بچے بھُوک سے نڈھال ہو کر مرجائیں گے۔

جمعدار رام اوتار کی مدد سے میں پگڈنڈی پر پڑی ہوئی روڑی کو ناپنے لگا۔ روڑی ساڑھے تین فٹ چوڑی، آٹھ فٹ لمبی اور ایک فٹ اونچی تھی اور میرے انداز ے کے مطابق ایک بڑے سے بیضوی گڑھے کے لیے کافی تھی۔ اس وقت میں نے ماتادین کو اپنے ساتھیوں سے علاحدہ ہو کر سستانے کی خاطر بیٹھتے دیکھا۔ ماتادین ایک ادھیڑ عمر کا پوربی مزدور تھا۔ ذات اس کی کوری تھی۔ جسم کے لحاظ سے وہ باقی مزدوروں سے کہیں اچھا تھا۔ دھوپ میں ماتادین کا پسینہ سے شرابور سیاہ رنگت کا عریاں تنومند جسم، ایک بڑے کانسی کے مجسمے کی مانند دکھائی دیتا تھا۔

ماتادین کو اس حالت میں دیکھ کر میں نے ٹیپ کو جمعدار رام اوتار کے حوالہ کیا، اور روڈاپ کو پھلانگ کر ماتادین کے پاس جا پہنچا اور بلند آواز سے چیخا۔ ’’ہے۔ ماتادین۔‘‘

ماتادین گھبرا کر اٹھ بیٹھا، اور اپنی خمار آلود نگاہیں مجھ پر ڈالتے ہوئے بولا۔ ’’مالک!‘‘

’’ہاں! مالک۔ آرام کر رہے تھے نا؟ شاید تم عرفانی کے مزاج سے اچھی طرح واقف نہیں ہوئے۔‘‘

’’رات بھر جاگتا رہا ہوں۔ اس لیے ذرا۔‘‘

’’یہ کوئی وجہ نہیں۔‘‘

ماتادین ایک مہیب انداز سے مسکرا کر اپنے کام میں مشغول ہو گیا، اس کے بد شکل چہرے میں مسوڑھے پھُول کر بڑے بڑے گھناؤنے دانتوں کو گویا چھوڑ رہے تھے۔ وہ روڑی کوٹتے ہوئے بولا۔

’’کام چور نہیں ہوں مالک۔ آپ جانتے ہیں میں تو دو ٹکیوں میں کام کیے جاتا ہوں مگر۔۔۔‘‘

ماتادین ایک ایماندار مزدور تھا۔ وہ باقی مزدوروں سے زیادہ ذہین تھا۔ اسے دوبارہ بات سمجھانے کی ضرورت کبھی نہیں پیش آئی تھی۔ صبح جب اسی سڑک پر سورج کی پہلی ٹکیہ مشرق کی طرف نرسری کے چھوٹے چھوٹے درختوں کے پیچھے سے نمودار ہوتی، اس وقت سے لے کر شام تک جب کہ دوسری ٹکیہ مغرب کی طرف شہر کے مکانوں کے بے ربط منڈیروں کی طلائی مغزی ادھیڑتے ہوئے ڈوب جاتی، وہ دو ٹکیوں میں برابر کام کیے جاتا۔ اسی اثنا میں گرد و غبار سے سینہ صاف کرنے کے لیے ماتادین کوڑی بھر پشاوری گڑ کھاتا اور چھپ کر ایک آدھ گڑ گڑی کا کش لگاتا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی اسے دم لیتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

عرفانی نظر سے اوجھل کھڑا تھا۔ اپنی ذمہ داری کا احساس دلانے کے بعد میں نے ماتادین سے پوچھا۔

’’عرصہ سے من بھری ان عورتوں میں دکھائی نہیں دیتی۔ اچھی تو ہے نا؟‘‘

’’اجی کہاں اچھی ہے‘‘ ماتادین بولا ’’اسی کے لیے تو رات کو جاگنا پڑتا ہے اور دن کو میری یہ دشا ہوتی ہے۔‘‘

مجھے ایک مخدوش سے قطعۂ زمین کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سڑک کے ایک دم مغرب کی طرف مڑ جانے کی وجہ سے انجن کے پہیّے پہنچنے سے قاصر تھے۔ مگر میری توجہ کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے ماتادین بولا۔

’’مالک۔ اسے بیری بیری ہو گئی ہے۔ شاید مجھے یہ نوکری چھوڑنی پڑے۔‘‘

’’بیری بیری‘‘؟ میں نے اپنے شانو کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔‘‘ میں نہیں جانتا بیری بیری کیا ہوتی ہے؟‘‘

ماتادین بولا۔ ’’آپ بیری بیری بھی نہیں جانتے۔آپ سے پڑھے لکھے آدمی نہ جانیں گے تو اور کون جانے گا؟‘‘

اور ایک مستعا ر سی مسکراہٹ ماتادین کے چہرے پر لڑھکنے لگی۔ اس نے اپنی پھٹی ہوئی دھوتی کے ایک پلّے کو کمر سے نکالا اور کپڑے کی کئی تہوں میں سے کاغذ کے ایک خستہ ٹکڑے کو برآمد کرتے ہوئے میرے ہاتھ میں دے دیا۔ وہ لال جی بھارتی جی خیراتی ہسپتال کی تشخیصی پرچی تھی۔ مرض کا نام بیری بیری لکھا تھا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ پٹھوں میں ورم ہو جانے کو بیری بیری کہتے ہیں، اور یہ مرض خوراک میں حیاتین ’ب‘ کے کافی مقدار میں موجود نہ ہونے کا لازمی نتیجہ ہے۔

’’تو کیا من بھری کے پٹھوں میں ورم ہو چکے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

ماتادین نے انگوٹھے اور انگلی سے ایک بڑے سے سوراخ کی شکل پیدا کرتے ہوئے کہا۔ ’’اتے بڑے۔ سرکار۔‘‘

میرے جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔

ماتادین کہنے لگا۔ ’’اسے کھوراک اچھی نہیں ملتی۔ڈاک ٹرکی رپٹ دیکھی ہے نا آپ نے؟ اس نے گول مانس، انڈے، مکھن اور پنیر کھلانے کے لیے کہا ہے۔‘‘

اس وقت میں سوچنے لگا۔ بھلا روکھی سُوکھی دال چپاتی میں سے من بھری کیوں کر حیاتین ’ب‘ اخذ کرسکتی ہے۔ اگرچہ کوری، کرمی اور نیچ ذات کے پوربی لوگ گوشت کھا لیتے ہیں، مگر ماتادین پٹھوں کا نرم نرم گوشت، انڈے، مکھن، پنیر، ٹماٹر اور اس قسم کی امیرانہ خوراک کہاں سے مہیّا کرے گا۔ جہاں تک میرا خیال تھا، اس نے تو عرصہ سے سبزی بھی استعمال نہ کی تھی اور اپنے گاؤں سے کسی بھائی بند کے ہاتھ مسور کی دال منگوا رکھی تھی، جسے وہ صبح و شام کھاتا تھا۔ تبھی تو اسے دانتوں کی سکروی (SCURVY) تھی۔ سکروی، خوراک میں حیاتین ’ج‘ کے مفقود ہونے کا نتیجہ ہے۔ اس کے مسوڑھے بہت زیادہ پھول کر ٹیڑھے میڑھے دانتوں کو چھوڑ رہے تھے۔ میں نے کہا۔ ’’خواہ کسی ماتادین یا گنگادین کی جورو من بھری سے زیادہ خوبصورت ہو اور کوئی اس کے لیے ماتادین سے زیادہ جفاکشی کرے، مکھن، پنیر کی سی خوراک مہیّا نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد میں اس ڈاکٹر کی حماقت پر ہنسنے لگا جس نے بیری بیری کا نام ماتادین کے ذہن نشین کرا دیا تھا اور اس قسم کی خوراک بطورِ علاج لکھ دی تھی۔ ماتادین کے بیان کے مطابق ڈاکٹر کا اپنا رنگ ’سنگرپھی‘ (شنگرفی) ہو رہا تھا۔ کوئی جانے کھُون پھٹ کر باہر آ جائے گا۔ ڈاکٹر نے ماتادین کو وہ دوائی کی بوتل بھی دکھائی تھی، جس میں حیاتین ’ب‘ کا جزو کافی مقدار میں موجود تھا۔

یکایک مجھے یاد آیا، ماتادین کام چھوڑنے کے متعلق کہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا، ’’تم یہاں سے کام چھوڑ دو گے۔کہاں جاؤ گے ماتادین؟‘‘

’’چھاؤنی میں مالک۔ وہاں ڈنڈی دار کے پاس مُلاجم ہو جاؤں گا۔ ڈنڈی دار تمھاری طرح مہربان ہے۔‘‘

پھر ماتادین نے بتایا کہ ایجرٹن اور ایبٹ روڈ کی مرمت سے پہلے جب کہ لاٹ صاحب کا دفتر بن رہا تھا، وہاں ماتادین اور من بھری کام کر رہے تھے۔ ڈنڈی دار ادھر آ نکلا۔ دھوپ میں بیٹھی ہوئی من بھری کو دیکھ کر ماتادین سے بولا۔ ’’اس بے چاری کو کیوں تکلیف دیتے ہو، میرے ساتھ چھاؤنی چلو، اسٹور میں بہت سے قلی چاہئیں۔ تمھیں رکھ لیں گے۔ پیسے اچھّے مل جائیں گے۔‘‘

پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا، ’’اس نے خوراک دینے کا بھی وعدہ کیا مالک۔اسٹور میں کام کرنے والے ڈنڈی دار آنکھ بچا کر وہاں سے بہت کچھ اڑا سکتے ہیں۔ میس (MESS) میں سے پنیر، انڈے وغیرہ بھی لے سکتے ہیں۔ کم ازکم راشن میں سے تو کچھ نہ کچھ ان کے پلّے پڑہی جاتا ہے۔‘‘

میں نے سوچا، شاید ماتادین کو وہاں سے حیاتین ’ج‘ بھی مل سکیں اور اس کی سکروی بھی دور ہو جائے۔ میس میں کاہو، گوبھی، کرم کلا، شلجم، رام ترئی سبھی کچھ تو آتا ہے۔

ایک محنتی مزدور کو کھو دینے پر ضرور رنج ہوتا ہے۔ مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ ماتادین کو کسی صورت بھی اس کے ارادہ سے باز رکھوں۔ کون جانے من بھری کی بیری بیری کا علاج ہو جائے اور پھر وہ بھی ’’سنگرپھی‘‘ ہو جائے۔

چند دنوں بعد میں عرفانی کا معتبر ملازم ہو گیا۔

ایک پرانے قبرستان میں ہمارے بزرگوں کی ہڈیوں اور ایک مسمار سی گڑھی کے کھنڈروں میں سے ایک سرکاری عمارت آہستہ آہستہ سر اٹھانے لگی۔ میرے ہاتھ میں وہی پرانا ٹیپ تھا۔ بسااوقات مجھے بنیادوں کے اندر گھس کر کھدائی کی پیمائش کرنی ہوتی اور کبھی کندہ کاروں اور سنگ تراشوں کے کام کا جائزہ لینا ہوتا۔

عرفانی نے تمام بچّوں والی عورتوں کو کام سے علاحدہ کر دیا تھا۔ جو عورتیں ملازم رکھی گئی تھیں، وہ پیسے کم لے کر مردوں کے برابر کام کرتی تھیں۔

جب سرکاری تعمیر کی چھت پر لنٹل ڈالنا پڑا، تو چند ایک مزید مزدوروں کی ضرورت لاحق ہوئی۔ یہ کام عرفانی نے میرے سپرد کیا۔ مجھے چند محنتی اور ایماندار مزدوروں کی ضرورت تھی۔ میں نے جمعدار رام اوتار سے ماتادین کا پتہ پوچھا۔ کانے جمعدار نے مشکوک نگاہوں یا نگاہ سے میری طرف دیکھا اور پھر ہنستے ہوئے ماتادین کا پتہ بتا دیا اور میں اس کی تلاش میں چھاؤنی جا پہنچا۔

شام کا وقت تھا۔ صدر بازار کی بجلیاں ابھی روشن نہ ہوئی تھیں۔ ایک گہرا دھواں مزدوروں کی گنجان بستی لال کُرتی اور فالور لائینز پر چھایا ہوا تھا اور وقت سے پہلے تیرگی پیدا کر رہا تھا۔ بڑی دِقت کے بعد مجھے ماتادین کی جھونپڑی ملی۔ ایک بیٹھے ہوئے چھپر کے دروازے پر ٹاٹ کا پردہ پڑا تھا اور جھونپڑی میں ماتادین گڑ گڑی سلگا تمباکو پی رہا تھا۔ ایک خاص قسم کی بُو سب طرف پھیلی ہوئی تھی۔ ماتادین کے قریب، ایک رکابی میں کوڑی بھر مکھن پڑا تھا۔ ایلومینم کی ایک تھالی میں ایک بڑا سا گوبھی کا پھُول رکھا تھا اور پھول میں سے ایک سنڈی کچھ چپ چپا، لسلسا سا لعاب اپنے پیچھے چھوڑتی ہوئی تھالی کے کنارے کنارے رینگ رہی تھی۔

حیاتین ’ج‘ سے تہی ایک مسکراہٹ ماتادین کے ٹیڑھے میڑھے دانتوں اور پھُولے ہوئے مسوڑھوں کو دکھانے لگی۔ عین اس وقت جھونپڑی کے اندر سے کراہنے کی آواز آئی۔

میں نے جھونپڑی کے اندر ایک تاریک سے کمرے میں جھانکا۔ اس کمرے میں من بھری پڑی تھی۔ وہاں ہوا اور روشنی کی پہنچ نہ تھی۔ میں نے کہا، مہربان ڈنڈی دار کی مہربانی سے من بھری کو خوراک تو اچھی مل جاتی ہے۔ ممکن ہے اسے بیری بیری سے نجات حاصل ہو جائے تو بھی اس قسم کی فضا میں ضرور وہ کسی اور خوفناک بیماری کا شکار ہو جائے گی۔ دنیا میں خوراک ہی سب کچھ نہیں ،روشنی بھی تو ہے۔ کھلی ہوا ہے۔ اور دق ہے۔

یک لخت روشنی سے اندھیرے میں چلے جانے پر مجھے کچھ دکھائی نہ دیا۔ پھر آہستہ آہستہ من بھری کا سہما ہوا چہرہ اور مسلوب جسم نظر آنے لگا۔ اپنے کتابی اور سنگِ یشب کی طرح زرد چہرے کے ساتھ من بھری ہوبہو اس مصری لاش کی مانند دکھائی دیتی تھی، جس پر ابھی ابھی حنوطی عمل کیا گیا ہو، اور جسے نسلوں تک محفوظ رکھے جانے کے لیے ممی میں اتارا جانا ہو۔

ماتادین نے گڑ گڑی کا ایک لمبا کش لگایا اور برتن میں سے سنڈی نکال کر باہر پھینک دی۔ گوبھی کو چیرا، اور مصالحہ بھونتے ہوئے اسے تسلے میں ڈال دیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی جورو کے بیمار ہونے کی وجہ سے ڈنڈی دار اسے بہت کم کام دیتا ہے، تمام قلی، افسروں کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، مگر اسے افسروں کے نزدیک جانے کا کام ہی نہیں دیا جاتا۔ اسٹور کیپر، ڈنڈی دار کا سگا ماموں ہے۔ راشن میں سے سب کچھ مل جاتا ہے۔ آخر ڈنڈی دار کتنا اچھا آدمی ہے۔ ایسے چند آدمیوں کے سہارے ہی تو دنیا جیتی ہے۔

پھر میرے قریب آتے ہوئے ماتادین بولا، ’’ایک کھُسی کی خبر سناؤں مالک؟‘‘ اور پھر میرے کان کے قریب منھ لاکر بولا۔ ’’وہ امید سے ہے۔‘‘

ماتادین کے بیان کے مطابق ساڑھے تیرہ برس بیاہ کو آئے تھے اور اس وقت تک اولاد کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ میری دانست میں تو یہ ماتادین کی خوش قسمتی تھی۔ غریب طبقہ کے لوگ عموماً کثرتِ اولاد سے نالاں ہوتے ہیں۔ ان کے لیے تو ایک بچہ بھی بوجھ ہو سکتا ہے، مگر ماتادین خوش تھا۔ میں نے سوچا شاید من بھری پہلے سے بھی زیادہ بیمار ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کی کچھ بیماریاں قدرتی طور پر دور ہو جائیں۔ بہر صورت من بھری کے عرصہ تک بیمار رہنے یا زچگی میں ماتادین کو اکیلے ہی گھر کا جُوا اٹھانا پڑے گا۔علاوہ اس کے خرچ بھی دوگنا ہو جائے گا۔

ماتادین کی اس عجیب و غریب زندگی میں کھوکر میں اپنے کام کو بھی بھول گیا۔ میں نے کہا، ڈنڈی دار کی مہربانی سے ان لوگوں کو حیاتین ’ب‘ اور ’ج‘ دونوں مل جاتے ہیں۔ ان کی خوشی۔بچے کی امید بھی شاید حیاتین ’ب‘ کا کرشمہ ہے اور بچے کو بھی اس کے مقدر کا سب کچھ مل جائے گا۔ اب وہ عرفانی کی مزدوری نہیں کرے گا۔ اسے پروا ہی کیا ہے۔ میں نے اس کے سامنے مزدوری کا تذکرہ ہی نہ کیا۔ گویا میں اسے یوں ہی دیکھنے آیا تھا۔

عرفانی کا مال و اسباب شہر میں لے جانے کے لیے چھکڑوں میں سے دو ایک بیل زخمی تھے، پھر بھی ان سے برابر کام لیا جا رہا تھا۔ انجمن تحفظ جانوراں کے ایک افسر نے گاڑی بانوں کا چالان کر دیا۔ اس قضیہ کو نمٹانے کا کام بھی میرے سپرد کیا گیا اور میں انجمن کے ایک افسر کو رشوت دینے میں مصروف تھا۔

ایک طرف سے ماتادین ہانپتا ہوا آ نکلا۔ وہ بہ مشکل پہچانا جاتا تھا۔ اس چند ماہ کے عرصہ میں اس کی شکل یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ اس کے دانت زیادہ گھناؤنے ہو گئے تھے اور اپنے سامنے کھڑے ہوئے آدمی کا چہرہ اچھی طرح دیکھنے کے لیے وہ بار بار آنکھیں جھپکاتا تھا۔ پہلے تو وہ چند لمحات مجھے غور سے دیکھتا رہا، پھر میری آواز کو پہچان کر بولا، ’’مالک!رام اوتار کے کہنے پر یہاں آیا ہوں۔وہ کہتا تھا، آپ کو مجوری چاہیے۔ میرا چھوٹا بھائی آپ کے پاس کام کر ہی رہا ہے۔ مجھے بھی رکھ لو۔‘‘

میں اپنی جگہ پر سے اچھل پڑا۔ بھلا دو ٹکیوں میں کام کیے جانے والے ماتادین کو کون مزدور نہ رکھے گا۔ لیکن میں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

’’کیا ڈنڈی دار کا راشن ختم ہو گیا ہے؟‘‘

ماتادین کچھ نہ بولا۔

’’کیا تمھیں خوراک نہیں ملتی اب؟‘‘ میں نے دوسرا سوال کیا۔

ماتادین آنکھیں جھپکتا ہوا انجمن تحفظِ جانوراں کے افسر کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ افسر جان گیا کہ یہ مزدور کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر اس کی موجودگی نہیں چاہتا۔ وہ خود بخود وہاں سے ہٹ گیا اور ایک کچی دیوار کے ساتھ ساتھ ٹہلنے لگا۔ ماتادین بولا۔

’’کیا کہوں مالک! ڈنڈی دار نے تو ہماری جندگی برباد کر دی۔ کسی کی سکل سے کوئی کیا جانے۔ بڑا بدماس تھا۔ جب مجھے کام کرتے ہوئے چند روز ہو گئے تو کہنے لگا قلیوں نے اسٹورکیپر کو شکایت کر دی ہے، پھر بھی میں تمھیں تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔ تمھیں سب کچھ گھر پہنچا دیا کروں گا۔ دو تین دفعہ گھر پہنچا، تو وہ مجھ سے پہلے وہاں موجود تھا۔‘‘

’’اور من بھری کہاں تھی‘‘؟ میں نے دم روکتے ہوئے کہا۔

’’وہ بھی اندر تھی۔ سیدھی سادھی عورت۔جھانسے میں آ گئی۔ سرکار ہم اجت والے آدمی ہیں۔ جب میں نے کھری کھری سنائیں تو ڈنڈی دار نے کھوراک دینی بند کر دی، اور دوسروں سے تگنا کام لینے لگا۔ اپھسر جھڑکنے لگے۔ قلی تنگ کرنے لگے۔ میں نے اس کی مجوری چھوڑ دی اور گودام میں کام کرنے لگا۔‘‘

پھر ماتادین نے اپنا شانہ برہنہ کیا۔ اس پر ایک بڑے سے زخم میں چربی دکھائی دے رہی تھی۔ ماتادین نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’یہ بعد میں میس کی بوریاں اٹھانے سے ہوا۔ میری جان ہی تو نکل جاتی اگر میں وہاں سے ملاجمت نہ چھوڑتا۔میں نے بدنامی بھی سہی مالک۔لوگ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔‘‘

انجمن تحفظِ جانوراں کا انسپکٹر قریب آچکا تھا۔ میں نے پانچ کا ایک نوٹ اس کی مُٹھی میں دیا۔ وہ بہت خوش ہوا۔ تمام کام ٹھیک ٹھاک کر دینے کا وعدہ دیا۔ اس وقت مجھے من بھری کے ہونے والے بچے اور اس کے مستقبل کے سوا اور کچھ نہ سوجھتا تھا۔ ماتادین کا برہنہ شانہ اب بھی میرے سامنے تھا۔ میں نے انجمن تحفظِ جانوراں کے انسپکٹر کو ماتادین کا شانہ دکھاتے ہوئے پوچھا۔’’کیا آپ کا محکمہ ایسے ظلم کا انسداد نہیں کرتا؟‘‘ انسپکٹر صاحب نے جیب میں پانچ کا نوٹ ٹٹولتے، اور اپنے پالش کیے ہوئے بوٹوں پر چھڑی مارتے ہوئے کہا۔ ’’چودھری صاحب قبلہ۔ وہ تو صرف جانوروں کے لیے ہے‘‘ اور میں نے ماتادین کو مزدور رکھ لیا۔

سڑکوں اور عمارتوں کے چیف انجینئر نے عرفانی کی بنائی ہوئی ایجرٹن روڈ ناقص قرار دی۔ چیف انجینئر کے ساتھ رشوت نہ چل سکی اور ایک دفعہ پھر ایجرٹن روڈ پر ’روڈاپ‘ کے بورڈ رکھ دیے گئے۔

پھر نرسری میں چند ایک چھوکرے سڑک پر سے کنکر اٹھا اٹھا کر اور انھیں ہوا میں چھوڑتے ہوئے دکھائی دینے لگے۔ وہ گوپھیے کو چھوڑتے ہوئے اونچی آواز سے اللہ اکبر پکارتے سنائی دیتے تھے۔ماتادین کا چھوٹا بھائی منیسر کام کرنے کے بعد دو ایک کولتار کے خالی ٹینوں کے پیچھے پڑ کر سستانے لگا۔ روڈاپ کو پھلانگتے ہوئے میں اس کے پاس پہنچا۔ میں نے چلاّتے ہوئے کہا۔ ’’ہے۔منیسر۔‘‘

منیسر گھبرا کر بولا۔ ’’مالک!‘‘

’’ہاں۔ مالک!‘‘ میں نے کہا۔ ’’سستارہے تھے نا؟ اور ماتادین کہاں ہے؟ اس کی چار دن سے غیر حاضری لگ رہی ہے۔‘‘

منیسر نے دبی آواز سے کہا۔ ’’ماتادین حوالات میں ہے سرکار۔‘‘

میں اپنی جگہ پر سے اچھل پڑا۔ ’’حوالات میں؟‘‘

منیسر نے بتایا کہ ماتادین نے ایک ڈاکٹر کے ہاں چوری کی اور بھاوج کو ایک سفید دوائی پلائی۔ بعد میں پکڑا گیا۔ پولِس آئی تو ڈبہ گھر میں ملا۔ بھاوج اس میں سے آدھی دوائی کھا چکی تھی۔ میں سب کچھ سمجھ گیا۔ میں نے گھوم کر کام کرتی ہوئی عورتوں کی طرف دیکھا۔ مجھے وہ سب کی سب بیمار دکھائی دینے لگیں۔ گویا انھیں بڑے بڑے ورم ہو رہے ہوں۔ میرے تصور میں من بھری کا سنگِ یشب کی طرح زرد چہرہ ظاہر ہو گیا۔ مجھے ماتادین سے بہت دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ میں حوالات میں گیا، تو دیکھا کہ ماتادین مسکرارہا تھا اور اس کی مسکراہٹ مستعار نہ تھی۔ اسے اپنی قید کی رتّی بھر بھی پروا نہ تھی۔ وہ خوش تھا کہ اس کے ورم درست ہو جائیں گے۔ وہ خوش تھا کہ منیسر کے ہاں وہ آرام سے رہ کر ایک تندرست بچّہ کو جنم دے گی۔مگر ماتادین کیا جانے کہ شدّتِ غم سے من بھری کا حمل گِر چکا ہے۔ وہ منیسر کے بازوؤں میں زندگی کے آخری سانس لے رہی ہے اور خون سے منیسر کی جھونپڑی کی تمام زمین شنگرفی ہو رہی ہے۔

راجندر سنگھ بیدی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از منزّہ سیّد